Saturday, April 11, 2026
 

پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچالیا

 



مشرق وسطیٰ کی خوفناک جنگ سے دنیا کے تمام ہی ممالک متاثر ہوئے ہیں ۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے پوری دنیا کو توانائی کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑا۔ کچھ ممالک جنگ بند کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر زور دے رہے تھے۔ ایران نے امریکا اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے حفظ ماتقدم کے تحت آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ نہ ایران پر حملہ ہوتا نہ یہ راستہ بند ہوتا۔ صدر ٹرمپ حالاں کہ پہلے خود کو عالمی جنگیں ختم کرانے کا چیمپئن قرار دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے آٹھ جنگیں رکواکر دنیا کو تباہی اور بربادی سے بچالیا ہے۔ وہ اس سلسلے میں پاک بھارت جنگ کو رکوانے کا بھی بطور خاص ذکر کیا کرتے تھے مگر یہ کیا ہوا کہ امن کی باتیں کرتے کرتے وہ خود ایران پر حملہ آور ہوگئے اور اپنے ساتھ اپنے بغل بچہ اسرائیل کو بھی جارحیت میں شامل کرلیا۔ اس حملے سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لیے اس کے ایٹمی مرکز پر خوفناک حملے کرائے تھے اور پوری دنیا کو خبر دے دی تھی کہ انھوں نے ایران کے نہ صرف ایٹمی مرکز کو تباہ کردیا ہے بلکہ اس کی ایٹمی ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت بھی ختم کردی ہے، پھر وہ ایران سے امن مذاکرات کرنے لگے اور ان ہی مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ آور ہوگئے، ان کی اس حرکت کو تمام ہی ممالک نے نوٹ کیا تھا وہ ایران پر جنگ مسلط کرکے اسے ہی پہلے جنگ روکنے کا حکم دے رہے تھے جیسے کہ جنگ ایران نے شروع کی تھی۔ لگتا ہے وہ محض اسرائیل کی بقا کے خاطر پوری دنیا سے لڑ سکتے ہیں۔ وہ ایران کو کمزور سمجھ رہے تھے مگر ایران ایک مہینے سے بھی زیادہ عرصے سے نہ صرف ان کا بلکہ ان کے ناجائز دوست اسرائیل کے حملوں کا مقابلہ کرتا رہا اور اپنی برتری قائم کرلی تھی۔ ایران کی استقامت سے وہ انتہائی گھبرا گئے تھے اور بدحواسی میں عجیب و غریب حرکتیں کررہے تھے، انھوں نے اپنے جنرلز کو فارغ کردیا حتیٰ کہ امریکی فوج کے کمانڈر انچیف کو بھی فارغ کردیا۔ اس کے علاوہ اپنے اسٹاف کے کئی ممبران کو فارغ کرچکے ہیں کیوں کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ادھر عوام نے ان کے خلاف مورچہ کھول لیا تھا۔ پورے امریکا میں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے تھے کہ یہ جنگ امریکا کی نہیں اسرائیل کی ہے جسے امریکا کیوں بھگت رہا ہے۔ اسرائیل کے برسوں سے عرب ممالک سے تعلقات ہیں مگر وہ ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے کیوں کہ ایران اس کے مشرقی وسطیٰ پر غالب آنے یا اس کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کا سب سے بڑا مخالف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اس وقت ایران نے امریکا اور اسرائیل کی اس پر مسلط کردہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے جس سے امریکی حکومت نہ صرف حیرت زدہ ہے بلکہ پریشان بھی ہے۔ اب یہ خبر صغیۂ راز میں نہیں رہی ہے بلکہ طشت از بام ہوچکی ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران سے آسان جنگ کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اسرائیل جو مشرق وسطیٰ میں ہوس ملک گیری اور دہشت گردی کی وجہ سے خلیجی وعرب ممالک پر ضرور حاوی ہے مگر ایران اس کے لیے ایک مشکل ٹارگٹ بنا ہوا ہے اور جسے شکست دیے بغیر وہ نہ تو خلیجی ممالک کو اپنا تابع کرسکتا ہے نہ ہی اپنے گریٹر اسرائیل کے ناجائز منصوبے کو حقیقت کی شکل دے سکتا ہے۔ اس نے ٹرمپ سے پہلے صدور کو بھی ایران کے خلاف حتمی جنگ کرنے کے لیے ور غلایا تھا مگر کسی بھی صدر نے اس کے سازشی منصوبے پر کان نہیں دھرے تھے حتیٰ کہ بائیڈن جو یہودیوں کے بہت قریب تھے اور اسرائیل پر بہت مہربان تھے انھوں نے بھی نیتن یاہو کے ایران کے خلاف جنگ کے منصوبے کو قبول نہیں کیا تھا مگر ٹرمپ نیتن یاہو کے جال میں پھنس گئے۔ حالاں کہ ٹرمپ خود کو بہت ذہین اور چالاک سمجھتے ہیں، وہ نیتن یاہو سے خوش نہیں تھے کیوں کہ بائیڈن حکومت کا وہ بہت طرف دار تھا اور پچھلے امریکی انتخابات کے وقت وہ ٹرمپ کے بجائے بائیڈن کی جیت چاہتا تھا اور جب ٹرمپ جیت گئے تو ٹرمپ نے کافی دنوں تک نیتن یاہو سے بات نہیں کی مگر خیر اب تو ٹرمپ نیتن یاہو کے سازشی جال میں پھنس چکے تھے کیوں کہ نیتن یاہو انھیں یقین دلایا تھا کہ بس دو یا تین دن کی جنگ کے بعد ایران گھٹنے ٹیک دے گا اور ایرانی عوام کی ایرانی حکومت سے ناراضگی اور ان کے سابق شاہ کے بیٹے سے محبت کرنے کا یقین بھی دلایا تھا مگر یہاں تو حالات الٹ ہی ثابت ہوئے۔ ایرانی حکومت نہیں جھکی بلکہ ایک مہینے سے زیادہ وقت سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مردانہ وار مقابلہ کررہی تھی اور منہ توڑ جواب دے رہی تھی اور ایرانی عوام حکومت کے ساتھ کھڑے تھے بہرحال نیتن یاہو نے صرف ٹرمپ کو دلدل میں نہیں پھنسایا تھا بلکہ پوری دنیا کو مصیبت میں پھنسا دیا تھا۔ ٹرمپ ایران کی استقامت دیکھ کر بہت پریشان بھی تھے اور اسرائیل پر ناراض بھی کہ نیتن یاہو نے اپنے فائدے کے لیے انھیں مشکل میں ڈال دیا تھا بہرحال انھوں نے نہ صرف اپنی بہت بے عزتی کرالی ہے بلکہ امریکا کی ساکھ کو بے حد نقصان پہنچادیا ہے جو اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیا تھا۔ شاید اسی لیے امریکی سینیٹ کے ایک سینئر رکن مسٹربرنی سینڈر نے تمام سینیٹ ممبران سے کہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم 25کی بروئے کار لاتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوراً برخاست کریں ۔ امریکی عوام ہی نہیں امریکی فوج کے بعض اہم کمانڈر اسے پرائی جنگ قرار دے کر اسے فوراً روکنے کا کہہ رہے تھے۔ ملکی سطح پر تو ٹرمپ کے خلاف بیانات آ ہی رہے تھے۔ دنیا کے اہم اداروں کے رہنما بھی ٹرمپ کے خلاف بیانات دے رہے تھے۔ یورپی کونسل کے صدر مسٹر انتونیوکوسٹا نے ٹرمپ کو نشانے پر لے کر الزام لگایا تھا کہ وہ دنیا کا امن تباہ برباد کرنے کے بعد اب ایران میں شہری سہولیات اسکول، اسپتال، کالجوں اور پانی کے ذخائر اور بجلی کی تنصیبات کو تباہ کررہے ہیں۔ ان کا یہ حکم سراسر عالمی قوانین کے خلاف ہے۔ یہ امریکا جیسے اہم ملک کے لیے باعث بدنامی کا باعث ہے کہ اس کا صدر اتنا بے رحم ہوگیا ہے کہ کھلے عام جنگ کو خوفناک بنانے کی دھمکیاں دے رہا ہے ،ایسی صورت حال میں ایک ایسے ملک کو کیا اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حق دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ سے پہلے امریکا نے ویت نام ، کوریا، عراق اور افغانستان میں جنگیں لڑی ہیں گو کہ وہاں ناکام ہی رہا مگر اس وقت کے صدور نے ٹرمپ کی طرح کے بے رحمانہ احکامات نہیں دیے تھے اور نہ ہی کسی ملک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ دراصل بہت جذباتی ہوگئے تھے اور لگتا تھا وہ کہیں ایران کے خلاف ایٹم بم کا استعمال ضروری نہ سمجھ لیں۔ اس میں شک نہیں کہ امریکا کی انسان دوستی صرف دکھاوے کی ہی ہے، وہ تو ماضی میں خود کو انسانیت کا قاتل ثابت کرچکا ہے۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر برسائے گئے ان کے ایٹم بموں کی تباہی کو ابھی تک دنیا نہیں بھول پائی ہے۔ ٹرمپ کی ویسے تو دھمکیاں چل ہی رہی تھیں مگر جب انھوں نے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دی تو لوگ سمجھ گئے یہ ناممکن ہے اس سے یہ بھی لگا کہ بس اب انتہا ہوگئی ہے وہ اپنی ہی شروع کی گئی جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور جلد ہی جنگ کو روکنے والے ہیں۔ انھوں نے ایران کو جو 8 اپریل تک کی مہلت یا الٹی میٹم دیا تھا وہ دراصل جنگ کو روکنے کی تاریخ تھی اور پھر وہی کہ جنگ رک گئی مگر اس میں پاکستان کی ثالثی کامیاب ہوئی ہے جو ہم پاکستانیوں کے لیے باعث فخر ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل