Sunday, May 03, 2026
 

ایران جنگ اور ٹرمپ کی مشکلات

 



امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں صدرڈونلڈ ٹرمپ کو صرف عسکری نہیں بلکہ امریکا کے اندر قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہو سکتا ہے ۔ امریکا کے جنگی قانون ’’وار پاور ریزولیشن‘‘ کے مطابق صدر بغیر کانگریس کی منظوری کے صرف 60دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ مدت 2مارچ 2026کو کانگریس کو باضابطہ اطلاع دینے کے بعد شروع ہوئی، اس کے بعد صدر ٹرمپ کو لازماً کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔ امریکا کے آئین اور قانون کے مطابق صدر کے پاس چار راستے ہیں ۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ امریکی کانگریس سے جنگ کی منظوری حاصل کریں ۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ جنگ کی صورت حال جیسی بھی ہے امریکی صدر خلیج سے فوجی انخلا شروع کرا دیں ۔ تیسراراستہ یوں ہے کہ محدود 30روزہ توسیع لیں جو صرف فوج کے انخلاء کے لیے ہے جنگ کے لیے نہیں ،چوتھا راستہ یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ قانون کو نظر انداز کریںاور جنگ کو جاری رکھیں تاہم ہر آپشن اپنے ساتھ سیاسی اور آئینی خطرات رکھتا ہے۔ ڈیموکریٹک ارکان کانگریس پہلے ہی اس جنگ کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں جس پرصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں غدار تک قرار دیا ہے ۔ذرا سوچیں کہ امریکا جیسی جمہوریت میں کوئی صدر اپوزیشن پارٹی کے لیے ایسی زبان استعمال کر سکتا ہے‘ماضی میں تو ایسا نہیں ہوا۔البتہ صدر ٹرمپ نے ماضی کی اس جمہوری روایت کو توڑ دیا ہے۔ یہ تو تیسری دنیا کے لیڈروں کی زبان لگتی ہے ۔امریکی جمہوریت کو یہ کیا ہو گیا ہے ۔ شاید پوری دنیا میں جمہوری کلچر تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکا کے ڈیمو کریٹس ارکان کانگریس نے وار پاور ریزولیشن کے تحت جنگ ختم کرنے یا محدود کرنے کی پانچ بار کوشش کی ہے۔ مارچ، اپریل 2026 میں ہر بار سینیٹ میں ووٹ پارٹی لائنز پر ہوا دوسری طرف ری پبلکین پارٹی جو اکثر صدر ڈونلڈٹرمپ کا دفاع کرتی رہی ہے ، 60دن کی حد کے بعد تقسیم کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے ۔امریکی کانگریس کی مجموعی ساخت کے مطابق ایوان نمائندگان کی 435نشستیں اور سینیٹ میں 100 نشستیں ہیں یعنی کل 535ارکان ۔ کسی بھی بڑی جنگ کی منظوری کے لیے ارکان کانگریس کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔یعنی ایوان نمائندگان میں کم از کم 218اورسینیٹ میں 51ووٹ ۔ بظاہر ری پبلیکن اکثریت رکھتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے اندر مکمل اتفاق موجود نہیں ۔ چند اہم ری پبلیکن رہنما پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ 60دن کے بعد بغیر کانگریس منظوری کے جنگ کی حمایت نہیں کریں گے ۔ یہ صدر ٹرمپ کے لیے خاصی مشکل صورت حال ہے کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کے ارکان بھی مخالف ارکان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ عوامی سطح پر غیر مقبول ہوتی جارہی ہے ۔ 12میں سے 9افراد جنہوں نے گذشتہ الیکشن میں ٹرمپ کو ووٹ دیئے اب وہ اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں یاچاہتے ہیں کہ کم ازکم مزید جنگ جاری نہیںرہنی چاہیے۔امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ آنے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم پر سیاسی دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ہوسکتا ہے اس بار بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وار ریزولیشن کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں جیسے انھوں نے اپنے پہلے دور میں یمن جنگ ختم کرنے کی قرار داد کو ویٹو کرکے کیا تھا۔ایسا وہ کر سکتے ہیں لیکن اس کی سیاسی قیمت بہر حال انھیں ادا کرنی ہی پڑے گی۔ امریکا کے قومی سلامتی کے ایک سابق مشیر کے مطابق اس وقت ایران کی رجیم محتاط اور مرحلہ وار انداز میں سفارتی پیش رفت کر رہی ہے ۔اب تک وہ پاکستان کے ذریعے ثالثی عمل میں شامل رہی ہے اور اب سلطنت عمان اور روس کو بھی اس عمل میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان دیرینہ اور گہرے سفارتی تعلقات اس عمل میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ امریکا کے قومی سلامتی کے سابق مشیر نے کہا کہ7اپریل کو بحرین کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میںایک قرار داد پیش کی گئی تھی جس میں آبنائے ہرمز کو ہر ممکن طریقے کے تحت کلیئر کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاہم چین اور روس نے اس قرار داد کو ویٹو کردیا تھا ۔ اس قرار داد میں By All Meansکے الفاظ استعمال کیے گئے تھے لیکن چین نے بھانپ لیا اس قرارداد کے منظور ہونے کا مطلب عسکری اور فوجی اپروول ہوجاتا ہے اور اس طرح امریکا آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے بہانے ایران کے اتنے قریب آجائے گا کہ وہ ایران میں زمینی کارروائی کر سکتا ہے ۔ چین کی اس سمجھداری نے دنیا کو اس خوفناک تیل کے ذخیروں کی تباہی اور بے پناہ قتل وغارت سے محفوظ کر لیا جس کا تصور کرنا بھی محال ہے ۔ قومی سلامتی کے سابق مشیر کے مطابق یہ پوری جنگ اسرائیل کو ہی Secureاور ان پاور کرنے کے لیے ہے تاکہ اسرائیل ، گریٹر اسرائیل میں اپنے آپ کو منتقل کر سکے ۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے طلباء سے خطاب کے دوران کہا کہ جنگ کے دوران امریکا کو شدید ذلت کا سامنا ہے ۔ جب کہ ایران توقع سے زیادہ مضبوط اور سفارتی سطح پر مہارت کا مظاہرہ کررہا ہے اور ایران کی سفارتی مہارت نے صورت حال بدل دی ہے ۔ لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ واشنگٹن کے پاس اس تنازعے سے نکلنے کا واضح راستہ نہیں اور یہ صورت حال ماضی کی عراق ، افغانستان جنگ جیسی طویل جنگوںمیں بدل سکتی ہے ۔ جرمنی یورپی یونین کا ایک طاقتور ملک ہے ‘اس کے چانسلر کا بیان صدر ٹرمپ کو خاصا ناگوار گزرا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر تنقید بھی کی ہے۔  11 مئی سے پہلے کوئی بھی بڑی انہونی ہو سکتی ہے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل