Wednesday, April 08, 2026
 

سیز فائر ہوگیا

 



ایران امریکا کے درمیان دو ہفتے کا سیز فائر ہو گیا ہے۔ سیز فائر پاکستان نے کروایا ہے۔ اس سیزفائر کے بعد اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔ یہ سب باتیں تو آپ تک پہنچ گئی ہوں گی۔ سوچنے کی بات ہے کہ اب اس کے بعد کیا ہوگا۔ اس سیز فائر کے نتیجے میں کون جیتا اور کون ہارا ہے۔ بلا شبہ پاکستان کا ایک کلیدی کردار دنیا کے سامنے ابھر کر آیا ہے۔ پاکستان کے اس کردار کی اس جنگ سے پہلے کسی کو کوئی امید نہیں تھی۔ اسلام آباد میں مذاکرات پاکستان کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔ فی الحال یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ کون جیتا کون ہارا۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ایران کی شرائط پر بات ہو رہی ہے تو ایران کی پوزیشن بہتر ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران کا بہت نقصان ہوگیا ہے، اس کے اندر بہت تباہی ہو گئی ہے۔اس کی بڑی تمام قیادت شہید ہو گئی ہے۔لیکن پھر بھی امریکا اور اسرائیل مل کر ایران میں رجیم چینج نہیں کر سکے ہیں۔ ایران کے اندر رجیم موجود ہے۔ نئی قیادت سامنے آگئی ہے، نئی لیڈر شپ نے بھی جنگ میں کمان سنبھالی ہے اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے۔ اس لیے اس جنگ میں ایران کی سب سے بڑی فتح یہی رہی ہے کہ رجیم چینج کا اسکرپٹ فیل ہوگیا ہے۔ وہ تمام مفروضے جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ امام خامنہ ای کی شہادت کے بعد رجیم چینج آسان ہو جائے گا غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ وہ مفروضے بھی غلط ثابت ہو گئے ہیں کہ ایران کے لوگ اس رجیم کے خلاف ہیں۔ اندر تبدیلی کے لیے گراؤنڈ تیار ہے۔ سب غلط ثابت ہوگیا ہے۔ ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ میں ایرانی عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئے ہیں، لوگ سڑکوں پر موجود رہے ہیں، لوگوں نے اس رجیم کی مکمل حمایت جاری رکھی ہے۔ اس قدر بمباری کے باوجود ایران میں ایک بھی حکومت مخالف مظاہرہ نہیں ہوا۔ یہ امریکا اور اسرائیل کی بڑی ناکامی ہے۔ جنگ کے بعد امن کے لیے بھی اسی رجیم سے مذاکرات کرنے پڑ رہے ہیں۔ یہ اپنی جگہ ایک بڑی بات ہے۔ اس لیے رجیم چینج نہ ہونا ہی ایران کی بڑی کامیابی ہے۔ اس کے بعد ایران نے مزاحمت کی جو تاریخ رقم کی ہے۔ اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جس دن سیز فائر ہوا ہے، اس دن بھی ایران اسرائیل اور سعودی عرب کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس دن بھی ایران کے پاس جواب دینے کی طاقت موجود تھی۔ امریکا اپنی ساری طاقت کے باوجود ایران کے میزائیل اور ڈرون چلانے کی طاقت کو ختم نہیں کر سکا ہے۔ جواپنی جگہ ایران کی بڑی کامیابی ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ اس کی جنگی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ وہ امریکا کی دھمکیوں میں نہیں آیا ہے۔ جہاں تک یورینیم کی بات ہے۔ ایران تو جنگ سے پہلے بھی یورینیم دینے کے لیے تیار تھا، وہ افزودہ یورینیم کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ اومان کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران یورینیم پر امریکی بات ماننے کو تیار تھا، آج بھی تیار ہے۔ پھر جنگ سے کیا حاصل ہوا ہے۔ ایران کی کافی تباہی ضرور ہو گئی۔ اگر امریکا اور اسرائیل کا مقصد ایران کی تباہی کرنا تھا تو یقیناً ان کو اپنا یہ مقصد کافی حد تک حاصل ہوگیا ہے۔ لیکن اگر اس کے بعد ایران سے پابندیاں ہٹ جاتی ہیں تو یہ ایران کے لیے کوئی برا سودا نہیں ہوگا۔ 47 سال سے موجود پابندیوں نے ایران کا معاشی طور پر گلا گھونٹ دیا تھا۔ اس جنگ سے پہلے ایران معاشی طور پر طور تباہ نظر آرہا تھا۔ ڈالر کی قیمت بہت اوپر جا رہی تھی اور لوگ ایران کی معاشی تباہی کی باتیں کر رہے تھے۔ لیکن اگر اب معاشی پابندیاں ہٹ جاتی ہیں تو ایران کو اپنی معاشی تباہی کو ختم کرنے کا موقع مل جائے گا۔ وہاں دولت نظر آنے لگے گی۔ وہ دنیا میں واپس شامل ہوجائے گا۔ جو ایران کے لیے کوئی چھوٹی بات نہیں ہوگی، ایران کے لوگ جنگ کی تباہی کو بھول جائیں گے۔،معاشی پابندیوں کا خاتمہ ایران میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور لائے گا۔ جو ایران کے نئے سپریم لیڈر کی قیادت کو مستحکم کرے گا۔ سیز فائر میں ایران کی ایک اور بڑی بات ما ن لی گئی ہے۔ ایران کی یہ شرط تھی کہ سیز فائر میں لبنان میں حزب اللہ اور اس کے دیگر حامی گروپس کے ساتھ بھی سیز فائر کیا جائے۔ سیز فائر میں سب شامل کیا گیا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کی لڑ ائی بھی سیز فائر ہوا ہے۔ حوثیوں کا بھی سیز فائر ہو ا ہے۔ اس طرح ایران کی یہ شرط کہ صرف اس کے ساتھ سیز فائر نہیں بلکہ اس کے حامیوں کے ساتھ بھی سیز فائر کیا جائے، مانی گئی ہے۔ جو اپنی جگہ ایران کی ایک کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔ یقیناً یہ سیز فائر متحدہ عرب امارات، بحرین اورکویت کو پسند نہیں ہوگی۔ ایک دن پہلے تو متحدہ عرب امارات اور اس کے ساتھ جنگ کے حامی ممالک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد لا رہے تھے جس کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا تھا۔ اب اس کے بعد سیز فائر یقیناً ان کے لیے ٹھیک نہیں۔ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کو جاری رکھنا چاہتے تھے۔ سیز فائر ان کے خلاف تھا۔ وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے تھے، ان کو ناکامی ہوئی ہے۔ سعودی عرب دوسری طرف سیز فائر کے ساتھ تھا۔ وہ پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت میں کھڑا نظرآیا ہے۔ اس لیے وہ سیز فائر کے ساتھ تھا، قطر بھی سیز فائر کے ساتھ تھا۔ آگے کیا ہوگا، ایک بڑا سوال ہے۔ کیا ایک مکمل امن معاہدہ ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں مکمل امن معاہدہ دونوں فریقین کی ضرورت ہے۔ عارضی جنگ بندی عربوں کے لیے بھی خطرہ ہوگی۔ عارضی جنگ بندی ایران کے لیے زہر قاتل ہوگی۔ وہ اگر جنگ سے بچ بھی گئے ہیں تو کمزور معیشت ان کی جان لے لے گی۔ اس لیے ایک مکمل امن معاہدہ ایران کے بہترین مفاد میں ہے۔ ٹرمپ کے لیے ایک جامع امن معاہدہ اس وقت ناگزیر ہے۔ وہ مڈٹرم انتخابات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بہت کمی ہوئی ہے، وہ مڈٹرم ہار سکتے ہیں۔ ایک جامع امن معاہدہ ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو کندھا دے سکتا ہے۔ وہ دوبارہ امن کے علمبردار کے طور پر خود کو پیش کر سکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں وہ حقیقی امن لے آئے ہیں۔ ان کا مڈ ٹرم بن سکتا ہے۔ اس لیے معاہدہ ٹرمپ کی بھی ضرورت ہے، ان کے ساتھیوں کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان دشمن پریشان ہیں، بھارت پریشان ہے۔ اس کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کرے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت بھارت کو پریشان کر رہی ہے۔ وہ خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ویسے تو پاکستان کے اندر تحریک انصاف کے دوستوں کی بھی یہی حالت ہے۔ وہ بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی کامیابیوں سے خوش نہیں ہیں۔ دونوں کی بڑھتی عالمی مقبولیت اور عالمی قبولیت ان کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کی بھی سب تدبیریں غلط ثابت ہو گئی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل