Thursday, April 30, 2026
 

اسلام محنت کشوں کے حقوق کا ضامن

 



یکم مئی کو پوری دنیا میں محنت کشوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ویسے تو سال کے تمام دن ہی محنت کشوں کے ہوتے ہیں کیونکہ وہ جہد مسلسل اور مشقت میں مصروف رہتے ہیں مگر یہ دن خصوصی طور پر ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ اسی نسبت سے آج کا یہ کالم دنیا کے تمام محنت کشوں کے نام کرتے ہیں۔ یوم مزدور صرف مخصوص دن ایک علامتی تاریخ نہیں بلکہ اْن کروڑوں محنت کشوں کی جدوجہد، قربانیوں اور خدمات کا اعتراف ہے جو اپنے پسینے سے معیشت کا پہیہ رواں رکھتے ہیں تاہم اس موقع پر صرف حقوق کی بات کرنا کافی نہیں بلکہ اس امر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ محنت، دیانت اور حلال کمائی کے اسلامی اصولوں پر کس حد تک کاربند ہیں۔ اسلام نے محنت کو عزت و تکریم کا درجہ دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں واضح طور پر انسان کو زمین میں پھیل کر رزق تلاش کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جب کہ نبی کریم ﷺ نے حلال روزی کے حصول کو بنیادی فرائض کے بعد ایک اہم ذمے داری قرار دیا۔ یہ تعلیمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ اسلام میں محنت محض معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک عبادت ہے بشرطیکہ وہ حلال اور دیانت دارانہ ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کمائی کے ذرائع میں حلال و حرام کی تمیز دھندلا رہی ہے۔ رشوت، دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور جھوٹ جیسے عوامل نہ صرف معیشت کو کھوکھلا کر رہے ہیں بلکہ معاشرتی اخلاقیات کو بھی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں حالانکہ اسلامی تعلیمات میں واضح طور پر ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے کھانے سے منع کیا گیا ہے اور دیانت کو تجارت اور مزدوری دونوں کا بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پوری دنیا بحیثیت مجموعی اور خصوصاً مسلمان ممالک میں محنت کشوں کو اُن کے جائز حق دینے میں بخل اور کوتاہی برتی جاتی ہیں۔ غیر منصفانہ اجرت میں تاخیر، کم معاوضہ اور غیر محفوظ کام کے حالات جیسے مسائل آج بھی مزدور طبقے کا مقدر بنے ہوئے ہیں۔ ہم اگرتاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک ایسا سنہرا دور بھی نظر آتا ہے جب محنت کش کو صرف ایک ورکر نہیں بلکہ معاشرے کا معزز ستون سمجھا جاتا تھا۔ یہ خلفائے راشدین کادور تھا۔ جس نے عملی طور پر ثابت کیا کہ اسلام نے محنت کو عبادت کا درجہ دیا اور مزدور کو عزت بخشی۔ حضرت محمد ﷺ کی یہ تعلیم کہ مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ محض ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی ضابطہ ہے۔ خلفائے راشدین نے اس اصول کو نہ صرف اپنایا بلکہ اسے ریاستی سطح پر نافذ بھی کیا۔ خلیفہ بلا فصل امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں سادگی اور مساوات کی بنیاد رکھی گئی مگر اس نظام کو حقیقی وسعت خلیفہ دوم امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں ملی۔ آپؓ کا دور گویا فلاحی ریاست کی عملی تصویر تھا۔ بیت المال کا قیام، وظائف کی منصفانہ تقسیم، اور عام آدمی کی ضروریات کا خیال، یہ سب اقدامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں، خصوصاً محنت کش طبقے کی ذمے دار تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ رات کے اندھیرے میں گشت کیا کرتے تھے تاکہ خود دیکھ سکیں کہ کہیں کوئی بھوکا تو نہیں سو رہا۔ یہ وہ حکمران تھے جن کے نزدیک ایک مزدور کا بھوکا سونا بھی ریاست کی ناکامی تھی۔ آج کے حکمرانوں کے لیے اس میں ایک واضح پیغام موجود ہے۔ اسی طرح خلیفہ سوم امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفانؓ اورخلیفہ چہارم امیرالمومنین حضرت علی المرتضیؓ کے ادوار میں بھی مزدور کے حق کو ایک امانت سمجھا گیا، جس میں کوتاہی کو اخلاقی اور دینی جرم تصور کیا جاتا تھا۔ یہ حکمران خود بھی اس اصول پر عمل کرتے اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافتِ راشدہ میں مزدور کو نہ صرف اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملتا تھا بلکہ عزت و وقار بھی حاصل تھا۔ اجرت کی فوری ادائیگی نے معاشرے میں اعتماد، انصاف اور خوشحالی کو فروغ دیا، اور یہی وہ ماڈل ہے جسے آج کے دور میں اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علیؓ نے اپنے گورنروں کو ہدایت دی کہ مزدوروں اور کمزور طبقات کے ساتھ نرمی، انصاف اور احترام کا برتاؤ کیا جائے۔ آپؓ کے خطوط میں انسانی حقوق کا جو تصور ملتا ہے، وہ آج کے جدید آئینوں سے کسی طور کم نہیں۔ خلافتِ راشدہ میں جبری مشقت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ مزدور کی مرضی، اس کی عزتِ نفس اور اس کے حقوق کو مقدم رکھا جاتا تھا۔ اگر کوئی مزدور کمزور ہو جاتا یا بڑھاپے کی وجہ سے کام کے قابل نہ رہتا تو بیت المال اس کا سہارا بنتا۔ گویا ریاست ماں کی طرح اپنے کمزور شہریوں کی کفالت کرتی تھی۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو مزدور اب بھی مسائل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ کہیں اجرت بروقت نہیں ملتی، کہیں کام کے اوقات غیر انسانی ہیں اور کہیں اس کی محنت کا صلہ اس کی ضرورت سے کہیں کم ہے۔ ایسے میں خلافتِ راشدہ کا ماڈل ہمارے لیے محض ایک تاریخی باب نہیں بلکہ ایک زندہ مثال ہے جس سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ یومِ مزدور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ مزدور کا احترام صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے۔ ایک منصفانہ نظام، بروقت اجرت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک سچا مزدور وہی ہے جو نہ صرف محنتی ہو بلکہ امانت دار بھی ہو اور ایک منصف آجر وہ ہے جو اپنے ماتحتوں کے حقوق مکمل طور پر ادا کرے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں دیانت دار تاجر اور مزدور کو بلند مقام دیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اخلاقی اصولوں کی پاسداری کس قدر اہم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محنت کش کو محض ایک وسیلہ نہ سمجھیں بلکہ ایک انسان کے طور پر اس کے حقوق، عزت اور ضروریات کو تسلیم کریں کیونکہ جس معاشرے میں مزدور خوشحال ہو، وہی معاشرہ حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ یومِ مزدور کے موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض تقاریب اور بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ کیا ہم اپنی کمائی کو حلال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم دیانت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا رہے ہیں؟ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، منصف اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں محنت کے ساتھ دیانت اور حلال رزق کے اصول کو اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف معاشی استحکام کی ضمانت دیتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ یومِ مزدور کا اصل پیغام یہی ہے کہ محنت کو عزت دی جائے، مزدور کو حق دیا جائے اور کمائی کو حلال بنایا جائے۔ کیونکہ یہی ایک مہذب اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل