Sunday, April 19, 2026
 

برگِ فیض!

 



اسلام آباد شہر سے اندازاً کوئی پچیس تیس کلومیٹر کے فاصلے پر خوبصورت پہاڑوں کے درمیان ایک انتہائی منظم رہائشی کالونی ہے، یہاں تک پہنچنے کا راستہ بارہ کہو سے مڑ کرایک مصروف سڑک کے ذریعے طے پاتا ہے۔اظہر چوہدری ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں منتقل ہو گیا۔دو تین بار اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، اس رہائشی کالونی میں سو کے قریب خاندان قیام پذیر ہیں۔ میں پہلی بار جب گیا تو ایسے لگا کہ ایک انجان سے علاقے میں آ چکا ہوں ، یہاں کا ماحول کافی آدم بیزار نظر آتا تھا۔رہنے والے بھی ایسے ہی لگے کہ وہ شور ‘ گاڑیوں کی بے ہنگم ٹریفک اور انسانوں کے سیلاب سے بچ کر ‘ ایک محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں۔ویسے تو میں اور اظہر چوہدری لائل پور‘ یعنی فیصل آباد کے پیدائشی باشندے ہیں۔ البتہ اب اس مٹی سے واسطہ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ والدین کی قبریں وہ غمگین جگہیں ہیں جن کی بدولت آج بھی مجھے لائل پور سے عشق ہے۔ آج سے دوسال قبل اظہر چوہدری کا فون آیا کہ خیبر پختونخواہ کا ایک علاقہ ہے جس کا نام بونیر ہے ۔ کیا وہاں کسی قسم کی کوئی واقفیت ہے ؟ ذہن کے آخری حصے میں بھی بونیر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ابھر سکا ۔ مگر اجنبی سے سوال کا مقصد پوچھنا ضروری لگا۔جواب سن کر ایک جہان حیرت کھل گیا ۔ بتانے لگا کہ اس کی اہلیہ نے اسلام آباد سے بونیر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ وہاں ایک قدرتی آفت سے متاثرہ لوگ مصیبت میں ہیں۔ کہنے لگا کہ اہلیہ نے عام لوگوں کے لیے راشن سے لے کر کپڑے اور ہر طرح کی ضروریات کا سامان اکٹھا کررکھا ہے ۔ اس میں کسی قسم کی حکومت کی معاونت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ ناہید صاحبہ نے یہ تمام اہتمام اپنی گرہِ خاص اور نزدیکی دوستوں کے تعاون سے برپا کیا ہے ۔ جن میں سے اکثریت اسی ویران آبادی میں مقیم ہے ۔ جب بیگم صاحبہ سے خود بات کی اور انھوں نے امدادی سامان کی تفصیل بتائی ‘توششدر رہ گیا۔ اس کے بعد کئی منٹ خاموشی کے ساتھ کرسی پر بیٹھا رہا۔ سازو سامان میری توقع سے بھی کافی بڑھ کر تھا ۔ خیر کیونکہ بونیر میں نے کبھی کام نہیں کیا تھا لہٰذا اظہر اور ان کی اہلیہ کو کچھ بھی نہ بتا پایا۔ صرف یہ مشورہ دیا کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ بہرحال اس معاملے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ دو تین ہفتے گزر گئے تو اظہر کا فون آیا ۔ معلوم ہوا کہ اہلیہ ناہید صاحبہ اور ان کی چند سہیلیاں ‘ ٹرک میں پورا سامان لاد کر بونیر لے گئیں ۔ وہاں بغیر کسی مقامی مدد کے مستحق پناہ گزین لوگوں تک پہنچیں ۔ ان کو مکمل سامان دے دیا۔بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ ان نیک خواتین نے ہر خاندان کو اپنی جیب سے پیسے بھی دیئے تاکہ زندگی کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے ۔یہ تمام کام انھوں نے صرف اور صرف ذاتی حیثیت میں کیا تھا۔ساتھ ساتھ کسی بھی مدد لینے والے خاندان کی عزت نفس کو مجروح نا ہونے دیا۔ میرے لیے تمام حقائق بہت برگزیدہ تھے۔ کیونکہ میں اور میرا خاندان ‘ اپنے معمولی سے وسائل کے ذریعے امدادی کام کرنے کی کوشش میں مصروف کار رہتا ہے۔ اظہر کے خاندان اور میرے خانوادے کی ایک قدر مشترک ہے کہ ہم لوگ اپنے کسی بھی سماجی کام کی تشہیر نہیں ہونے دیتے ۔ یہ بات مجبوراً اس لیے بتانی پڑ رہی ہے کہ میں بیگم اظہر کے کام کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔ چند ماہ پہلے اظہر لاہور میں میرے دفتر آیا تو پہلی بار اس موضوع پر تفصیل سے بات ہوئی ۔ان کی اہلیہ یعنی ناہید صاحبہ نے ایک فلاحی تنظیم ترتیب دی ہے جس کا نام برگِ فیض ہے ۔یہ اپنے اور اپنے خیر خواہوں کے تعاون سے حد درجے اعلیٰ خدمت کیے جا رہی ہے۔ ذرا بات آگے سنیئے ۔ جس کالونی میں وہ رہائشی پزیر ہے، اس میں تعمیرات ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن وہاں کے مزدوروں اور سیکیورٹی گارڈز کے لیے کھانے کا کوئی معقول انتظام نہیں تھا۔ اظہر اور ان کی اہلیہ نے مل کر مقامی مارکیٹ کے برآمدے میں عام لوگوں کے لیے کھانے کی فراہمی شروع کر دی ۔ اس مختصر سی مارکیٹ میں ایک چھوٹا سا ہوٹل ہے ۔ اس سے معاہدہ کر لیا گیا کہ روز مارکیٹ کے برآمدے میں لوگوں کو مفت کھانا کھلائیںگے جس کے اخراجات ناہید صاحبہ اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد برداشت کریں گے۔ کھانے کی تصاویر دیکھ کر حیران ہو گیا۔ کیونکہ سو کے لگ بھگ بندے روز دوپہر کا کھانا بڑے سلیقے سے کھاتے نظر آ رہے تھے۔ جیسے جیسے اس نیک کام کی خوشبو عام لوگوں تک پھیلنے لگی تو کھانا کھانے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔ برآمدے کی جگہ کم پڑ گئی ۔ چنانچہ مارکیٹ کی چھت پر طعام کا سلسلہ منتقل کرنا پڑا۔ اظہر سے قطعاً نہیں پوچھا کہ چھت پر کتنے آدمی باعزت طریقے سے کھانا کھا رہے ہیں۔ لیکن گمان ہے کہ ان کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ جن میں مزدور ‘ گارڈ ‘ اور متعدد سفید پوش لوگ شامل ہیں ۔ یہ کام جس قرینے سے کیا جا رہا ہے ، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ بیگم صاحبہ نے ایک اور اچھوتا کام کر کے اچھائی کے قافلے کو ترویج دی ہے ۔ مقامی آبادی جس میں متمول حضرات رہتے ہیں ۔ ان سے استعمال شدہ کپڑے اور چیزیں اکٹھی کر لیتی ہیں۔ پھر اسے ایک چھوٹا سا بازار لگا کر عام لوگوں میں معمولی سی قیمت یا مفت تقسیم کر دیتی ہیں۔ ان پیسوں سے دستر خوان مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ ایک بات بتانا بھول گیا کہ ناہید اظہر صاحبہ بڑا طویل عرصہ ہوم اکنامکس کالج لاہور میں تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہیں۔ ذہن میں سوال تھا کہ اس نیک کام کو شروع کیسے کیا گیا؟ جواب یہ ہے کہ ڈاکٹرناہید اور ان کی چند رفقائے کار نے 2024ء میں ایک سو پچیس ضرورت مند خاندانوں کو رمضان پیکیج کے نام پر راشن ‘ عید کے کپڑے اور بچوں کے کھلونے تقسیم کیے تھے۔ یہ بذات خود ایک احسن قدم ہے ۔ مگر جب کوئی بھی انسان نیک کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو خدا راستے کھولتے چلا جاتا ہے۔ 2025ء میں برگِ فیض کا قیام کیا گیا۔ اور اس کے زیر اہتمام انھی خواتین نے انکریج فارمز میں سحری کا انتظام کر ڈالا ۔ جس میں اس آبادی کے تمام مستحق لوگ روزہ رکھنے کے لیے سحری کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ پچھلے سال رمضان ہی میں مزدوروں ‘ مالیوں اور مقامی گارڈز کے لیے عیدی کا انتظام بھی کر دیا۔ اسی اثنا ء میں ناہید صاحبہ کے ذہن میں خدا نے یہ خیال ڈالا کہ عام لوگوں کو کھانا کھلانا صرف رمضان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سلسلہ سارا سال جاری و ساری ہونا چاہیے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ابتداء میں جس مارکیٹ کی چھت پر لوگوں کے لیے کھانے کے اہتمام کا ذکر کیا ہے ۔ اس کی داغ بیل اس سحری کے انتظام سے نکلی ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے اب یہ معاملہ صرف مخلوق کے لیے کھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی کئی جہتیں سامنے آ چکی ہیں۔ برگِ فیض‘ ان مریضوں کے لیے جو علاج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں ‘انھیں مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ ساتھ ساتھ یتیم بچیوں کے گھر بسانے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ مستحق بچوں کے لیے تعلیمی کتابیں ‘ اسکول کی فیسیں اور بستے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ اگر کسی سفید پوش خاندان کو اپنی چھت بنانے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو یہ تنظیم ان کی مالی امداد بھی کرتی ہے۔اب آپ خود بتائیے کہ بونیر کے مستحق لوگوں سے شروع ہوا کام کس طرح خدا کی مدد سے بڑھتا چلا جا رہاہے ۔ اب تو ناہید اظہر صاحبہ کی ایک منظم ٹیم بن چکی ہے۔ان کا ارادہ ہے کہ لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کا بوجھ ‘ ذاتی ہنر کی بدولت آسانی سے اٹھا سکیں ۔ یہاں ضرور کہوں گا کہ برگ فیض نے حکومت یا کسی بھی حکومتی ادارے سے کبھی رابطہ نہیں کیا ۔انھوں نے کبھی کسی سے مالی امداد کی درخواست نہیں کی ۔ بیگم ناہید اظہر نے ثابت کیا کہ انسانی خدمت صرف اور صرف جذبے کی محتاج ہوتی ہے۔ اگر خدمت کا جذبہ ذہن میں موجزن ہو تو پھر ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دست غیب سے مدد حیران کن طریقے سے سامنے آ جاتی ہے۔  علم ہے کہ جب اظہر اور بیگم صاحبہ میرا یہ کالم پڑھیں گے تو شاید ناراض ہو جائیں ۔ کیونکہ وہ اپنے کام کی تشہیر نہیں کرنا چاہتے ۔ مگر ان کی ناراضگی سے قطعاً خائف نہیں ہوں۔ چاہتا ہوںکہ آپ ‘اپنی اپنی سطح پر برگِ فیض کی طرز پر ہر وہ فلاحی کام کرنے کی کوشش کریں جن سے لوگوں کے مسائل قدرے کم ہوجائیں۔یہ ضرور کہوں گا کہ اسلام آباد کے لوگوں کو کم از کم اس نجی تنظیم کے فلاحی کام کو خود جا کر دیکھنا چاہیے۔ اگر انھیں یقین ہو جائے کہ یہ تنظیم خدا کی راہ میں کسی صلے کے بغیر تن تنہا کام کر رہی ہے‘ تو پھر برگِ فیض کے منتظمین کا ہاتھ تھام لینا چاہیے تاکہ اس فلاحی کام کے دائرے کو وسعت دی جا سکے۔ ان کی استطاعت اتنی مضبوط ہوجائے کہ یہ لوگ نیکیوں کا سفر ہمیشہ جاری و ساری رکھ سکیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل