Sunday, April 12, 2026
 

کوئٹہ ہزار گنجی میں فائرنگ سے ہزارہ کمیونٹی کے دو افراد جاں بحق، احتجاجاً مغربی بائی پاس مکمل بند

 



ہزار گنجی سبزی منڈی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہزارہ کمیونٹی کے دو افراد جاں بحق ہوگئے، لوگوں نے احتجاجاً مغربی بائی پاس (Western Bypass) کو مکمل طور پر بند کر دیا، وزیراعلیٰ نے نوٹس لیتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق شہر کے اہم کاروباری مرکز ہزار گنجی سبزی و فروٹ منڈی میں اتوار کی صبح فائرنگ کا ایک دل خراش واقعہ پیش آیا۔ نامعلوم مسلح افراد نے سبزی کی خریداری کے لیے آئے ہوئے افراد پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین اور پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور دو سے تین افراد پر مشتمل تھے، جو ممکنہ طور پر موٹر سائیکل پر سوار تھے، انہوں نے منڈی کے قریب سبزی فروشوں اور خریداروں کو نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت حاجی موسیٰ اور احمد علی کے نام سے ہوئی۔ دونوں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر منڈی میں سبزی کا کاروبار کرتے تھے، زخمیوں میں چمن علی، جعفر علی اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔ انہیں فوری طور پر بی ایم سی اسپتال (بولان میڈیکل کالج اسپتال) منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایک زخمی کی حالت انتہائی نازک بتائی ہے۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی ہزارہ کمیونٹی کے نوجوانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے مغربی بائی پاس (Western Bypass) کو احتجاجاً ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا، احتجاج کرنے والوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے ہزارہ کمیونٹی کی مکمل حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ نتیجتاً شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک شدید متاثر رہی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا سخت نوٹس واقعے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ داخلہ اور آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور سرچ آپریشن شروع کردیا ۔ اب تک کسی بھی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور مجرموں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔یاد رہے کہ ہزار گنجی منڈی ہزارہ کمیونٹی کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کا اہم مرکز ہے۔ ماضی میں بھی اسی علاقے میں متعدد بار ایسے ہدف بنا کر حملے ہو چکے ہیں، جن میں متعدد افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہزارہ برادری طویل عرصے سے ٹارگٹ کلنگ کا شکار رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوتی رہی ہے۔ کمیونٹی کا مطالبہ ہزارہ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ بار بار ہونے والے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکورٹی کے انتظامات اب بھی ناکافی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منڈی اور ہزارہ آبادیوں کے گرد سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ معصوم شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ واقعے نے شہر میں ایک بار پھر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ شہریوں نے امن و امان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل