Loading
مقبوضہ مشرقی Jerusalem کے علاقے Shuafat Refugee Camp میں ایک فلسطینی نوجوان کی مبینہ گرفتاری اور تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے انسانی حقوق کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسرائیلی صحافی Nurit Yohanan کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار ایک نوجوان کا پیچھا کر کے اسے گرفتار کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گرفتار کیے جانے والے نوجوان کی شناخت Mahdi al-Arabi کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر ڈاؤن سنڈروم جیسے خصوصی ذہنی عارضے کا شکار ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کارروائی میں شامل اہلکار غالباً اسرائیلی Border Police سے تعلق رکھتے تھے، جو مشرقی یروشلم میں باقاعدگی سے سیکیورٹی آپریشنز کرتے ہیں۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر اہلکاروں کو نوجوان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں۔
واقعے کے بعد انسانی حقوق کے حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر اس پہلو پر کہ ایک خصوصی ضرورت رکھنے والے نوجوان کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک کیا گیا۔
تاحال Border Police کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف یا وضاحت سامنے نہیں آئی، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ویڈیو اور دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے، اور اس طرح کے واقعات خطے میں مزید تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل