Sunday, April 12, 2026
 

امریکا پاکستان کو کس بات کی سزا دے رہا ہے؟

 



ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں خطے کو اپنے مفادات کی آگ میں جھونکنے کے لیے تیار بیٹھی تھیں، پاکستان نے ایک غیر متوقع اور جرات مندانہ سفارتی پیش رفت کے ذریعے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ محض ایک صلح کی کوشش نہیں تھی، بلکہ پاکستان کی جانب سے اس خود مختارانہ خارجہ پالیسی کا اعلان تھا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے حالیہ چند دن تاریخ کے اہم ترین موڑ ثابت ہوئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ جنگ کے بادلوں میں گھرا ہوا تھا، پاکستان نے ایک ذمے دار ایٹمی قوت کے طور پر وہ کردار ادا کیا جس کی توقع صرف ایک بڑا ملک ہی کر سکتا ہے۔ کل تک کی خبریں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ اسلام آباد نے ایران اور دیگر فریقین کے درمیان صلح کی ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے جس سے خطے میں خونریزی کا خطرہ ٹلتا نظر آیا۔ پاکستان کی اس ’’شٹل ڈپلومیسی‘‘ نے ثابت کردیا کہ عالمی سیاست میں پاکستان کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ تاہم، سفارت کاری کی اس بساط پر جیسے ہی پاکستان کی کوششیں بارآور ہونا شروع ہوئیں، اچانک امریکی ایوانوں سے کچھ ایسی خبریں آئیں جنہوں نے امن کے اس عمل کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا۔ آج کی سب سے بڑی اور کڑی خبر یہ ہے کہ امریکا نے اس صلح کے بدلے ایسی شرائط سامنے رکھ دی ہیں جو کسی بھی خود مختار ملک کے لیے قبول کرنا مشکل ترین مرحلہ ہے۔ ان شرائط میں سب سے نمایاں ایران-پاکستان (IP) گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل طور پر ختم کرنا اور ایران کا چین کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی و عسکری تعاون ہے۔ امریکا کا یہ مطالبہ کہ ایران چین سے جدید اسلحہ نہ خریدے یا اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بیجنگ پر انحصار کم کرے، دراصل اس وسیع تر عالمی سرد جنگ کا حصہ ہے جو واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری ہے۔ پاکستان اس وقت اس چکی کے دو پاٹوں کے درمیان ہے؛ ایک طرف اسے اپنے ہمسائے ایران کے ساتھ دیرینہ گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے تاکہ ملک کا توانائی کا بحران حل ہو سکے، اور دوسری طرف اسے امریکی ناراضگی اور ممکنہ اقتصادی پابندیوں کا ڈر ہے۔ امریکا نے واضح کر دیا ہے کہ اگر پاکستان ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھاتا ہے تو اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ ان حد سے زیادہ سخت شرائط نے پاکستان کی صلح جویانہ کوششوں کو ایک کڑے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان نے کل جس خلوص کے ساتھ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی، اس کا مقصد صرف خطے کا امن تھا۔ لیکن اب امریکا اسے ایک ’’سودے بازی‘‘ کے طور پر دیکھ رہا ہے جہاں وہ پاکستان سے اپنی من مانی شرائط منوانا چاہتا ہے۔ ان شرائط میں آئی ایم ایف کے سخت معاشی پیکجز اور دفاعی تعاون کی محدود سازی بھی شامل ہے، جو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہیں۔ اس پوری صورتحال کا ایک اور رخ انتہائی دلچسپ اور پاکستان کی سفارتی فتح کا عکاس ہے۔ پچھلے تین چار دنوں سے بھارتی میڈیا، جو عام طور پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، بالکل خاموش نظر آیا۔ وہ بھارتی اینکرز جو بات بات پر پاکستان کو ’’عالمی سطح پر تنہا’’ ہونے کا طعنہ دیتے تھے، انہیں جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ پاکستان کی صلح جوئی کی ان کوششوں نے بھارتی پروپیگنڈا مشینری کو مفلوج کر دیا کیونکہ ان کے پاس پاکستان کے اس مثبت امیج کا کوئی توڑ موجود نہیں تھا۔ بھارت کی یہ خاموشی دراصل اس کی بوکھلاہٹ کا ثبوت تھی۔ نئی دہلی میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر پاکستان ایران اور عرب دنیا کے درمیان یا ایران اور مغرب کے درمیان ایک کامیاب ثالث کے طور پر ابھرتا ہے، تو بھارت کا وہ سارا بیانیہ دفن ہو جائے گا جس پر اس نے اربوں ڈالر خرچ کیے۔ جب پاکستان امن کی شمع جلا رہا تھا، تو بھارتی میڈیا کی خاموشی اس بات کا اعتراف تھی کہ سفارتی محاذ پر پاکستان نے بھارت کو چت کردیا ہے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے، تہران نے پاکستان کی ثالثی پر بھروسہ کرتے ہوئے کچھ انتہائی اہم مطالبات تسلیم کیے ہیں۔ ایران نے علاقائی تنازعات میں لچک دکھانے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ لیکن امریکی شرط کہ ’’ایران چین سے اسلحہ نہ لے‘‘، ایک ایسا نکتہ ہے جو ایران کی خود مختاری پر ضرب لگاتا ہے۔ پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ ایران کو یہ باور کیسے کرائے کہ امن کی قیمت اپنی دفاعی پالیسیوں کی تبدیلی ہے، جبکہ خود پاکستان بھی چین کا ایک اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں ایک ’’خیر خواہ‘‘ کا رہا ہے۔ ہم نے نہ صرف ایران کو قائل کیا بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ پیغام دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی کی تعریف عالمی سطح پر ہونی چاہیے کہ اس نے اپنے محدود وسائل اور اندرونی سیاسی خلفشار کے باوجود عالمی امن کے لیے اتنا بڑا خطرہ مول لیا۔ پاکستان کی تعریف اس لیے بھی بنتی ہے کہ اس نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف اپنے مفاد کے لیے نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام اور خطے کے استحکام کے لیے سوچتا ہے۔ ملک کے اندرونی حالات پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ جہاں ریاست پاکستان باہر کی دنیا میں صلح کروا رہی ہے، وہیں ہمارے اپنے سیاسی حلقوں میں عمران خان اور دیگر سیاسی قائدین کے حوالے سے تقسیم در تقسیم کا عمل جاری ہے۔ عوام اس الجھن کا شکار ہیں کہ ایک طرف ملک عالمی سطح پر اتنی بڑی فتوحات حاصل کر رہا ہے اور دوسری طرف داخلی طور پر سیاسی استحکام خواب بنتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سفارتی کامیابی کو قومی یکجہتی کے لیے استعمال کیا جائے۔ موجودہ صورتحال یہ تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان امریکی دباؤ کے سامنے ڈٹ جائے۔ اگر ہم نے صرف اس لیے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن یا دیگر منصوبے ختم کر دیے کہ امریکا ناراض ہوگا، تو ہم کبھی بھی ایک آزاد خارجہ پالیسی نہیں اپنا سکیں گے۔ امریکا کی ’’حد سے زیادہ سخت‘‘ شرائط دراصل ہماری خود مختاری کا امتحان ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین اور ایران کے ساتھ مل کر ایک ایسا علاقائی بلاک تشکیل دے جو مغربی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر اپنے فیصلے خود کر سکے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان نے صلح کی کوشش کرکے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اب یہ عالمی طاقتوں پر ہے کہ وہ امن چاہتی ہیں یا اپنے مفادات کی جنگ۔ بھارتی میڈیا کی خاموشی ٹوٹے گی، اور شاید وہ دوبارہ کسی نئے جھوٹ کے ساتھ سامنے آئیں، لیکن پاکستان نے تاریخ کے صفحات پر یہ لکھوا دیا ہے کہ جب خطہ آگ کی لپیٹ میں تھا، تو وہ واحد ملک تھا جو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر سامنے آیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ان کامیابیوں کو مضبوط معاشی اور دفاعی پالیسیوں میں تبدیل کریں تاکہ آئندہ کوئی ہمیں شرائط ڈکٹیٹ نہ کر سکے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل