Loading
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ خلیج میں قیام امن کے لیے حکومتی سفارت کاری قابل تحسین ہے تاہم ان کوششوں میں قومی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے جبکہ ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور تعلیمی و سماجی مسائل عوام کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
گوجرانوالہ میں بنو قابل تقریب میں خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ ہونے کے باوجود طلب کے مقابلے میں عوام کو شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہیں جن کے تحت سالانہ تقریباً دو ہزار ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں تین کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں، لاکھوں نوجوان منشیات کا شکار ہیں، اس صورت حال میں نظام کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ سے تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے اور اساتذہ کو کم تنخواہوں پر رکھا جا رہا ہے، صحت کے مراکز اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری بھی تشویش کا باعث ہے۔
مہنگائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر شہری پیٹرول پر تقریباً 150 روپے فی لیٹر ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ حکومتیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
تقریب میں الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے اور امیر جماعت اسلامی نے بنو قابل پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت سمیت مزید مفت کورسز متعارف کرائے جائیں گے۔
قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی میں حق دو کراچی مہم کے بینرز پر پابندی اور دکانیں سیل کرنے کی دھمکیاں فسطائیت کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور اگر انہیں دبانے کی کوشش کی گئی تو یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہوگا، کراچی ملک کی معیشت کا اہم مرکز ہے مگر شہریوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ حق دو کراچی کسی ایک گروہ کا نہیں بلکہ شہر کے کروڑوں شہریوں کا مشترکہ مطالبہ ہے، جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے جائز حقوق فراہم نہیں کیے جاتے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل