Loading
وفاقی دارالحکومت میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخلہ بند کر دیاگیا جبکہ جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کر دیا گیا جس کے باعث مسافر رل گئے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ریڈ زون میں داخلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے جبکہ نجی و سرکاری اسکولوں اور دفاتر کو ورک فرام ہوم کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی پابندیوں کے باعث جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر شہروں سے آنے اور جانے والے افراد دن بھر لاری اڈوں پر خوار ہوتے رہے اور متبادل سفری ذرائع تلاش کرتے رہے۔
بس سروس بند ہونے کے باعث بڑی تعداد میں مسافروں نے ریلوے اسٹیشنوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں ٹرینوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ کراچی سے پشاور جانے والی خیبر میل بھی تین گھنٹے تاخیر کا شکار رہی، تاہم اس کے باوجود مسافر طویل انتظار کرتے رہے۔
شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ عوامی سہولیات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ عام زندگی کم سے کم متاثر ہو۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل