Sunday, May 03, 2026
 

آزمائش کا تحفہ

 



اس دن خوش قسمتی سے منی بس میں مجھے کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ مل گئی۔ دن بھر کی تھکن کے بعد بس کا انتظار اور پھر اس میں کھڑے ہو کر صدر سے ہوتے جامعہ کراچی تک جانا بھی نعمت تھا لیکن بیٹھ کر سفر کا اپنا لطف تھا۔ پونے دو روپے میں پونے دو گھنٹے کا سفر۔ اس طویل سفر میں سننے اور جاننے کے لیے ہزار طرح کی باتیں ہوتی تھیں۔ سیٹ پر بیٹھ کر میں نے اپنی عادت کے مطابق کتاب بیگ سے نکالی۔ اشفاق احمد مرحوم کا سفر نامہ ' سفر در سفر ' ایک ایسی کتاب ہے جسے پڑھنا شروع کریں تو ہاتھ سے رکھنے کو جی نہیں چاہتا لیکن کراچی کے مرطوب موسم کی مار کھائے جسم کو کھڑکی سے آنے والی ٹھنڈی ہوا نے سکون بخشا اور میں نے اس کا لطف لینے کے لیے آنکھیں موند لیں۔ اسی اثنا میں کچھ آوازیں میرے کانوں سے ٹکرائیں۔ دو افراد گفتگو میں مصروف تھے۔ ان میں ایک صاحب نوجوان تھے اور حلیے سے کسی مدرسے کے طالب علم لگتے تھے۔ دوسرے صاحب کسی دفتر کے بابو تھے۔ نک سک سے درست اور پڑھے لکھے۔ ان دونوں کے درمیان بات چیت کیسے شروع ہوئی، میں اندازہ کر سکتا ہوں۔ کراچی کی منی بسوں میں سفر کرنے والوں کی کئی قسمیں ہیں۔ دہاڑی دار مزدور جو جسمانی تھکن سے چور ہوتے ہیں، بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ بابو لوگ عام طور پر خاموش رہتے ہیں لیکن پڑوس میں خوش قسمتی سے کوئی ہم مزاج اور شائستہ مسافر بیٹھا ہو تو گھڑی دو گھڑی بات کر بھی لیتے ہیں۔ پچھلی نشست کے مسافروں میں کوئی قدر مشترک تو نہ تھی پھر بھی گفتگو ہو رہی تھی۔ اس کا سبب وہ مشنری جذبہ تھا جو کسی مذہبی فرقہ وارانہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے نوجوان میں ہو سکتا ہے۔ اس نوجوان نے اپنے ہم سفر کو مشورہ دیا کہ وہ قرآن حکیم کا مطالعہ کیا کریں۔ ہم سفر نے جواب دیا کہ وہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس تفسیر سے مدد لیں۔ نوجوان شاید ایسے ہی کسی جواب کا منتظر تھا۔ اس نے اپنے ایک بزرگ کے فضائل بیان کیے پھر مشورہ دیا کہ آپ ان کی تفسیر پڑھ لیں۔ دس بارہ جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ سن کر اس کا ہم سفر ٹھٹکا اور اس نے بات ختم کرنے کے لیے کہا کہ اتنا زیادہ مطالعے کے لیے میرے پاس وقت نہیں۔ یہ واقعہ مجھےGlad Tidings  کے مطالعے کے بعد یاد آیا۔ Glad Tidings قرآن حکیم کی25 سورتوں کی مختصر تفسیر اور تعارف ہے جو ایک طویل اور آزمائش کا حسین تحفہ ہے۔Glad Tidings کے مصنف میرے عزیز ترین دوست اور نیشنل سیکیورٹی کے بہت ہی پیچیدہ موضوع کے غیر معمولی ماہر ڈاکٹر نوید الہٰی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایوان صدر میں میرے ہم مزاج ساتھی اور رفیق کار رہے ہیں۔ ان دنوں وہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور کے ڈین ہیں۔ بارہ اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف کی coup کے وقت وہ انٹیلی جنس بیورو لاہور میں اہم منصب پر تعینات تھے۔ وہ اس روزِ نامسعود کو معمول کی سرگرمیاں نمٹانے کے بعد گھر پہنچے تو ایک ویگو ڈالا انھیں اٹھانے کے لیے آن پہنچا پھر اس کے بعد طویل عرصہ انھوں نے قید تنہائی میں گزارا۔ قید تنہائی کیا ہوتی ہے؟ کون ہے جو اس دکھ کا بیان فیض صاحب سے بڑھ کر کر سکے ؎ کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت بے خبر گزری، پریشانی امید لیے کچھ ایسا ہی تجربہ ڈاکٹر نوید الہٰی کا بھی ہے۔ نہ کوئی ملنے والا، نہ کوئی بات کرنے والا۔ غیر معروف شاعر ثمر کبیر کا ایک شعر ہے  ؎ اور تھوڑا سا زہر گھلنے دو آدمی آدمی کو ترسے گا قید تنہائی میں آدمی؛ آدمی کو ترستا ہے۔نوید الہٰی کو اس کیفیت کا براہ راست تجربہ ہے۔ ایسی کیفیت میں بات کرنے کو کوئی بے زبان بھی مل جائے تو قیدی شکر کرتا ہے۔ ڈاکٹر نوید الہٰی خوش قسمت تھے جنھیں ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک مرحوم کی تفسیر انوار القرآن کی دو جلدیں میسر آ گئیں۔ یہ گویا نعمت غیر مترقبہ تھی۔ ڈاکٹر صاحب پڑھے لکھے دین دار گھرانے کے فرد ہیں۔ قرآن حکیم کا مطالعہ بھی انھوں نے یقیناً کر رکھا ہو گا لیکن آزمائش کے زمانے میں اللہ کی کتاب کا مطالعہ کیا اثر رکھتا ہے، اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب انوار القرآن کا جیسے جیسے مطالعہ کرتے گئے، ان کی کیفیت بدلتی گئی۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک نے جس سادہ اور آسان زبان میں یہ تفسیر لکھی ہے، نوید اس سے متاثر ہوئے اور انھوں نے سوچا کہ اس اسلوب میں قرآن حکیم کا پیغام ان لوگوں تک بھی پہنچنا چاہیے جو اردو نہیں پڑھ سکتے۔ بس، انھوں نے یہ سوچا اور انوار القرآن کا انگریزی ترجمہ شروع کر دیا۔ شروع میں تو یہ ترجمہ ہی تھا لیکن یہ اللہ کے کلام کی برکت تھی کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، قرآن میں غور و فکر بڑھتا گیا اور ترجمہ تفسیر یا یوں کہیے کہ ترجمانی یا ایسی تشریح میں بدلتا چلا گیا جس کا تعلق براہ راست ہماری زندگی سے ہے۔ ڈاکٹر نوید الٰہی نے قرآن حکیم کا پیغام زندگی سے کیسے جوڑا ہے ،اس کا اندازہ سورۃ التکاثر کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ سورت میں انسان کو عطا کیے گئے مال و دولت اورنعمتوں کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ روز حشر انسان سے اس کے بارے میں سوال ہو گا کہ اسے کیسے استعمال کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ان آیات پر غور کرتے ہوئے دیگر تفاسیر سے بھی استفادہ کیا ہے جو فطری ہے لیکن استدلال سے بھی کام لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سورہ کی روشنی میں تہذیب کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ فرد یا معاشرہ بھوکے کا خیال رکھے اور اس کی ضرورتیں پوری کرے۔ اسی طرح سورۃ الاحقاف میں شعب ابی طالب کے تذکرے میں مسائل اور آزمائشوں کا سامنا کرنے کے سلسلے میں راہ نمائی ملتی ہے۔ قرآن حکیم کے تعلق سے جو کام بھی ہو گا بابرکت ہوگا۔ اپنے خوب صورت نام کی طرح Glad Tidingsبھی برکت والی کتاب ہے جس کا براہ راست تعلق ہمارے سماجی حالات سے ہے۔ گزشتہ پچیس تیس برس میں ہمارے یہاں کچھ ایسی تہذیبی کایا کلپ ہوئی ہے کہ اردو پڑھنے اور سمجھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو گئی ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مطالعے میں ہمارے بچوں کی توجہ کا دورانیہ مختصر ہی نہیں مختصر تر ہو گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انھیں اپنی تہذیب اور عقیدے سے منسلک رکھنے کے لیے خصوصی توجہ دی جائے اور براہ راست اثر رکھنے والی مختصر تحریریں لکھی جائیں۔ Glad Tidings اس کڑے معیار پر پورا اترتی ہے۔ ڈاکٹر نوید الہٰی خوش نصیب ہیں جنھیں قرآن حکیم پر غور و فکر کا موقع میسر آیا اور انھوں نے اس نادر موقع کو صدقہ جاریہ بنا دیا۔ اس لیے Glad Tidings محض ایک کتاب نہیں بلکہ یہ اس فاصلے کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے جو ہماری نئی نسل اور قرآن حکیم کے درمیان بڑھتا جا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل