Thursday, April 16, 2026
 

یو اے ای کو تین میں سے دو ارب ڈالرز کل ادا کیے جانے کا امکان

 



پاکستان نے یو اے ای کو تین ارب ڈالرز واپس کرنے کے انتظامات مکمل کرلیے، دو ارب ڈالرز کل 17 اپریل کو ادا کیے جانے کا امکان ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومتِ پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو 3 ارب ڈالرز کا قرض واپس کرنے کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ ذرائع وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ یہ ادائیگیاں آئندہ ایک ہفتے کے دوران مرحلہ وار کی جائیں گی، اسٹیٹ بینک کے ذخائر جون تک 18 ارب ڈالرز تک بڑھانے کی حکمت عملی بھی تیار کرلی گئی ہے، یو اے ای کو 2 ارب ڈالرز 17 اپریل کو ادا کیے جانے کا امکان ہے، باقی ماندہ ایک ارب ڈالرز 23 اپریل کو ادا کرنے کا پلان ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یو اے ای کو 45 کروڑ ڈالرز کا 30 سالہ پرانا قرضہ واپس کردیا ہے تاہم سعودی عرب کے 3 ارب ڈالرز اضافی مالی سہولت سے خلاء پُر ہوجائے گا، پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ڈپازٹ کا حجم بڑھ کر 8 ارب ڈالرز ہوجائے گا۔ ذرائع نے کہا ہے کہ ڈپازٹ کے علاوہ پاکستان کو موخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت بھی ملنے کا امکان ہے جبکہ تیل کی موجودہ ایک ارب ڈالرز کی سعودی سہولت ختم ہونے کے قریب ہے۔ سعودی عرب اس وقت ماہانہ پاکستان کو 10 کروڑ ڈالرز آئل فیسلیٹی فراہم کررہا ہے، سعودی عرب سے رواں مالی سال ایک ارب ڈالرز تیل کی سہولت فراہمی کا تخمینہ ہے، آئی ایم ایف سے اگلی قسط میں ایک ارب 21 کروڑ ڈالرز اگلے ماہ ملنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو رقم ملے گی۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف سطح کا معاہدہ ہوچکا ہے پاکستان رواں سال کیپٹل مارکیٹ میں بانڈز بھی جاری کرے گا، چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ جاری کرنے پر بھی کام ہورہا ہے جبکہ کمرشل بینکوں سے قرضہ لینے کا بھی منصوبہ ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس سعودی عرب، چین اور یو اے ای کے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز بطور ڈپازٹ موجود ہیں، جن میں سعودی عرب کے 5 ارب، چین کے 4 ارب اور یو اے ای کے 3 ارب ڈالرز شامل ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل