Sunday, April 19, 2026
 

نا امیدی کے اندھیرے میں امید کی کرنیں

 



مذاکرات کا دوسرا دور یقینی ہے۔ امکانی طور پر یہ دور تاریخ ساز ہو گا کیوں کہ اس میں جنگ بندی کا معاہدہ متوقع ہے۔ایران امریکا معاہدے میں رکاوٹ کیا ہے؟ کیا یہ معاہدہ واقعی ایٹمی پروگرام پر رکا ہوا ہے اور اس میں ایٹمی پروگرام پر پانچ برس اور دس برس کی پابندی کا اختلاف ہے؟ خبر تو یہی ہے لیکن اس سطح سفارتی سرگرمی کو جس کا تعلق امن عالم سے ہو، سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی خبروں پر انحصار عام طور پر نہیں کیا جاتا۔ ان خبروں سے آگے بڑھ کر ان سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جاتی ہے جو پس پردہ یا ان ریکارڈ جاری رہتی ہیں۔ ایک رائے تو یہ تھی کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھا دیا، اس کی ذمے داری ختم ہوئی لیکن مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کی کوششیں جاری رہیں۔ وزیر اعظم سعودی عرب سے ہوتے ہوئے قطر گئے اور اس کے بعد ترکیہ میں جہاں وہ چار برادر ملک ایک بار پھر مل بیٹھے یعنی پاکستان، ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر۔ جنگ بندی کے بعد یہ ملک سکون کا سانس لے چکے تھے ، اب انھوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر آنے والے دنوں، ان کے چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کی تجاویز پر غور کیا یعنی اس دفاعی اتحاد کے امکانات کا جائزہ لیا جنھیں صحافتی دنیا میں مسلم نیٹو کے نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم جس وقت عرب دنیا کے طوفانی دورے کے بعد ترکیہ میں مستقبل کی صورت گری میں مصروف تھے، فیلڈ مارشل جنگ زدہ تہران میں تھے اور ایرانی بھائیوں کے ساتھ مستقل امن کی تدابیر پر غور کر رہے تھے۔ ان سرگرمیوں کا مطلب کیا ہے؟ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ دو فریق میز پر بیٹھ گئے اور جنگ بندی ہو گئی۔ جنگ بندی کے ساتھ بہت کچھ اور بھی وابستہ ہے، اس سب کے حقیقت بنے بغیر مستقل جنگ بندی محض ایک خواب ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام بڑی رکاوٹ نہیں۔ اصل رکاوٹ کچھ اور ہے۔ اس رکاوٹ کا تعلق مشرق وسطی سے بھی ہے اور امریکا سے بھی۔ ان چیزوں میں حزب اللہ اور حوثیوں جیسی وہ پراکسیز بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے ایران سے عرب دوستوں کو بھی تحفظات ہیں اور امریکا کو تو ہیں ہی۔ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ حزب اللہ اور حوثی ایران کی ریڈ لائن ہیں جن پر سمجھوتہ ممکن نہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ان پر سمجھوتہ ممکن نہیں تو پھر مستقل جنگ بندی بھی غیر یقینی ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل بیک وقت متحرک ہیں۔ پاکستان کی سول ملٹری قیادت کے ایک وقت میں متحرک ہونے کی ایک وجہ یہ ہے لیکن ان دوروں سے متصل قبل ایک واقعہ اور بھی ہوا ہے۔ پاکستانی فضائیہ سعودی عرب پہنچ گئی ہے جس نے مشرق وسطی میں طاقت کا ایک نیا توازن قائم کر دیا ہے۔ سعودی عرب میں پاکستان کا عسکری وجود ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت ہے جس کا تعلق مشرق وسطی میں استحکام سے غیر معمولی ہے۔ یہاں پاکستان کی عسکری موجودگی سعودی عرب کے دفاع کو ہی مضبوط نہیں بنا رہی، کچھ اور بھی یقینی بنا رہی ہے۔حزب اللہ وغیرہ سے سعودی عرب کو تحفظات ہیں جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کا ہدف صرف اسرائیل ہے۔ یہ مؤقف وزن رکھتا ہے لیکن مشرق وسطی میں نان اسٹیٹ ایکٹرز عدم استحکام کا ایک بڑا سبب ہیں۔ مستقل جنگ بندی کے راستے میںایک بڑی رکاوٹ یہ ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی موجودگی نے یہ رکاوٹ عملًا دور کر دی ہے لیکن اتنا کافی نہیں۔ اس کے لیے سیاسی سطح پر مکمل اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے حالیہ غیر ملکی دوروں کا تعلق اسی چیز سے ہے۔ گویا مشرق وسطی میں بھی نان اسٹیٹ ایکٹرز کا دور تمام ہونے کو ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اسٹریٹجک پیش رفت اور بھی ہونے والی ہے۔ اس کا تعلق قطر کی تجویز سے ہے۔ قطر نے تجویز پیش کی تھی کہ مشرق وسطی میں استحکام کے لیے پاکستان اور ترکیہ کو شامل کر کے ایک دفاعی اتحاد تشکیل دیا جائے۔ مستقل جنگ بندی اس اتحاد کی تمہید بن رہی ہے۔ اس دفاعی اتحاد میں سعودی عرب، دیگر عرب ممالک اور امکانی طور پر ایران بھی شامل ہو گا جس کی قیادت فطری طور پر پاکستان کرے گا۔ گویا پاکستان صرف تاریخ ساز جنگ بندی کو ہی یقینی نہیں بنا رہا ہے بلکہ ایشیا کی سپر پاور کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے بلکہ بہت حد تک بدل گئی ہے۔ اس تبدیلی میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ ایران امریکا معاہدہ بس چند قدم ہی دور دکھائی دیتا ہے لیکن اس اہم تاریخی واقعے کے ساتھ اب بھی بہت سا اگر مگر جڑا ہوا ہے جس سے خدشات جنم لیتے ہیں۔فیلڈ مارشل ایران گئے جہاں ان کی ایرانی قیادت سے غیر معمولی ملاقاتیں رہیں۔ ان ملاقاتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی۔ بحری راستہ کھل گیا۔ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی لیکن امریکی محاصرہ جاری رہا۔ محاصرہ صرف جاری نہیں رہا بلکہ ایران کو ماضی قریب کی طرح دھمکیاں بھی دی گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیا اس راستے سے کہ ایران کے تجارتی جہاز نہیں گزر سکتے۔ تیل بردار جہاز تو بالکل بھی نہیں۔ امید افزا ماحول میں یہ بات نا امیدی کی تھی۔ صرف نا امیدی کی نہیں تھی بلکہ برا شگون تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند کر دی۔مستقل امن کی راہ میں امریکی رویہ بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب اچھا نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کر کے پاکستان کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دیں۔ اس خرابے میں امید کا ایک پہلو اور تھا۔ لبنان میں جنگ بندی بھی ہو گئی لیکن نیتن یاہو کی نیت اب بھی اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ امریکا ایران مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہوتا ہے تو کیا لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ بھی اس میں شامل ہو گا، امریکا اور اسرائیلی کہتے ہیں کہ نہیں۔ یہ ایک اور برا شگون ہے مستقل امن کی راہ میں تیسری رکاوٹ ہے۔  اس کے باوجود دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطی واقعی بدل رہا ہے لیکن مکمل تبدیلی کی راہ میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں لیکن بھری اطلاع یہ ہے کہ مایوس بھری ان خبروں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان پس پردہ مکالمہ جاری ہے۔ یہ امید کی سب سے بڑی کرن ہے جو یقین دلاتی ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہو گا اور امن کا معاہدہ بھی، ان شاء اللہ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل