Loading
حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قومی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 137روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں پٹرول پر لیوی میں 80 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی نئی قیمت 378 فی لیٹر مقرر کردی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کمی محض ایک ماہ کے لیے کی گئی ہے۔ ایک ماہ کے بعد عوام کو پٹرول 458 روپے فی لیٹر ہی خریدنا پڑے گا جب کہ ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ملے گا۔
وزیراعظم نے گڈ زٹرانسپورٹرز کے کرایوں میں بھی 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت عوام کو کسی قسم کی کوئی سبسڈی دینے سے قاصر ہے لہٰذا ٹارگٹڈ سبسڈی یعنی’’ہدفی مالی اعانت‘‘ کے نام پر کچھ اشک شوئی کرتے ہوئے عوام کو طفل تسلیاں بھی دی گئی ہیں، جیسے موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر 100روپے لیٹر کی مالی اعانت دی گئی ہے لیکن اس کے حصول کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ رکھا گیا ہے کہ جس کی تکمیل میں ہی ہفتوں گزرجائیں گے۔
چار و ناچار موٹر سائیکل سواروں کو ہر صورت مہنگا پٹرول ہی خریدنا پڑے گا اسی طرح انٹرسٹی بسوں کو بھی فی لیٹر 100روپے کی مالی اعانت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو70ہزار روپے کا مالی تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے اپنے صوبوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب اور اسلام آباد پبلک ٹرانسپورٹ کو عوام کے لیے فری کردیاگیا، لیکن سوال یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ تو شہروں تک محدود ہے جب کہ پنجاب میں آبادی کا بڑا حصہ گاؤں و دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے جہاں وہ موٹر سائیکلوں اور پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں وہ بیچارے اس سہولت سے کیسے مستفید ہوں گے؟ وزیراعلیٰ سندھ نے 67 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کے مالکان کو ماہانہ 2 ہزار روپے اور چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 1500روپے دینے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آرہے ہیں، قومی وسائل محدود ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی نے دنیا کی طاقت اور معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ عام آدمی کس طرح زندگی بسر کررہا ہے۔ ہم عوام کی زندگی کی معمول پر آنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ امریکا ایران جنگ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوش رہا اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا بھر کی عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی جارہی ہے اور مضبوط معیشتوں کو بھی بڑے جھٹکے لگ رہے ہیں۔ اس کے باوجود دیگر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پاکستان کی طرح ہوش ربا اضافہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی وہاں مہنگائی و گرانی کا طوفان برپا ہوا۔ پڑوسی ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں پٹرولیم مصنوعات قیمتیں آج بھی پاکستان کے مقابلے میں کم سطح پر ہیں۔ مبصرین ماہرین و تجزیہ نگار تیل کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے کو حکومت کی ناقص پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
حکومت پٹرولیم مصنوعات پر مختلف النوع کے ٹیکسوں اورلیوں کی مد میں اربوں روپے منافع وصول کرتی ہے جو عوام کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔ حکومت بڑے دھرلے سے ایک طرف یہ دعویٰ کرتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کریں گے بلکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے ذریعے حکومت یہ بوجھ خود برداشت کرے گی لیکن دوسری جانب معصومانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہے جس سے نقل و حمل اور پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں نتیجتاً اشیائے زندگی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوجاتا ہے اور مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیتا ہے۔
ادھر حکمرانوں کے اللے تللے اسی طرح سے جاری ہیں۔ کفایت شعاری کے نام نہاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ آج بھی وزیراعظم سمیت وزرائے کابینہ کے کانوائے درجنوں گاڑیوں میں گزرتے ہیں جو پیٹرولیم کا غیر ضروری استعمال ہے۔ سرکاری ملازمین کو مفت بجلی، گیس اور پٹرول کی ماہانہ بنیادوں پر فراہمی غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادائیگی حکمرانوں کے عوام پر ظلم و استبداد کی علامت ہے۔ کروڑوں عوام پہلے ہی خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے سے مہنگائی کی طوفانی لہر انھیں مفلسی کی پاتال میں پہنچا دے گی۔ کراچی تا خیبر عوام سراپا احتجاج ہیں اور حالیہ اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آج کی اپوزیشن کی کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں۔ اس کا انجام بھلا کیا رنگ لائے گا؟ حکومت بودے اقدامات اور ناقص فیصلوں سے عوام میں اپنی مقبولیت کھورہی ہے۔ عالمی حالات اپنی جگہ لیکن مشکل حالات میں طبقہ اشرافیہ کو بوجھ برداشت کرنا چاہیے نہ کہ عوام کو جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اب ان پر پٹرول بم گراکر انھیں بے دم کردیاگیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل