Sunday, May 03, 2026
 

نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے، ایرانی سفیر رضا امیری مقدم

 



اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران نے ایک نیا مذاکراتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے، تاہم اس میں پیشرفت کا انحصار امریکی رویے پر ہوگا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف اور مطالبات میں واضح اور شفاف ہے، اور اگر امریکا واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران قومی مفادات اور دفاعی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ رضا امیری مقدم کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے یہ نیا سفارتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے، اور موجودہ عمل میں پاکستان ایک مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کردار میں کسی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری ایران کے مؤقف کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، جبکہ امریکا کا رویہ غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران سفارتکاری کے راستے پر قائم ہے، لیکن مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار امریکا کے رویے پر ہے۔ ایرانی سفیر نے پاک-ایران تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرجاوہ بارڈر، تفتان بارڈر اور گبد ریمدان بارڈر تجارت کے لیے اہم راستے ہیں، اور پاکستان خطے میں تجارتی تنوع اور ایران کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل