Sunday, April 05, 2026
 

ایران جنگ اور ملکی نقصان

 



اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے ایک مہینے میں عرب ملکوں کو 186ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ یہ نقصان ائیر لائن یا رئیل اسٹیٹ کا نہیں ، نہ ہوٹلنگ کا ہے اور نہ سرمایہ کاری کا ہے یہ تمام نقصانات بھی سیکڑوں ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ نقصان عرب ممالک کے توانائی اثاثوں کا ہے ۔ اور انھیں اس نقصان کو پورا کرنے میں دس سال لگ جائیں گے اور ایران کو بھی سنبھالنے میں کافی عرصہ لگے گا۔ اس جنگ کے نتیجے میں عرب ملکوں میں 37لاکھ لوگ بیروزگار ہونے والے ہیں ۔ ذرا سوچیں پاکستان کی افراد ی قوت بھی کئی ملین کی تعداد میں عرب ملکوں میں موجود ہے ۔ ذرا سوچیں اگر ان عرب ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی واپس آگئے تو ان کا کیا بنے گا۔ ایک طرف بیروزگاری میں اضافہ ہو گا دوسری طرف غربت اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ 40لاکھ لوگ عرب ملکوں کے اس جنگ کے نتیجے میں غریب ہونے والے ہیں۔ جب کہ امریکا اور اسرائیل کا روزانہ جنگی خرچہ پونے چار ارب ڈالر ہے ۔ جنگ کے نقصانات وسیع پیمانے پر ہوئے ہیں، ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جنگ جاری رہنے کی صورت میں ۔ عرب ممالک کی مجموعی پیداوار میں 6فیصد کمی آچکی ہے ۔ 12ملین بیرل تیل روزانہ ضایع ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ بدترین صورت حال ہے ۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایران نے پہلے خطے کی جنگ بنا دیا ، پھر دنیا کی جنگ بنا دیا ۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کے اب ایران اگر ڈٹا رہتا ہے تو آخر کار امریکا میں رجیم چینج ہوگا ۔ امریکا بھر میں 70لاکھ لوگوں کی تعداد نے 3200مقامات پر احتجاج کیا ۔ ایران کے خلاف اس ننگی جارحیت کو 35دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ صاحب کا خطاب جو 20منٹ کا تھا لیکن اس خطاب میں کچھ بھی نہ تھا۔ دنیا کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے خطاب میں جنگ بندی کا اعلان کردیں گے اس وقت امریکی صدر پر امریکی عوام بھی اعتبار نہیں کرتے ۔ ایران میں امریکا اور اسرائیل نے 12000سے زائد جنگی حملے کیے اس میں 2000سے 5000پاؤنڈ وزنی بم برسائے گئے ۔ اس کے باوجود ایران ڈٹا ہوا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایران کی آزادی ، خود مختاری اور بقاء کی جنگ ہے ۔ ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے کہ ہماری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ۔ کیونکہ ہم پر حملے ہو رہے ہیں اس لیے ہم بھی اپنے دفاع میں جوابی حملے کر رہے ہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایک دن میں اوسطاً 14/15بار جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک چشم دید گواہ کے مطابق جب خامنائی شہید ہوئے تو اس نے بتایا کہ صبح کے سوا نو بجے تھے کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا یہ اتنا شدید تھا کہ میں سوتے ہوئے اپنے بیڈ سے دو فٹ اوپر اُچھل گیا، گھر لرز رہا تھا سوتے ہوئے اچھلا اور زمین پر بچھے قالین پر گر گیا۔روس نے آیت اﷲ خامنائی کو پیشکش کی کہ وہ اپنی جان کے تحفظ کے لیے روس چلے آئیں لیکن آیت اﷲ خامنائی نے صاف انکار کردیا کہ میں اپنے عوام کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤنگا۔ خامنائی پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے یہی حال امام خمینی کا تھا اور موجودہ مجتبی خامنائی بھی پاکستان کی محبت میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ آیت اﷲ خامنائی جب ایران کے صدر بنے تو وہ پاکستان کے دورے پر آئے جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال ہوا شالیمار باغ میں اپنی تقریر میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں محمد علی جناح کا مداح ہوں اور اقبال لاہوری کا مرید ہوں ۔ اور میں لاہور شہر کو اقبال کی وجہ سے جانتا ہوں ۔ آیت اﷲ خامنائی کو اقبال کے 2000اشعار زبانی یاد تھے ۔ وہ علامہ اقبال کو اپنا مرشد کہتے تھے ۔تہران یونیورسٹی کے فردوسی ہال میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے اور آج کے تہران کو دیکھتے تو ایران کو دیکھ کر فخر کرتے کہ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے ۔ یہ ملت اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔ امام خمینی نے جب سلمان رشدی کے خلاف فتوی دیا تو ایرانی علماء ان کے پاس آئے اور کہا کہ اس فتوی کو واپس لیں ۔ تو انھوں نے سوال کیا کیوں ؟انھوں نے کہا کہ اگر آپ فتوی واپس نہیں لیں گے تو اقوام متحدہ اورامریکا ہمارے خلاف ہو جائیں گے ۔ معاشی پابندیاں لگ جائیں گی اور ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ تو اس موقعہ پر ایرانی علماء سے امام خمینی نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ایران کو بچانے کے لیے ہم نے یہ انقلاب برپا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے اسلام کو بچانے کے لیے یہ انقلاب برپا کیا ہے ۔ اس بدبخت نے ہماری سب سے مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی ہے اور یہ کہہ کر انھوں نے اپنا فتوی لینے سے انکار کردیا کہ ایران بچے نہ بچے ، اسلام کو بچنا چاہیے۔ ایرانی فضائیہ کے چیف جنرل حاجی زادہ شہید نے دوسال پہلے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران نے 1996سے انڈر گراؤنڈ میزائل بنانے شروع کردیے تھے ۔ ان کی تعداد 351ہے اور یہ میزائل بنانے کی فیکٹریاں پہاڑوں کے اندر مختلف جگہوں پر ہیں ۔ انھوں نے کہا ہماری تیاریاں مہینوں بلکہ سالوں کی ہیں کیونکہ ہمارے پاس اسلحہ سالوں کے حساب سے موجود ہے ۔2کروڑ بسیج یعنی عوامی ملیشیاء بھی جنگ کے لیے تیار ہے ۔ 10لاکھ ایرانی فوج کے علاوہ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل