Sunday, May 03, 2026
 

آبنائے ہرمز سے اٹھتا ہوا طوفان

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور اب تک ایران نے اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔ دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں امن مذاکرات کے لیے شرائط نرم کردی ہیں اور مزید مذاکرات سے پہلے امریکا سے ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ترک کر دیا ہے، تاہم، مذاکرات کے نئے دور کے لیے ابھی تک کسی وقت پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔ عالمی تیل تنظیم اوپیک پلس کے سات رکن ممالک اہم اجلاس میں تیل کی پیداوار کے نئے اہداف طے کرنے جارہے ہیں۔ اجلاس میں شامل سات ممالک یومیہ تیل کی پیداوار میں تقریباً 188,000 بیرل اضافہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو متوازن رکھنا ہے۔  امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا حالیہ مرحلہ عالمی سیاست کے ایک ایسے موڑ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں طاقت، معیشت، سفارت کاری اور علاقائی مفادات ایک دوسرے میں اس قدر گتھم گتھا ہو چکے ہیں کہ کسی ایک پہلو کو الگ کر کے سمجھنا ممکن نہیں رہا۔ یہ تنازع محض دو ریاستوں کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیو اسٹرٹیجک کشمکش ہے جس کے اثرات عالمی نظام، توانائی کی منڈیوں، سلامتی کے ڈھانچے اور ترقی پذیر ممالک کی داخلی معیشتوں تک پھیل چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کے اشارے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ واشنگٹن ایک مرتبہ پھر دباؤ کی سیاست کو اپنی مرکزی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جب کہ ایران کی جانب سے بیک وقت مزاحمت اور مشروط لچک کا اظہار ایک پیچیدہ سفارتی توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی موقف میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، دوسری جانب عسکری دباؤ بڑھانے اور ایران کو مزید قیمت چکانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یہ دہری حکمت عملی دراصل امریکا کی اس روایتی پالیسی کا تسلسل ہے جس میں’’پریشر اینڈ نیگوشی ایشن ‘‘کو بیک وقت استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مخالف فریق کو کمزور کر کے مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط منوانے پر مجبور کیا جا سکے۔ تاہم، اس حکمت عملی کی کامیابی ہمیشہ یقینی نہیں رہی، خصوصاً ایسے فریق کے مقابلے میں جو داخلی طور پر مزاحمتی بیانیے کو مضبوط رکھتا ہو اور جس کے لیے خودمختاری ایک بنیادی اصول ہو۔ ایران اسی نوعیت کا فریق ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں اقتصادی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور عسکری دباؤ کے باوجود اپنے پالیسی اہداف سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ایران کی حالیہ سفارتی پیشکش، جس میں اس نے مذاکرات کے لیے اپنی پیشگی شرائط میں نرمی دکھائی ہے، ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور فوری طور پر جوہری پروگرام کے مسئلے کو مؤخر کرنے کی تجویز اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ تہران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ تاہم، اس پیشکش کے ساتھ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ طویل المدتی مذاکرات میں اس کے بنیادی مطالبات، جیسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق، شامل رہیں گے۔ یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران وقتی لچک تو دکھا سکتا ہے لیکن اپنے اسٹرٹیجک مفادات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس تنازع کا سب سے حساس اور اہم پہلو بن چکی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے توانائی کی سپلائی لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہ راست عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ میں نقل و حرکت پر پابندیاں، جہازوں کے راستے تبدیل کیے جانے اور نئے بحری قوانین کے نفاذ نے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایران کی جانب سے مخصوص جہازوں کو روکنے یا اجازت کے نظام کو سخت کرنے کے اقدامات، اور امریکا کی جانب سے ’’دوستانہ ناکہ بندی‘‘کی اصطلاح کا استعمال، دراصل ایک ایسی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں دونوں فریق اپنے اپنے طریقے سے اس اسٹرٹیجک مقام پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کشیدگی کے فوری اثرات عالمی معیشت پر نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ترسیل کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل نے مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی اقتصادی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں درآمدی تیل معیشت کا ایک اہم جزو ہے، قیمتوں میں اضافے کا مطلب براہ راست مہنگائی، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور عوامی سطح پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور تجارتی خسارے میں اضافہ بھی ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ یورپ بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہا۔ امریکا کی جانب سے اپنے اتحادیوں کو اسلحے کی ترسیل میں تاخیر کا انتباہ اور جرمنی سے فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ جنگی صورتحال نے مغربی اتحاد کے اندر بھی دراڑیں پیدا کر دی ہیں۔ یورپی ممالک کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے جہاں انھیں اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنی پڑ رہی ہے۔ نیٹو کے اندر بڑھتی ہوئی تشویش اور دفاعی خودمختاری کی ضرورت پر زور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سلامتی کا روایتی ڈھانچہ تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔توانائی کے شعبے میں بھی اس تنازع نے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد میں اختلافات اور بعض اہم ممالک کی علیحدگی اس بات کا اشارہ ہے کہ توانائی کی سیاست مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ تیل کی پیداوار میں اضافے یا کمی کے فیصلے اب صرف معاشی بنیادوں پر نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی عوامل کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کی صورت میں نکل رہا ہے، جہاں قیمتوں کا تعین روایتی سپلائی اور ڈیمانڈ کے اصولوں کے بجائے سیاسی حالات سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان بداعتمادی اس تنازع کی جڑ میں موجود سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ماضی کے معاہدوں سے امریکی انخلا اور ایران پر مسلسل پابندیوں نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں کسی بھی نئی پیشکش یا مذاکراتی عمل پر مکمل اعتماد قائم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بیک وقت مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار رہنے کی بات کر رہا ہے۔ یہ حکمت عملی ایک طرح سے دفاعی توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکے یا اچانک حملے کی صورت میں وہ خود کو غیر محفوظ نہ پائے۔عالمی برادری کے دیگر اہم کھلاڑی، جیسے چین، روس اور یورپی یونین، بھی اس بحران کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چین، جو توانائی کا ایک بڑا صارف ہے، آبنائے ہرمز میں استحکام کا خواہاں ہے، جب کہ روس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ یورپی یونین، جو پہلے ہی ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششوں میں شامل رہی ہے، ایک بار پھر سفارتی حل کے لیے متحرک ہو سکتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات سائبر اسپیس، معیشت اور اطلاعاتی جنگ تک پھیل جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ تصادم بھی اسی نوعیت کا ہو سکتا ہے، جہاں روایتی عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سائبر حملے، اقتصادی پابندیاں اور پراکسی جنگیں شامل ہوں گی۔ اس طرح کی جنگ نہ صرف طویل ہو سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات زیادہ پیچیدہ اور دیرپا بھی ہو سکتے ہیں۔اس تمام صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کیا واقعی جنگ ایک قابل عمل حل ہے؟ تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جنگیں عموماً مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی جنگ اس خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔پاکستان سمیت دیگر ممالک کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو ضایع نہ ہونے دیں اور فعال سفارت کاری کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کریں۔ یہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی امن کا مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ میڈیا، دانشوروں اور پالیسی سازوں کو بھی ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے بیانیے کو فروغ دینا چاہیے جو امن، استحکام اور مکالمے کی حمایت کرے۔ آخرکار، دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں باہمی انحصار بڑھ چکا ہے۔ کسی ایک خطے میں بحران پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے، جیسا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے واضح ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں اپنی پالیسیوں میں ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ایک امتحان ہے، نہ صرف ان دونوں ممالک کے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے، کہ آیا وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک پرامن اور پائیدار حل کی طرف بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل