Loading
عالمی منظر پر بیشتر اوقات انہونیاں، غیرمتوقع واقعات اور اچانک نمایاں ہونے والے کردار تاریخ کا دھارا بدلنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ امریکا ایران جنگ جس قدر غیرمتوقع تھی، اس کی جنگ بندی میں پاکستان کا بطور مصالحت کار اور مذاکرات میزبان کردار اتنا ہی غیرمتوقع تھا۔ اپنوں پرایوں نے سوچا بھی نہ تھا کہ یوں دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز رہیں گی۔
جنگ کے دوران پاکستان مسلسل کوشاں رہا کہ جنگ کے شعلے مزید نہ پھیلیں اور مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔ دو ہفتے قبل پاکستان نے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر بیک چینل سفارتکاری کو موقع دینے کی کوشش کی۔
اس سارے عمل کے دوران چین کی بالواسطہ سپورٹ بھی شامل حال رہی۔15 روزہ جنگ بندی کا اعلان وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا، امریکا اور ایران نے اس کی تصدیق کی اور پاکستان کی توصیف کی۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا، پاکستان جسے اس کے پڑوسی ملک اور چند دیگر ممالک نے ہمیشہ سفارتی تنہائی اور دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی، اسی پاکستان نے دنیا کی سپر پاور، علاقے کی ایک مضبوط پاور اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان امن کا راستہ نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ بطور پاکستانی یہ ملک، قوم اور عوام کے لیے فخر کا عظیم لمحہ تھا۔
جنگ بندی کی شرائط کے مطابق پہلی بار امریکا اور ایران کے درمیان۔ بالواسطہ ( یا شاید براہ راست مذاکرات) کی صورت پیدا ہوئی ہے۔ بالواسطہ مذاکرات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں لیکن امریکا کی طرف سے پہلی بار نائب صدر وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
ان مذاکرات سے امید کی جانی چاہیے کہ امن کو راستہ ملے گا اور جنگ کا جن بوتل میں واپس بند کرنے کی کوئی صورت نکلے گی۔ اس دوران بقول شخصے دنیا بھر کے میڈیا اور سفارتی حلقوں میں اسلام آباد اور پاکستان کی قیادت کا ذکر اور شہرہ رہا۔ وزیراعظم پاکستان کو دنیا کے بیشتر ممالک کے ٹیلی فون موصول ہوئے، سفارتی سپورٹ کا اظہار کیا گیا، جنگ کے شعلے سرد کرنے میں پاکستانی وزیراعظم، سپہ سالار، وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم نے انتہائی مشکل، حساس اور پیچیدہ حالات میں اس نازک چیلنج کو نتیجہ خیز بنایا۔ اس پر دنیا بھر میں پاکستانی قیادت کی تعریف وتوصیف کی جا رہی ہے۔
ایران اور امریکا جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ایک ان چاہے سلامتی بحران اور بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ خلیجی ریاستوں میں خوف کا راج ہے۔ سعودی عرب، کویت، قطر اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے یہ جنگ ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘ کی سی مجبوری بنی۔
ان ممالک کی معیشت کا سارا دارومدار آبنائے ہرمز اور دیگر سمندری راستوں کے ذریعے تیل اور گیس کی آزادانہ روانی پر تھا جو جنگ کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی آئل اور گیس کی تنصیبات بھی جنگ کی زد میں آئیں۔
مشرق وسطیٰ میں پچھلی کئی دہائیوں سے علاقائی سیکیورٹی، عمومی امن وسلامتی اور معاشی ترقی کے ماحول کو اس جنگ کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا۔ مشرق وسطیٰ کی معیشت اور معاشی ترقی کا پورا ماڈل لڑکھڑا کر رہ گیا ہے۔
بدقسمتی سے جہاں پوری دنیا پاکستان کی اس سفارتی کامیابی پر اسے داد دے رہی ہے، وہیں ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بی جے پی حکومت ایک عجیب حسد اور ذہنی پسماندگی کا شکار نظر آئی ۔ بھارتی میڈیا پاکستان دشمنی میں کس حد تک پاگل پن کا شکار ہے اس کا مظہر وہ بے شمار ویڈیو کلپس ہیں جو میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔
اچھے خاصے معروف اینکرز پاکستان دشمنی میں انتہائی نازیبا اور بازاری گفتگو پر اترے ہوئے ہیں تاہم دوسری جانب بھارت ہی کے زیرک سیاستدان ششی تھرور اور چند دیگر حقیقت پسندوں نے بی جے پی حکومت کو آئینہ دکھایا ہے۔
ششی تھرور کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک نہایت ذمے دار ریاست کا ثبوت دیا ہے، نیوکلئیر ہمسایوں کو امن کی ہر کوشش کی قدر کرنی چاہیے۔ ششی تھرور ان معدودے چند دانشوروں اور سیاست دانوں میں سے ہیں جو اب بھی عقل کو تعصب پر ترجیح دیتا ہے۔ گو ششی تھرور اور ان جیسے دانشوروں کی آواز بھارت کے نقارخانے میں طوطی کے برابر سہی لیکن قابل قدر ہے۔
اس پورے بحران میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئے امتحان سے گزرے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو تاریخی اور برادرانہ رشتہ موجود ہے اس نے موجودہ حالات میں ڈھال کا کام کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی اور حالیہ دفاعی معاہدے نے تعلقات کو مزید اعتماد بخشا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے مصالحتی کردار پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹھوس اور دوررس ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر نیٹو الائنس کی موجودگی اور سربراہی امریکا کی عالمی عسکری قوت کا طرہ امتیاز رہی ہے۔ ایران جنگ کے دوران نیٹو اتحاد بہت برے طریقے سے مجروح ہوا ہے۔ امریکا اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان اعتماد میں گہرے شگاف آئے ہیں جو شاید وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتے جائیں۔
روس یوکرائن جنگ، گزشتہ سال پاک بھارت جنگ اور حالیہ امریکا ایران جنگ کے تجربات نے میدان جنگ کے نئے طور اطوار متعارف کرائے ہیں۔ روایتی فوجی دستے، فضائی اور بری طاقت اور دفاعی ساز وسامان اپنی جگہ لیکن لانگ رینج میزائل، ڈرونز، سائبر ٹیکنالوجی سے لیس نئے اطوار جنگوں میں متعارف ہوئے ہیں۔
اے ائی کے استعمال نے جنگوں کو مزید ہولناک اور سپرسانک بنا دیا ہے۔ دنیا بلاشبہ ہیجان اور انتشار کے ایک نئے لیول پر آ پہنچی ہے۔ ایسے میں باہمی بقا اور امن کے عالمی فریم ورک پر مبنی نئے ورلڈ آرڈر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انسان اور بڑی قوتیں عموماً تاریخ کے جبر ہی سے سیکھتی ہیں۔ امریکا ایران جنگ نے امریکا کی دفاعی ساکھ کے دیوہیکل امیج کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یورپ سائڈلائن پر دم سادھے تماشائی رہا اور امریکا کی جنگ میں شرکت سے گریزاں رہا۔
چین اور روس نے سفارتی لحاظ قائم رکھا لیکن اپنی حمایت ایران کے لیے فراہم رکھی۔ شدید تباہی برداشت کرنے اور جوابی کارروائیوں کی حیرت انگیز صلاحیت نے ایران کی حیثیت بطور علاقائی طاقت مضبوط کی اور خطے میں اس کے ممکنہ نئے کردار کی نشاندہی بھی کر دی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو بھی اس جنگ نے کئی سبق سکھائے ہیں اور غیرمتوقع جہتوں سے آشنا کیا ہے۔ امریکا ایران جنگ کا نتیجہ ایک مستقل امن کی صورت میں برآمد ہوتا ہے یا کچھ اور لیکن یہ طے ہے کہ پرانا ورلڈ آرڈر ایک نئے ورلڈ آرڈر کی جگہ بنا رہا ہے۔ ابھی بہت کچھ غیرواضح ہے، چند سال یا شاید چند دہائیاں نئے منظر کے خدوخال کو واضح کریں گی۔
قدرت نے پاکستان کو اس نئے عالمی منظر میں ایک اہم کردار کا اشارہ اور موقع دیا ہے۔ فخر ومباہات اپنی جگہ مگر اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پاکستان اندرونی سیاسی استحکام اور معاشی خودمختاری کے لیے دوررس اقدامات کرے، تاکہ اس کی سفارتی اور عسکری کامیابیاں اسے اندرونی سیاسی استحکام اور معاشی محاذ پر بھی یکسو اور خودمختار رکھیں نہ کہ معاشی محاذ پر اسے بار بار دوست ملکوں کی طرف دیکھنے کی مجبوری آڑے رہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل