Sunday, May 03, 2026
 

خیبرپختونخوا میں گڈگورننس محض نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، امیر جماعت اسلامی

 



جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے صوبائی حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی گڈ گورننس محض نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، گزشتہ 14 سال سے ایک ہی جماعت کے اقتدار میں ہونے کے باوجود یہاں کے عوام آج بھی صحت، تعلیم اور بنیادی حقوق جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحما نے خیبرپختونخوا کے علاقے اسٹیڈیم دیر بالا میں بدل دو نظام کے عنوان سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کے بجائے آؤٹ سورس کرنا حکمرانوں کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے اور صرف چار برسوں میں ملکی قرضہ 55 ہزار ارب روپے سے بڑھا کر 85 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی اور ظلم کا شکار ہیں جبکہ حکمران روزانہ تقریباً 20 ارب روپے کے مزید قرضے لے رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ 79 برسوں سے عوام کو نعروں اور جھنڈوں کے ذریعے دھوکا دیا جا رہا ہے جبکہ بیوروکریسی آج بھی انگریز دور کے غلامانہ نظام پر چل رہی ہے اور عوام کو اپنا محکوم سمجھتی ہے، ملک میں غریب کے لیے انصاف کا حصول خواب بن چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت فوری طور پر 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے، موٹر سائیکل سوار محنت کش 153 روپے فی لیٹر ٹیکس ادا کر کے آئی پی پیز مافیا کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جبکہ بڑے جاگیردار ٹیکس چھوٹ حاصل کر کے ایک دوسرے کا تحفظ کر رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کو ایک دوسرے کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ دراصل حکومتی ناکامی کا اعتراف ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر امیر و غریب کے لیے الگ تعلیمی نظام ختم کرے گی اور خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حق دلائے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کوجماعت اسلامی کے ساتھ چلنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں 50 لاکھ ممبرز اور 50 ہزار عوامی کمیٹیاں قائم کر کے اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل