Saturday, April 11, 2026
 

حد رفتار

 



لاہور کا سفر درپیش ہوا، کوئی ایسی مصروفیت بن گئی کہ ایک وقت مقررہ پر پہنچنا تھا، اسلام آباد کا موسم بہت طوفانی تھا، ایپ پر چیک کیا تو لاہور میں بھی موسم کے ویسے ہی حالات تھے، بالٹیاں بھر بھر کر جیسے بارش انڈیلی جا رہی تھی۔ اجلاس بیٹھا کہ کس راستے سے جایا جائے، موٹروے پر یا جی ٹی روڈ پر۔ گوگل میپ کو بھی اجلاس میں شامل کیا تو اس نے بتایا کہ موٹروے پر حد رفتار زیادہ سے زیادہ سو کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جب کہ جی ٹی روڈ پر حد رفتار اسی کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ فاصلے، حد رفتار، موسم اور سڑکوں کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے موٹروے سے ہمیں لاہور پہنچنے میں پانچ گھنٹے پچیس منٹ لگیں گے جب کہ جی ٹی روڈ پر فاصلہ بہت کم ہونے کے باوجود ہمیں پانچ گھنٹے اور پچاس منٹ لگیں گے۔ اجلاس ختم ہوا اور تیاری شروع کہ وقت کم تھا اور مقابلہ سخت۔ گوگل میپ پر اعتبار کر لیا تھا مگر وہ کون سا خود اس وقت سڑک پر سفر کر رہی تھی۔ بارش تھی کہ لگتا تھا ساری کو اسی روز برسنا تھا، گھر سے لے کر شروع ہوئی اور جوں جوں موٹر وے پر آگے بڑھتے گئے، بارش مزید تیز ہوتی گئی۔ جہاں کوئی ایسا ٹکڑا آتا یا بارش ہلکی ہوتی کہ گاڑی تیز چلائی جا سکتی تھی، وہاں بھی حد رفتار کے پیش نظر گاڑی اس رفتار پر نہیں چلا سکتے تھے کہ کہیں جرمانہ نہ ہوجائے۔ سالٹ رینج میں حد رفتار اس سے بھی نصف ہے اور اس حصے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے گاڑی کچھوے کی رفتار سے چل رہی ہو بلکہ رکی ہوئی ہو۔ وقت تنگ ہونے کی گھبراہٹ بھی شروع ہو گئی تھی اور بادلوں کی وجہ سے اندھیرا بھی چھایا ہوا تھا، جہاں بارش شروع ہوتی تھی وہاں visibility بھی کم ہو جاتی تھی۔ نہ گوگل کی بات سچ نکلی اور نہ ہی ہمارے اندازے، بغیر رکے، ذرا سا نماز کا وقفہ کر کے مسلسل چلتے ہوئے بھی ہم چھ گھنٹے اور چالیس منٹ میں لاہور پہنچے۔ جہاں جانا تھا، وہاں یقینا ٹینٹ اور کھانے والے سامان سمیٹ رہے ہوں گے، میزبانوں کو کال کر کے پوچھا تو علم ہوا کہ ان کی ہال کی بکنگ کا وقت کب سے ختم ہو چکا تھا مگر وہ یہ جان کر کہ ہم راستے میں ہیں، کچھ وقت سے فقط ہمارے لیے بیٹھے تھے۔ ہم نے انھیں بتایا کہ ہمیں ابھی لگ بھگ تیس منٹ لگیں گے تو انھوں نے بتایا کہ اتنی دیر کے لیے وہ وہاں نہیں رک سکتے تھے، سو وہاں جانے کا ارادہ ترک کردیا تھا۔ سوچا کہ اگلے دن ان کے گھر چلے جائیں گے اور جا کر معذر ت بھی کر لیں گے۔ اتنا تیار ہو کر آئے تھے اور اب اگلے دن پھر تیار ہونا پڑے گا… من ہی من میں غصہ بھی بہت آرہا تھا مگر کس پر غصہ نکالتے؟ اتنی اچھی موٹروے بنا کر عوام کے لیے سہولت مہیا کر دی گئی اور اس کے لیے ہم ہمیشہ ان حکومتوں کے مشکور رہے ہیں کہ جن کے دور میں یہ سب منصوبے مکمل ہوئے اور اس سے فاصلے سمٹ گئے مگر اس بات کی کیا توجیح ہے کہ ان پر حد رفتار اتنی کم کر دی گئی ہے۔ شنید ہے کہ اس کا مقصد پٹرول کی بچت ہے… کیا پٹرول وقت سے زیادہ قیمتی ہے اور حد رفتار کم کر دینے سے گاڑی کی پٹرول خرچ کرنے کی قابلیت میں کتنا فرق پڑتا ہے؟ یہ سوال جب میں نے چیٹ جی پی ٹی سے کیا تو اس نے بتایا کہ اگر ایک گاڑی سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چھ لٹر پٹرول خرچ کرتی ہے تو ایک سو بیس کلومیٹر کی رفتار سے سات لٹر پٹرول خرچ کرے گی، لگ بھگ پندرہ فیصد۔ اب سوچیں کہ وہ اضافی تین سو اکیاسی، ایک لٹر پٹرول کے زیادہ اہم ہیں یا وقت؟ پہلے جب حد رفتار ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ تھی تو اس وقت بھی موٹر وے پر یوں لگتا تھا کہ جیسے گاڑی ایک جگہ پر کھڑی ہو، چل ہی نہ رہی ہو۔ اب سو کلو میٹر زیادہ رفتار پر تو بالکل گاڑی پارک ہوئی لگ رہی تھی۔ اچھی بات ہے کہ کسی نے پٹرول کی بچت کے لیے یہ بات سوچی اور اس پر یک دم عملدرآمد بھی کروا دیا گیا ہے لیکن کیا یہ سوچا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے وقت کی اہمیت زیادہ ہے، ان کے لیے پٹرول کے پانچ چھ لٹر بچانے سے زیادہ اہم، وقت بچانا ہے۔ ہر کوئی سفر میں ساڑھے چھ گھنٹے گزارنا افورڈ نہیں کر سکتا، کسی کی پرواز نہیں پکڑی جا سکتی، کسی کو کسی مریض کو دیکھنے جانا ہے، کسی کو جنازے میں شرکت کرنا ہے اور کسی کو ہفتے میں تین دن ان دونوں شہروں کے بیچ سفر کرنا پڑتا ہے، ان کے لیے کتنی کوفت کا سامان بن گیا ہے۔ یہ تو ایک موٹروے پر سفر کی مثال ہے، ظاہر ہے کہ یہ حد رفتار تمام موٹرویز پر لاگو ہے اور اس سے بہت سے لوگ متاثر ہیں۔ اگر موٹروے اور جی ٹی روڈ پر پہلے والی حد رفتار بحال کر دی جائے، میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ اس رفتار سے سفر کریں تو آپ کا اتنا پٹرول استعمال ہو گا، اگر کم رفتار سے جائیں تو آپ اپنے سفر میں چار لٹر پٹرول بچا سکتے ہیں۔ ’’آہستہ چلائیں، پٹرول بچائیں!‘‘ موٹر وے پر بھی جگہ جگہ ایسے سائن بورڈ آویزاں کیے جا سکتے ہیں جو لوگوں کو بتائیں کہ اگر آپ آہستہ گاڑی چلائیں گے تو اتنا پٹرول بچے گا، اس کے بعد گاڑی چلانے والوں کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کس رفتار پر زیادہ مطمئن ہیں، اگر وہ پچاس کلومیٹر کی رفتار سے چلا کر، ساڑھے آٹھ گھنٹے میں فاصلہ طے کر کے دس لٹر پٹرول کے پیسے بچانا چاہتے ہیں تو یہ ان کا انتخاب ہے۔ جن کے پاس کافی وقت ہے وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور جنھیں وقت پر پہنچنا ہے اس میں چاہے جتنا بھی پٹرول خرچ ہو، ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ پٹرول کے یہ دو چار لٹر بچانے کی بجائے اگر عوا م کو پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ، ہر چیز کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے متاثر ہونے سے بچایا جائے یا انھیں بھی کوئی ریلیف دیا جائے کہ وہ اس طوفان کا مقابلہ کرسکیں تو وہ زیادہ بہتر ہو گا۔ پٹرول ہمارے ہاں مہنگائی کا معیار بڑھنے کا بنیادی پیمانہ ہے اور اس کی قیمت میں اصافہ ہر شخص کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ مزدور کی مزدوری نہیں بڑھتی مگر اس کے لیے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، وہ اگر پہلے روکھی سوکھی کھا سکتا تھا تو اب وہ بھی نہیں کھا سکتا۔ متوسط طبقہ بھی پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ خط غربت سے گرنے لگتا ہے، تنخواہ دار کی تنخواہ بڑھتی ہے اور نہ پنشنر کی پنشن مگر اس کے گھر کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کریں کیا، کس سے شکوہ کریں اور کس سے امید رکھیں۔ جو طبقہ وقت بچانے کو جتن کرتا ہے، ا نہیں آ پ پٹرول بچانے کے لیے وقت کے زیاں پر مجبور کر دیتے ہیں اور جنھیں اصل میں ریلیف کی ضرورت ہے، ان کے لیے کوئی بھی نہیں سوچتا۔ جانے کون سے جہاں کی قیمتیں ہیں جو سرکاری نرخ کہلاتے ہیں، ہر دکان پر ایک کونے میں جو گلی سڑی اور گھٹیا معیار کی اشیائے خورونوش اور دیگر سامان رکھا ہوتا ہے، گلے سڑے پھل اور سبزیاں، اس پر ایک کلو زیادہ سے زیادہ خریدنے کی حد مقرر ہے… جہاں پر بڑا سا بورڈ ’’ڈی سی ریٹ‘‘ کا لگا ہوتا ہے، اسے ہم سرکاری نرخ کہتے ہیں اور وہ ہے جو حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو معلوم ہوتا ہے۔ جس گھر میں ماہانہ پانچ کلو پیاز اور پانچ کلو آلو (مثال کے طور پر) استعمال ہوتے ہیں وہ کیا پانچ دفعہ آلو اور پیاز خریدنے کے لیے جائیں؟ کبھی کوئی ان میں سے سامان اپنے گھر لے جاکر استعمال کرکے بھی دیکھ لے کہ وہ کس قابل ہے۔ اس وقت لوگوں میں مختلف بیماریاں، ذہنی دباؤ اور دماغی امراض بڑھتے جا رہے ہیں، ایک سبب تو ناقص غذائیں ہیں اور دوسرا اور اہم سبب ہے بے کسی اور بے بسی۔ لوگوں کو اپنے حالات بہتر کرنا تو کجا، قابو میں رکھنا ہی مشکل نظر آتا ہے اور ٹیشن، ڈیپریشن، ہارٹ اٹیک، سٹروک اور خودکشیاں بڑھ رہی ہیں۔ کیا ان حالات کو نظرانداز کر کے کوئی بھی حکومت اپنی ذمے داریوں سے بری الذمہ ہو سکتی ہے؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل