Thursday, April 30, 2026
 

ریلیف پیکیج

 



حکومت نے ایک مرتبہ پھر پٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 330 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق 25 اپریل سے کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس مرتبہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں غیر معمولی طور پر بڑا اضافہ کیا ہے۔ پٹرول پر لیوی کی شرح 80 روپے 61 پیسے تھی جس میں یکدم 26 روپے 77 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ اب لیوی کی مجموعی شرح 107 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ لیوی میں اضافے کا فیصلہ حکومتی ریونیو کو بڑھانے اور مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جب بھی نیا اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی میں بھی تیزی سے اضافہ ہونے لگتا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور سفری کرایوں میں بھی ٹرانسپورٹرز من مانا اضافہ کر دیتے ہیں۔ امریکا ایران جنگ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کی جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 2 فی صد اضافہ ہو گیا ہے جو بڑھ کر اب 13.88 فی صد ہو گئی ہے۔ حکومت بڑے دھڑلے سے دعوے کرتی تھی کہ وہ مہنگائی کی شرح کو سنگل ڈیجٹ میں لے کر آئیں گے لیکن یہاں تو تین سال ہونے والے ہیں مہنگائی تو کیا کم ہوتی الٹا اس کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ملک میں غربت کا گراف بھی اوپر جا رہا ہے۔ لوگ بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہو کر خودکشی جیسا اقدام کر رہے ہیں، کہیں گھروں میں لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں اور پڑھے لکھے نوجوان بھی بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر جرائم کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں جو اپنے خوابوں میں خوشیوں کے رنگ بھرنا چاہتے ہیں وہ ماں باپ کی جمع پونجی کو فراڈی ایجنٹوں کے ہاتھوں میں رکھ کر ملک سے باہر جا کر کمانے کا خواب سجائے کشتیوں میں ڈوب کر اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ صلاحیتوں سے مالا مال نوجوانوں کی کریم ملک سے باہر جا کر مافیا کا تر نوالہ بن رہی ہے لیکن حکومت کو کوئی فکر اور احساس نہیں۔ ابھی کچھ روز پیش تر صومالیہ کے قریب بحری قذاقوں نے ’’اونر 25‘‘ نامی جہاز کو اغوا کر لیا جس پر متعدد پاکستانی بھی سوار تھے۔ متاثرین کے اہل خانہ کے مطابق بحری قذاق رہائی کے بدلے لاکھوں ڈالر تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے پیاروں کی رہائی کے لیے تعاون فراہم کرے۔ امید ہے کہ ان کی جلد رہائی ممکن ہو سکے گی۔  عوام کو ان کے بنیادی آئینی حقوق فراہم کرنا حکومت وقت کی آئینی ذمے داری ہوتی ہے۔ باعزت روزگار محفوظ رہائش، اچھی تعلیم اور طبی سہولیات ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ بدقسمتی یہ کہ برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ملک کے ہر شہری کو ان کے جملہ آئینی حقوق، تمام تر دعوؤں اور وعدوں کے باوجود فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نتیجتاً آج ملک میں غربت، بے روزگاری، مہنگائی، بیماری اور جہالت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں 24 کروڑ کی آبادی میں غربت کی شرح 28.9 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی تقریباً 6 کروڑ 94 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ملک میں سب سے زیادہ غربت کا شکار صوبہ بلوچستان ہے جہاں غربت کی شرح تقریباً 47 فی صد ہے اس کے بعد دوسرا نمبر خیبرپختونخوا کا ہے جہاں غربت کی شرح 35.3 فی صد ہے۔ سندھ میں 32.3 فی صد اور پنجاب میں غربت کی شرح 23.3 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ دیہات میں غربت کی شرح 36.2 فی صد جب کہ شہروں میں یہ شرح 17.4 فی صد ہو گئی ہے۔ حکومت دعوؤں اور وعدوں کے باوجود غربت میں کمی کے اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔ غربت کے باعث ہزاروں خاندان اپنے کم عمر بچوں کو مختلف کاموں پر لگا دیتے ہیں تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ یوں وہ بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پانچ کروڑ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے ان کا غربت و تنگ دستی کی پاتال میں گم ہو جانا ملک کا عام شہری طبی سہولیات سے بھی محروم ہے۔ وزیر پٹرولیم کے تازہ اشاریے کے مطابق اگر آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے تک لیوی عائد کی جا سکتی ہے۔ گویا مزدوروں کے عالمی دن یوم مئی کے موقع پر عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرایا جائے گا۔ حکومت طبقہ اشرافیہ پر بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنے اخراجات پورے کرنے اور شاہ خرچیوں کے لیے غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالتی ہے جو سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ یوم مئی کی نسبت سے حکومت عوام کے لیے ’’ریلیف پیکیج‘‘ کا اعلان کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل