Loading
نیویارک پوسٹ نے، اٹھارہ مارچ 2026ء، کو ایک حیرت انگیز تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر موجود ہے، کوئی بھی اسے پڑھ سکتا ہے۔ یہ تجزیہ ہر فہمیدہ انسان کو غور وفکر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی جنگ، خانہ جنگی یا بدحالی کا شکار، حقیقت میں کون لوگ ہوتے ہیں۔ حکمران طبقات اور ان کی اولادیں، ہر ملک میں محفوظ بلکہ خوش وخرم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی دور ابتلا آ جائے، تو اپنے پیاروں کو فوراً شورش زدہ علاقے سے نکال کر امریکا، آسٹریلیا، یوکے اور دیگر مغربی پرسکون ممالک میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس طبقے کو اشرافیہ کہنا، تو اس لفظ کی توہین معلوم پڑتی ہے۔
یہ قومی وسائل، عہدے، رعب ودبدبہ اور مال و دولت پر جائز اور ناجائز طریقے سے قابض ہونے والا ٹولا ہوتا ہے جو اپنے اپنے ملک کے حساب سے اپنا حلیہ اور بیانیہ ترتیب دینے میں ماہر ہوتا ہے۔ بلکہ ان کی مہارت پر ہر ایک کو آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں بھی یہی معاملہ ہے۔ طاقت کے محور پر قابض طبقے کی اولادیں مغربی ممالک میں پرسکون زندگی گزارتی نظر آتی ہیں۔ مرتا ہمیشہ غریب اور متوسط درجہ کا انسان ہی ہے۔ کبھی حب الوطنی کے نام پر، اور کبھی عقیدے کی سربلندی کے لیے۔ اس نکتہ پر میں بعد میں، گزارشات پیش کرتا ہوں۔ فی الحال نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کی طرف لوٹتا ہوں۔
ہاں، یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایرانی حکومت نے بھی اس رپورٹ کی نفی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی رجیم سے متعلق چار ہزار سے پانچ ہزار افراد امریکا سمیت مغربی ممالک میںقیام پذیر ہیں۔ یہ لوگ مغرب میں آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے اپنے ملک میں اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر، اداریہ یا کالم نہیں دیکھا۔ یہاں تو ایرانی رجیم کی ’’امریکا دشمن پالیسی‘‘ کی دھوم ہے۔ ہم اس قدر جذباتی لوگ ہیں کہ اپنا اپنا سچ گھڑ لیتے ہیں اور اپنی رائے بدلنے پر رضامند نہیں ہوتے۔
چلیے، اب نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں۔ علی لاریجانی شہید ہوچکے ہیں، وہ ایرانی رجیم کے اہم ترین رکن تھے ۔ انھوں نے اپنے ملک کے لبرل طبقہ کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی تھی۔ لیکن المیہ دیکھیں کہ ان کی صاحب زادی فاطمہ آردیشر لاریجانی، ڈاکٹر ہیں اور Emory University، جو Atlanta میں واقع ہے، وہاں پریکٹس کرتی رہی ہیں۔بلا آخر انھیں کچھ عرصے قبل اس عہدے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ امریکا میں اس پر احتجاج ہوا کہ ایسی رجیم جو امریکا کی مخالف ہے، اس رجیم کے اعلیٰ عہدیدار کی صاحبزادی امریکا میں کیسے مقیم ہے۔ ابھی حال ہی میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور نواسی کی امریکا میںرہنے کی خبر آئی ہے کہ انھیں امریکا بدر کردیا جائے گا۔
سوال یہ بھی ہے اگر امریکا واقعی ’’شیطانِ بزرگ‘‘ ہے تو تعلیم اور اچھے مستقبل کے لیے، اولاد کا امریکا جانا، کیا غیرمناسب نہیں ہے؟ آج ایران میں عام ایرانی کس حال میں ہے؟اب آگے کیا لکھوں۔ لوگ ناراض نہ ہو جائیں۔ ذرا آگے چلیے۔ سابقہ ایرانی صدر، محمد خاتمی کی صاحبزادی بھی امریکا میں ہیں، خاتمی، 1997ء سے لے کر 2005ء تک ایران کے صدر رہے۔ صدر بننے سے پہلے، پورے دس برس، حکومتی وزیر رہے۔ آج بیاسی برس کے ہیں اور تہران میں موجود ہیں۔ ان کی صاحبزادی نیویارک کے ایک یونین کالج میں ریاضی کی پروفیسر ہیں۔ ایک محترم اور ایران کے بہت قد آور عالم ہیں، ان کی بیٹی University of Illinois میں پروفیسر ہیں۔ ان کے شعبہ کا نام Department of Nuclear, Plasma and Radiological Engineering۔
میرا ایک سوال ہے۔ اگر آپ کو اپنے نظریات پر اعتماد ہے اور آپ امریکا کو دنیا میںظالم اور شیطان گردانتے ہیں تو اولادوں اور رشتہ داروں کے لیے امریکا ہی کیوں! کیا کسی بھی پسماندہ یا ترقی پذیر ملک کا عام باشندہ اپنی اولاد کو دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں جائز طریقے سے منتقل کر سکتا ہے۔ نہیں صاحب! عام شہریوں کو ترقی یافتہ ملکوں میں جانے کے لیے ماں کا زیور فروخت کرنا پڑتا ہے یا زندگی ہتھیلی پر رکھ کر سمندر کی لہروں پر سوار ہونا پڑتا ہے۔ مگر جب حکمرانوں کی اپنی آل اولاد کے مستقبل کی بات آتی ہے تو پھر امریکا اور یورپ سے بہتر کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ اب اس ذہنی اور فکری رویے کو کیا نام دیا جائے؟ یہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔
اس پر میں مزید کیا عرض کروں؟ عرض کرنے کا مقصد بہت سادہ ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک ملک کا نہیں ہے ، مسلمان ممالک کے تمام حکمران طبقے، اپنی اولاد اور دولت کو امریکا اور مغربی یورپ میں ایک بہتر طرز زندگی کے لیے منتقل کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کا بھی یہی حال ہے۔ کسی ایک بڑے یا چھوٹے سیاست دان یا سرکاری اہلکار کا نام فرما دیجیے جنھیں موقع ملا اور انھوں نے اپنی اولاد کو مغربی ممالک میں نہ بھجوا دیا ہو۔ کم ازکم مجھے تو اردگرد کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ مگر ہمارے ملک میں ایک ذہنی دیانت داری ضرور موجود ہے۔ یہاں کوئی چھپاتا نہیں ہے کہ اس کے اہل وعیال امریکا یا لندن میں ہیں۔ ہاں، ریٹائرمنٹ تک یہ سچ ضرور راز میں رکھا جاتا ہے کہ ان کے پاس، سرکاری ملازمت کے دورانیہ میں، کسی بھی مغربی ملک کی شہریت ہے۔ دراصل ایک حددرجہ کڑوا سچ یہ ہے کہ تنازعات، جنگوں، خانہ جنگیوں اور خونی جھگڑوں میں مرنے کے لیے عام آدمی کی اولاد کو بطور چارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی شہادت پر رسمی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ مگر ذرا تحقیق فرما لیجیے، ان میں کوئی بھی کسی حکمران یا طاقت ور انسان کا بچہ نہیں ہوتا۔ ان کے گھر سے کبھی جنازے نہیں اٹھتے۔ بیروزگاری اتنی کڑی ہے کہ غریب انسان کے بچوں کے لیے رزق خاک ہونا عام سی بات ہے۔
کسی بھی ادارے میں معمولی نوکری سے خیر سہولتیں ضرور حاصل ہو جاتی ہیں مگر موت کی روزانہ دستک، سنائی ضرور دیتی ہے۔ اور معاشی مجبوری کی بدولت، اس خون ریز نظام سے نکلا بھی نہیں جاتا۔ اور پھر اچانک کوئی انجان بم، دھماکہ یا گولی، زندگی کی ڈور توڑ دیتی ہے۔ پر، حضور! مارا صرف غریب یا متوسط طبقے کا فرد ہی جاتا ہے۔ یہ انھی کا مقدر ہے۔ دولت مند یا اقتدار سے چمٹے ہوئے لوگ تو اپنی اولادوں کو مغربی ممالک میں منتقل کر چکے ہوتے ہیں۔ ہاں ہر سانحہ پر آب دیدہ ہو کر بیان بازی کا شعبدہ ضرور دکھاتے ہیں۔
تقریباً ہر مسلم ملک کی اشرافیہ اپنے اہل خانہ کو امریکا اور مغربی یورپ میں رکھتی ہو، تو ہمیں اپنے حکمرانوں سے گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں! مرنے کے لیے تو مسکین عوام حاضر ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل