Saturday, April 11, 2026
 

قیادت کا امتحان، بحران اور پھر کامران

 



ایران میں محمد رضا شاہ پہلوی کا تختہ فروری 1979 میں اسلامی انقلاب کے نتیجے میں الٹا گیا تھا اور اس کے بعد ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی تھی۔ یہ صرف حکومت یا حکومتی نظام کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس سے خطے کی پوری سیاست تبدیل ہوگئی۔ ایران میں شاہ ، امریکا کا بہت بڑا حمایتی تھا لوگ تو اسے امریکا کی کٹھ پتلی بھی کہتے تھے اور اس کے ہٹنے سے خطے میں امریکی مفادات اور اثر و رسوخ کو بڑی ضرب پہنچی، جب کہ اسلامی حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی امریکا کو شیطان قرار دیا اور خود کو پہلے دن سے امریکا مخالف حکومت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد تعلقات کبھی معمول پر نہیں آئے۔ دونوں ممالک کے درمیان لفظی گولہ باری جاری رہی اور جب یہ لفظی جنگ کسی حقیقی جنگ میں تبدیل نہیں ہوئی۔ ایران پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی لیکن ایران چلتا رہا اور ساتھ ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر بھی کام کرتا رہا۔ اس دوران جولائی 2015 میں صدر بارک اوباما کی دور صدارت میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا کہ جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا اور اس کے بدلے ایران پر بین الاقوامی اور اقتصادی پابندیاں نرم کرنا تھا۔ اس معاہدے کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں 2018 میں ختم کردیا کیونکہ اسرائیل اس معاہدے کے خلاف تھا اور وہ کسی ایسے امریکی صدر کے انتظار میں تھا جو اس کے کہنے پر ایران پر حملہ کردے جو اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں بالآخر مل ہی گیا۔ صدر ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں ایران سے دوبارہ جوہری معاملات پر گفتگو شروع ہوئی اور جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدہ طے نہیں پایا اور صدر ٹرمپ کی دی ہوئی دو ماہ کی مدت بھی ختم ہوئی تو اسرائیل اور امریکا نے جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا جس میں نہ صرف ان تنصیبات کو نقصان پہنچا بلکہ ایران کے متعدد تجربہ کار جوہری سائنسدانوں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔ بارہ روزہ جنگ کے بعد جنگ بندی ہوگئی اور امید تھی کہ اب دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔فروری 2026 میں دوبارہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔ جون 2025میں انھوں نے ایران کی فوجی طاقت کے بارے میں جو اندازے لگائے تھے اس کے تحت ان کا خیال تھا کہ وہ دنوں میں اپنے اہداف حاصل کرلیں گے اور ایران میں حکومت تبدیل ہوجائے گی جیسے اس سے پہلے وہ اگست 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کو ایک فوجی بغاوت کے ذریعے ختم کر چکے تھے اور اس آپریشن کا نام آپریشن ایجکس تھا مگر اس دفعہ اس کا بالکل الٹ اثر ہوا اور بکھرتی ہوئی ایرانی قوم امریکی حملے کے نتیجے میں متحد اور یکجا ہوگئی۔ ایرانی خواتین فٹبال کھلاڑیوں نے کہ جنھوں نے پہلے سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی اس حملے کے نتیجے میں وہ درخواست واپس لے کر ملک واپس جانے کو ترجیح دی۔ یوں اپنی من پسند حکومت لانے کا امریکی اور اسرائیلی خواب چکنا چور ہوگیا اور اس کی کرچیوں نے رضا پہلوی کو بھی لہولہان کردیا۔ اسرائیل اور امریکا کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ایران تو دہائیوں سے اس جنگ کی تیاری کررہا تھا۔ جنگ شروع کر کے امریکا اور اسرائیل نے ایران کی قیادت کو امتحان میں ضرور ڈالا اور پہلے ہی ہلے میں ایرانی قیادت بشمول عسکری قیادت کا خاتمہ کر کے یکطرفہ اپنی کامیابی کا اعلان بھی کردیا لیکن ابھی ایران کا جواب باقی تھا۔ یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ ایرانی قیادت امتحان میں آئی اور جب ان کی قیادت کو ہلاک کردیا گیا تو قیادت بحران میں بھی آئی لیکن جیسے پہلے لکھا ہے کہ ایران تو دہائیوں سے اس جنگ کی تیاری کررہا تھا اور اس نے تہہ در تہہ ہر شعبے میں متبادل قیادت تیار کی ہوئی تھی اور کسی بھی شعبے میں ایک شخص ہٹنے کے بعد جو دوسرا شخص آیا تو وہ ایسا لگتا تھا کہ وہ پہلے والے سے بھی زیادہ تعلیم یافتہ، اہل اور قابل ہیں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی اصل قیادت دوسری یا تیسری تہہ میں چھپائی ہوئی تھی جو بزرگ قیادت کی شہادت کے بعد زیادہ عزم اور حوصلے کے ساتھ سامنے آئی اور دنیا کے سامنے کامران ہوئی۔ پہلے امریکا نے کہا تھا کہ جنگ دنوں کی ہے پھر کہا کہ ہفتوں میں ختم ہوگی اور اب تو کوئی اس کے ختم ہونے کا وقت بتانے کو بھی تیار نہیں ہے۔ امریکا کا یہ حال ہے کہ ’’میں تو کمبل کو چھوڑتا ہوں مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑتا۔‘‘ اب وہ اسرائیل کو شامل کیے بغیر جنگ بندی کی بات کررہا ہے کیونکہ اس کو سمجھ آگیا کہ بنیامین نیتن یاہو اس جنگ کو آخری گولی اور آخری سپاہی تک لیجانا چاہے گا بشرطیکہ گولی اور سپاہی امریکی ہوں۔ ویسے اس جنگ میں چین، روس اور شمالی کوریا کا بھی کلیدی کردار ہے لیکن وہ اس وقت اس تحریر کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ امریکا ایک طرف جنگ میں فتح کے دعوے کر رہا ہے اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ شروع کرنے کا الزام اپنے ڈیفنس سیکریٹری پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) کو دے رہے ہیں۔ دنیا کی اس اکلوتی سپر پاور کو یہ بھی نہیں پتا کہ جیتنے والے تو صلہ مانگتے ہیں یا صلہ دیتے ہیں، الزام تو ہارنیوالا لگاتا ہے۔ اس وقت نہ صرف ایران اس جنگ بندی کی بات چیت میں سبقت رکھتا ہے بلکہ ایران اس وقت اپنی شرائط پر جنگ بندی کی بات کررہا ہے کہ جس میں مستقبل میں حملہ نہ کرنے کی ضمانت، جنگ کا ہرجانہ اور دیگر شرائط شامل ہیں۔ آگے کیا ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت ایرانی قیادت امریکا کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوئی ہے کہ جس کو نہ امریکا نگل سکتا ہے اور نہ اگل سکتا ہے۔ اس قیادت نے اپنی اہلیت سے خود کو دنیا کے سامنے منوایا ہے۔ میں ایک بات آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آنیوالے کئی سالوں تک یہ جنگ عسکری اداروں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جائے گی کہ کیسے اس جنگ میں ایک سپر پاور اپنے پیروں سے اپنے گھٹنوں پر آگئی اور جس کا پورا کریڈٹ یا صلہ ایرانی قیادت اور ایرانی قوم کو جاتا ہے۔ امریکا اور ایران کے موجودہ حالات پر سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک کلپ دیکھا جو میرا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ کلپ میں ساس کی آواز ہے جب کہ بہو کو دکھایا گیا ہے۔ ساس کی آواز کہتی ہے کہ’’ ساس بہو میں تو لڑائی ہوتی رہتی ہے لیکن کل رات تم نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی تو تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم مجھ سے معافی مانگ لو۔‘‘ بہو کہتی ہے کہ’’ اگر میں معافی نہ مانگوں تو‘‘ اس پر ساس کی آواز کہتی ہے کہ’’ میں تمہیں معافی مانگنے کے لیے پانچ منٹ دیتی ہوں‘‘ بہو کہتی ہے کہ’’ اگر میں پانچ منٹ گزرنے کے بعد بھی معافی نہ مانگوں تو؟‘‘ اس پر ساس کی آواز کہتی ہے کہ’’ اچھا چلو، مجھے بتادوں کہ پھر تمہیں کتنا وقت چاہیے ایک گھنٹہ، دو گھنٹے یا پانچ گھنٹے ‘‘اس جواب پر بہو کو ہنسی آجاتی ہے اور کلپ کا اختتام ہوجاتا ہے۔ میرے خیال سے اس سے زیادہ اچھے طریقے سے امریکا اور ایران کی گفتگو کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ آپ بھی دیکھیں اور ہم بھی دیکھتے ہیں کہ امریکا کن شرائط پر یہ معاہدہ کرتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل