Loading
وزیرداخلہ محسن نقوی نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کاروباری ماحول بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بہت پرعزم ہیں، اس حوالے سے آنے والا بجٹ بہت اہم ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں ایف پی سی سی آئی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹیکسوں اور ایف آئی اے کے نظام کو آسان سے آسان تر کریں گے اور زیر التوا معاملات کو نمٹائیں گے، جو موقع ملا ہے اسے کسی طریقے سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی طریقہ ہے کہ حکومت اور کاروباری برادری میں اعتماد کو بڑھایا جائے کیونکہ دونوں جانب عدم اعتماد ہے، تین سال میں 100 ارب ڈالر ملک سے باہر چلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جانے والا پیسہ کس طریقے سے گیا اس کے لیے ایک دو بندوں کو کراچی سے اٹھانے کی ضرورت ہے جس کے بعد سب پتہ چل جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے لیے ماحول اچھا ہو جائے گا جبکہ دبئی اور بیرون ملک موجود تمام نہیں بلکہ 20 سے 30 فیصد پیسہ واپس لے آئیں گے، کچھ زیادہ نہیں ان لائن جاکر پیسہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے زریعے لانے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سرمایہ کار جو منافع پاکستان دیتا ہے دنیا میں کوئی ملک نہیں دے سکتا، ہمیں 30/40 سال پرانی سوچ ترک کرنا ہوگی، اکائونٹس سے پیسہ ضبط کرنے کے ایک اقدام سے پوری بزنس کمیونٹی کو دھچکہ لگتا ہے، بزنس کمیونٹی کے ایک قدم سے کابینہ کے لیے بزنس فرینڈلی ماحول بنانا آسان ہوگا۔
محسن نقوی نے خوش خبری سنائی کہ بجٹ سے پہلے 20 سے 25 ارب ڈالر پاکستان لانا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں ایک گھنٹے میں دس ہزار پائونڈز منتقل ہوسکتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ منی چینجر کام نہیں کررہے، منی چینجر وہاں کام کرتا ہے جہاں سیاح آتے ہوں، یہاں کون سے سیاح آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایکسچینج کمپنیاں صرف پیسوں کے انتظام کے لیے ہیں، منی چینجر کے ذریعے رقوم منتقلی کے چھ سات کیسز پکڑے ہیں، تاجر، صنعت کار اور کاروباری افراد منی ایکسچینج کے بجائے بینک کے ذریعہ کام کریں۔
محسن نقوی نے کہا کہ تجاویز مرتب کرلی ہیں جلد وزیر اعظم کو پیش کریں گے، بزنس مین کے لیے علیحدہ پاسپورٹ کے اجراء کی تجویز تیار کی ہے، ان پاسپورٹ کے حامل کاروباری افراد کا تمام ڈیٹا ریکارڈ پر ہوگا جس کے بعد سفارت اور قونصل خانوں کیلیے آسان ہوگا کہ وہ ترجیح بنیاد پر پاسپورٹ دیں، سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ کی طرز پر بزنس کمیونٹی کے لیے پاسپورٹ کی تجویز ہے، ان کے لیے ایئرپورٹ پر علیحدہ کائونٹر ہوں گے،پاکستان کا پاسپورٹ جلد دنیا کے 50 سر فہرست پاسپورٹ میں شامل کریں گے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ ہاؤسنگ کے سلسلے میں وزیر اعظم یومیہ میٹنگ کرتے ہیں، جس کی ترقی کیلیے اچھا حل نکالا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 21 اپریل کو اسلام آباد میں ہوٹل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا اجلاس ہوگا، جس میں انڈسٹری لگانے والے کو 16 ماہ کے لیے ٹیکس چھوٹ دی جائیگی۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے پیچھے شنگھائی اور مین ہٹن کی طرز پر بلند عمارتوں پر مشتمل نیا شہر بھی سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین موقع ہوگا، استورہ بلوچستان میں ڈھائی کلومیٹر کا جزیرہ ہے، اس جزیرے پر ریزورٹ بنایا جائے تو لوگ مالدیپ جانا چھوڑ دیںگے اور میں جلد وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ اس جزیرے کا دورہ کروںگا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سال بھر مم میں پی آئی اے تبدیل ہوتی نظر آئیگی۔ تمام وزارتیں اور حکومت بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کریں گے
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل