Loading
تہران: ایران نے مبینہ طور پر دشمن ممالک کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں کم از کم 50 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان افراد پر ’کرائے کے ایجنٹ‘ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ریاست سے منسلک خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے حساس مقامات، سروس سہولیات اور اہم انفراسٹرکچر کی معلومات فراہم کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کے دوران الیکٹرانک آلات، سیٹلائٹ کمیونیکیشن ڈیوائسز اور اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران جاسوسی کے شبہ میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال امریکا اور اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد بھی ایران میں اسی نوعیت کی گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔
حالیہ دنوں میں ایران نے اپنے جاسوسی سے متعلق قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کے تحت جاسوسی کے الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت اور جائیداد کی ضبطی جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اندرونی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے سخت پالیسی اختیار کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل