Sunday, April 05, 2026
 

ٹرمپ کی دھمکی، مشرق وسطیٰ میں خطرناک کشیدگی

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں میں معاہدہ نہ ہوا تو اس پر مکمل طور پر جہنم برسا دیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ’’ یاد رکھیں جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن دیے تھے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’وقت نکلتا جا رہا ہے، ان پر جہنم برسانے کے لیے 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔‘‘امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ نے اس بیان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ محمد البرادعی نے اپنے ردعمل میں خلیجی ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر فعال کردار ادا کریں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، یورپی کونسل، فرانس، چین اور روس فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب ایران نے دوٹوک انداز میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو پورا خطہ ان کے لیے جہنم بن سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی دھمکی نے عالمی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یہ بیان نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ ایک ایسے خطے میں مزید کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے جو پہلے ہی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔’’ جہنم برسا دینے‘‘ جیسے الفاظ کسی عام بیان کا حصہ نہیں بلکہ طاقت کے بے دریغ استعمال کی کھلی دھمکی ہیں اور یہی پہلو اس صورتحال کو غیر معمولی حد تک خطرناک بنا دیتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھوں نے ہمیشہ سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اور اس کے بعد’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘کی پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سفارت کاری کے مقابلے میں دباؤ اور دھمکی کو زیادہ موثر سمجھتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی واقعی کامیاب ہو سکتی ہے؟ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایران جیسے ملک پر دباؤ ڈالنا آسان نہیں، اور اس کا ردعمل اکثر غیر متوقع اور شدید ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے دیا گیا دوٹوک جواب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی فوجی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو پورا خطہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے دوزخ بن جائے گا۔ یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے، جس کے پیچھے ایران کی عسکری حکمت عملی اور علاقائی اثر و رسوخ کارفرما ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے ایک مضبوط نیٹ ورک بھی قائم کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خطہ نہ صرف توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم گزرگاہوں کا حامل ہے۔ آبنائے ہرمز اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی سست روی ایسے نتائج ہیں جو کسی بھی تصادم کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی ذمے داری اس موقع پر مزید بڑھ جاتی ہے۔ سابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے بجا طور پر اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سفارتی کوششیں، مذاکرات اور ثالثی ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ اس کشیدگی کے پیچھے صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ اس میں دیگر علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی شامل ہیں۔ اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، اسی طرح خلیجی ممالک، جو ایک طرف امریکا کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف ایران کے ہمسایہ، ایک مشکل پوزیشن میں ہیں۔ معاشی پہلو بھی اس بحران کا ایک اہم جزو ہے۔ اگر جنگ چھڑتی ہے یا آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی عدم استحکام ایسے مسائل ہیں جو اس بحران کے نتیجے میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ عالمی معیشت، جو پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ایک نئے بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں غلط معلومات اور افواہیں تیزی سے پھیلتی ہیں، جو عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں۔ ذمے دارانہ رپورٹنگ اور درست معلومات کی فراہمی اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ بلاشبہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نے دنیا کی طاقت ور معیشتیں بھی متاثر ہوئی ہیںلیکن ترقی یافتہ ملکوں میں اس حوالے سے بہتر پلاننگ کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ممالک جن کا انحصار خلیج فارس کے تیل پر نہیں ہے وہاں صورت حال خاصی بہتر ہے۔ چین نے خلیجی جنگ سے قبل ہی اپنے ذخائر میں اضافہ کیا اور بہتر پالیسی اختیار کر کے معیشت کو مستحکم رکھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان سے کم نہیں۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ بھی اس کے اہم سفارتی اور معاشی روابط ہیں۔ اس لیے پاکستان کو ایک متوازن اور محتاط پالیسی اپنانا ہوگی۔ پاکستان ہمیشہ سے امن اور مذاکرات کا حامی رہا ہے اور اس موقع پر بھی اسے یہی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنا پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، جو نہ صرف خطے میں امن کے فروغ میں مددگار ہوگا بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی بہتر بنائے گا۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس صورتحال کو صرف موجودہ تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ اس کے طویل المدتی اثرات کا بھی جائزہ لیں۔ اگر یہ کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور معاشی نقصان ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی جنگ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ہوش مندی کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ سفارت کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس بحران کا حل پیش کر سکتا ہے۔ مذاکرات، باہمی احترام اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے ہی اس تنازع کو حل کیا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے فعال کردار ادا کرے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرے۔ طاقت کے استعمال سے وقتی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غلطی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دنیا ایک اور بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر پہلے ہی بے یقینی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین ذمے داری کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں اور امن کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔اگر ہوش مندی اور دانشمندی سے کام لیا گیا تو اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر جذبات اور طاقت کے نشے میں فیصلے کیے گئے تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ یہی وقت ہے کہ دنیا سبق سیکھے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرے، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کے بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل