Loading
بارشوں کے تازہ ترین لہر، پہلے سے کاشت شدہ کپاس کی فصل متاثر ہونے، خلیج جنگ کے باعث بیرون ملک سے روئی کی درآمدی سرگرمیوں کی معطلی کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹس میں گزشتہ ہفتے فی من روئی 20ہزار روپے کے ساتھ کاٹن ایئر 2025-26 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
رواں ہفتے روئی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں ،تاہم چین میں جاری پاک افغان مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں افغانستان سے روئی کی درآمد بحال ہونے سے قیمتوں میں کمی بھی متوقع ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس سے قبل فروری کے وسط میں درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے سندھ کے ساحلی علاقوں میں کپاس کی بوائی کا بڑی تیزی سے آغاز ہوتے ہی تصور کیا جارہا تھا کہ رواں سال پاکستان میں کپاس کی بوائی پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہوگی، ساتھ ہی امریکا اور برازیل سے روئی کی بڑھتی ہوئی درآمدی سرگرمیوں سے مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت گھٹ کر 16ہزار 500روپے کی سطح پر آگئی تھیں۔
بعدازاں بیشتر کاٹن زونز میں بارشوں کے باعث کپاس کی بوائی اور خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمد معطل ہونے سے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کا رحجان سامنے آیا، جس سے فی من روئی کی قیمت دو سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی جس میں مزید تیزی کے امکانات بھی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چین میں جاری پاک افغان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات ہیں جس سے پاک افغان بارڈر کھلنے سے افغانستان سے روئی کی درآمدات بحال ہوسکتی ہے اور اسکے نتیجے میں روئی کی قیمت میں کمی بھی ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے روئی کی ڈھائی سے تین لاکھ گانٹھوں تک پاکستان آسکتی ہیں جس سے کاٹن مارکیٹ میں نئے رحجانات بھی سامنے آنے کے خدشات ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل