Loading
ایران کی پارلیمان کے نائب اسپیکر علی نکزاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا فطری حق ہے اور اپنے اس مؤقف پر پوری مضبوطی سے قائم ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی نائب اسپیکر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کسی بین الاقوامی راستے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا کیوں کہ یہ صرف ایران کے اختیار میں آتی ہے۔
علی نکزاد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز اپنے مکمل کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ہمارا جائز ہے اور ہم اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا بھر میں تیل کی بڑی مقدار میں ترسیل ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کی بندش نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے بھی آبنائے ہرمز پر ایرانی بندرگاہوں اور وہاں جانے اور آنے والے تجارتی جہازوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
ایران اس ناکہ بندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جب کہ امریکا کی شرط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرے اور یہیں پر جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل