Loading
زمین کا جغرافیہ بظاہر خاموش اور ساکت دکھائی دیتا ہے مگر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ یہی خاموشی اکثر جنگوں کے شور میں ڈھل کر انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہے۔ پہاڑوں کی بلندیاں صحراؤں کی وسعتیں اور سمندری گزرگاہوں کی تنگیاں محض قدرتی مظاہر نہیں بلکہ طاقت کی سیاست کے اہم کردار ہیں۔
آبنائے ہرمز بھی ایسی ہی ایک گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے مگر اس کی حیثیت صرف جغرافیائی نہیں بلکہ عالمی معیشت اور سیاست کی شہ رگ کی سی ہے۔ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس تنگ پٹی پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی رہتی ہیں۔
جب ہم جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ جغرافیہ نے عسکری طاقت سے بڑھ کر اپنا اثر دکھایا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کی قیادت میں جرمن افواج نے سوویت یونین پر یلغار کی تو ابتدا میں ان کی پیش قدمی ناقابلِ یقین حد تک تیز تھی، لیکن روس کی وسیع سرزمین اور جان لیوا سردی نے اس پیش قدمی کو روک دیا۔
برف سے ڈھکے میدانوں طویل فاصلے اور رسد کی کمی نے جرمن فوج کو مفلوج کر دیا جب کہ اسٹالن کی قیادت میں سوویت افواج نے انھی جغرافیائی حالات کو اپنی طاقت بنا لیا۔ روسی سردی محض موسم نہیں رہی بلکہ ایک ایسی خاموش فوج ثابت ہوئی جس نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔
اسی طرح برصغیر کا خیبر پاس صدیوں تک تہذیبوں کے ملاپ اور حملہ آوروں کی گزرگاہ رہا۔ محمود غزنوی سے لے کر احمد شاہ ابدالی سمیت متعدد افواج اسی راستے سے برصغیر میں داخل ہوئیں، اور یوں یہ درہ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے والا دروازہ بن گیا۔
1956ء کا سویز بحران بھی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ سمندری گزرگاہیں کس طرح عالمی طاقتوں کے تصادم کا باعث بنتی ہیں اور کس طرح تجارت اور سیاست ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کے کناروں پر بسنے والے ماہی گیر وہ مائیں جو اپنے بیٹوں کی واپسی کی دعائیں کرتی ہیں اور وہ بچے جن کے خواب جنگی کشیدگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہ سب اس عالمی شطرنج کے گمنام کردار ہیں۔
طاقت کی اس کشمکش میں سب سے زیادہ قیمت عام انسان ادا کرتا ہے مگر اس کی آواز اکثر تاریخ کے شور میں دب کر رہ جاتی ہے۔آبنائے ہرمز کو اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ تیل کی سیاست اور سامراجی مفادات کی علامت بھی ہے۔
بڑی طاقتیں توانائی کے وسائل پر کنٹرول کے لیے اس خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھتی ہیں جس کے نتیجے میں کشیدگی اور عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ یہ صورتحال ہمیں نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتی ہے جب وسائل پر قبضے کے لیے قوموں کی تقدیر سے کھیلا جاتا تھا۔
آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں صرف انداز بدل گئے ہیں۔ جنگوں کے اثرات کا ایک پہلو یہ بھی ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت کس کرب سے گزرتی ہے۔ جنگ کے دوران عورتیں ہجرت ،بیوگی اور سماجی عدم تحفظ کا سامنا کرتی ہیں ان کی زندگیوں میں آنے والے دکھ تاریخ کے صفحات میں کم ہی جگہ پاتے ہیں حالانکہ اصل المیہ انھی کے حصے میں آتا ہے۔
جنگ صرف سرحدوں کو نہیں بلکہ گھروں اور دلوں کو بھی ویران کر دیتی ہے۔ آج جب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، تب بھی جغرافیہ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
ڈرونز میزائل اور سائبر جنگیں اپنی جگہ مگر سمندری گزرگاہیں پہاڑی درے اور موسمی حالات اب بھی جنگوں کے نتائج پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ آبنائے ہرمز اس حقیقت کی زندہ علامت ہے کہ زمین کی ساخت اور اس کی جغرافیائی حیثیت انسان کی سیاسی اور عسکری تقدیر پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا انسان کبھی جغرافیہ کو جنگ کے بجائے امن اور تعاون کا ذریعہ بنا سکے گا؟ کیا یہ ممکن ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی گزرگاہیں طاقت کی کشمکش کے بجائے تہذیبوں کے ملاپ اور انسانی یکجہتی کی علامت بن جائیں؟
شاید یہی وہ خواب ہے جسے ادب تاریخ اور انسان دوستی مسلسل زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زمین تو خاموش ہے مگر اس خاموشی میں انسانیت کے مستقبل کی ایک مدھم سی صدا ضرور سنائی دیتی ہے ایک ایسی صدا جو ہمیں جنگ نہیں بلکہ امن کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی طاقتوں کی اس کشمکش میں چھوٹے ممالک اکثر دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔
آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں معمولی کشیدگی بھی عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیتی ہے جس کے اثرات دور دراز ممالک تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عام انسان کی زندگی کو براہِ راست متاثر کرتا ہے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشی عدم استحکام جنم لیتا ہے۔
اس پس منظر میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ عالمی برادری ذمے داری کا مظاہرہ کرے اور ایسے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ دنیا کو ایک پر امن اور مستحکم مستقبل کی جانب لے جایا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل