Sunday, April 05, 2026
 

ایران کے امریکی اور اسرائیل اہداف پرحملے، اہم کمانڈرز کے ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ

 



ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 97 لہر شروع کردی گئی ہے، جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں قائم اہم امریکی بیسز اور اسرائیلی اہداف کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے بتایا کہ اتوار کو دوپہر آپریشن وعدہ صادق 4 کی 97ویں لہر شروع کردی گئی اور نشانہ بنائے گئے اہم اہداف میں کویت میں محمد الاحمد نیول بیس کے قریب ایک مقام پر امریکی کمانڈروں اور افسران کے زیرِ استعمال ایک ٹھکانہ بھی شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس مقام کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز کے ذریعے انتہائی درست نشانہ لگاکر تباہ کر دیا گیا، جہاں ایمبولینسوں کی بڑی تعداد اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ دشمن افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ یہ حملہ ہفتے کو متحدہ عرب امارات میں امریکی کمانڈ سینٹر اور تربیتی مرکز پر کیے گئے حملے کے بعد ہوا اور اب تک 25 افراد کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی رپورٹ ہے۔ پاسداران انقلاب نے بتایا کہ ایک اسرائیلی جہاز کو متحدہ عرب امارات میں جبل علی بندرگاہ کی گزرگاہ میں بحری قادر کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی بحری افواج نے ہفتے سے آبنائے ہرمز میں کئی جہازوں کی آمد و رفت روک رکھی ہے، ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے انہیں آبی گزرگاہ کے مغربی اور مشرقی مقامات کی طرف بھیج دیا گیا۔ پاسداران انقلاب بحری فورس نے بتایا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں موجود آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو میرین ریڈیو کے بین الاقوامی چینل 16 کے ذریعے ایرانی بحریہ کے کسی ایک اسٹیشن سے رابطہ کرنا ہوگا جبکہ جہازوں کے عملے کو خبردار بھی کیا گیا ہے کہ وہ جھوٹی خبروں پر توجہ دے کر اپنی سلامتی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ یاد رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت پر پابندیاں عائد کر دی ہے۔ پاسداران انقلاب نے بتایا کہ ایرو اسپیس فورس نے بیئرشیبہ میں اسرائیلی فوج کے  ایک صنعتی زون کو بھی نشانہ بنایا ہے اور واضح کیا کہ یہ کارروائی صہیونی ظالم حکومت کی ایرانی قوم کے خلاف مظالم کے جواب میں کیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل