Sunday, May 03, 2026
 

لبنان: موزائیک سے کھنڈر تک

 



تاریخ کے اوراق میں کچھ نام ریاستوں کے عروج کی علامت ہوتے ہیں اور کچھ ان کے زوال کا نوحہ بن جاتے ہیں۔ بیروت کی سڑکوں پر بکھرا ہوا ملبہ اور ساتھ کھڑے کھنڈرات صرف کنکریٹ کا ڈھیر نہیں ہے، یہ بیسویں صدی کے اس سماجی معاہدے کا جنازہ ہے جسے ہم ’’ریاست‘‘ کہتے ہیں۔ کبھی بیروت کی شامیں صرف شامیں نہیں ہوتی تھیں،وہ ایک عہد کی خوشبو ہوتی تھیں۔ یونیورسٹیوں کے برآمدوں میں علم بولتا تھا، بازاروں میں تہذیب چلتی تھی، اور عبادت گاہوں کے مینار ایک دوسرے سے الجھتے نہیں، ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے۔ یہ وہ لبنان تھا جہاں فرقہ شناخت تھا، تقدیر نہیں اور جہاں ریاست ایک کاغذی معاہدہ نہیں، ایک زندہ احساس تھی۔ یہ ایک موزائیک تھا،رنگ جدا، مگر تصویر ایک۔ پھر ایک وقت آیا جب ریاست نے اپنا نظریہ کھو دیااورتصویر بکھر گئی۔لبنان کا موجودہ بحران محض ایک سرحدی تصادم یا معاشی گراوٹ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ’’مغربی لبرل ازم‘‘ اور ’’سرمایہ دارانہ قومی ریاست‘‘کے ماڈل کا مکمل انہدام ہے جسے مشرقِ وسطی کے قلب میں ایک مصنوعی تجربہ گاہ کے طور پر لگایا گیا تھا۔ بیروت کے کھنڈرات دراصل اس ’’ویسٹ فیلین ‘‘نظام کی ناکامی کا اشتہار ہیں جو انسان کی حاکمیت، سودی معیشت اور آزادی کے ستونوں پر کھڑا تھا، اگر لبنان کو بچنا ہے، تو اسے عارضی جنگ بندیوں یا واشنگٹن کے کتب خانوں سے برآمد شدہ نسخوں کے بجائے اپنی ’’تہذیبی جڑوں‘‘ کی طرف مراجعت کرنی ہوگی۔یہ وقت پیوند کاری کا نہیں، بل کہ ایک مکمل ’’تہذیبی ہجرت‘‘کا ہے۔  ایسا ڈھانچہ جس میں شہری کو پہلے فرقے میں بانٹا گیا، پھر اس پر جمہوریت کی ملمع کاری کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست نمائندگی تو دیتی رہی، مگر وحدت پیدا نہ کر سکی۔ صدر ایک فرقے سے، وزیر اعظم دوسرے سے، اسپیکر تیسرے سے۔گویا ریاست نہیں، ایک حسابی سمجھوتہ چل رہا ہو۔ یہ ماڈل استحکام نہیں دیتا، جمود دیتا ہے؛ انصاف نہیں دیتا، توازن کا دھوکہ دیتا ہے۔یہ ہی وہ نکتہ ہے جہاں لبرل جمہوریت ایک اصول کے بجائے ایک تضاد بن جاتی ہے۔ جب معاشرہ خود شناختی خانوں میں بٹا ہو، تو ووٹ تقسیم کو ختم نہیں کرتا،اسے ادارہ جاتی شکل دے دیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لبنان میں بہت سے نظریات ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ایک ایسا نظریہ نہیں جو سب کو اپنے اندر سمو سکے اور جب ریاست نظریہ نہیں دیتی، تو نظریات ریاستیں بنا لیتے ہیں۔  یہ ہی وہ خلا ہے جہاں غیر ریاستی طاقتیں جنم لیتی ہیں۔ حزب اللہ اسی خلا کا مظہر ہے،ایک ایسا ڈھانچہ جو صرف مزاحمت نہیں، ایک متوازی نظم بھی ہے۔ جب ریاست تعلیم، صحت اور تحفظ دینے میں ناکام ہوتی ہے تو خلا پیدا ہوتا ہے، اور خلا کبھی خالی نہیں رہتا، مگر دو مراکز طاقت ایک ریاست کو کھوکھلا کر دیتے ہیں،وہ چلتی پھرتی تو نظر آتی ہے، مگر اس میں روح نہیں ہوتی۔ بندوق اور بیلٹ ایک ساتھ نہیں چلتے،تاریخ نے یہ سبق بار بار دیا ہے۔  لبنان کا زوال صرف اندرونی نہیں، یہ عالمی نظام کے اس جال میں بھی پھنسا ہوا ہے جہاں معیشت آزادی نہیں دیتی، انحصار پیدا کرتی ہے۔ قرض کبھی غیر جانب دار نہیں ہوتا،وہ اپنے ساتھ شرائط کی زنجیر لاتا ہے۔ لبنان کی معیشت، جو کبھی خطے کی پہچان تھی، رفتہ رفتہ ایک ایسے مالیاتی ڈھانچے میں قید ہو گئی جہاں حقیقی پیداوار کے بجائے قرض اور سود نے بنیاد سنبھال لی اور جب یہ بنیاد ہلی، تو پورا ستون گر گیا۔ مگر یہاں ایک مشکل سوال اٹھتا ہے جسے نظرانداز کرنا آسان اور سامنا کرنا ضروری ہے، کیا مکمل انکار حل ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ خلا ہمیشہ طاقت سے پر ہوتا ہے، حکمت سے نہیں۔ راستہ دروازے بند کرنا نہیں، اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سیکھنا ہے،بتدریج، صبر کے ساتھ۔ مقامی صنعت کی بحالی، علاقائی تجارت کی توسیع، مالی نظم کی شفافیت،یہی وہ ستون ہیں جن پر خودمختاری کھڑی ہوتی ہے۔ مزاحمت کے تصور کو بھی نئی نظر سے دیکھنا ہوگا۔ مزاحمت صرف بندوق کا نام نہیں،یہ ایک فکری اور اخلاقی استقلال ہے۔ جب تک کوئی معاشرہ اپنی اقدار پر اعتماد نہ کرے، اس کی مزاحمت ردِ عمل رہتی ہے، عمل نہیں بنتی اور ایسا امن جو وقتی سکون دے مگر طویل مدتی کمزوری پیدا کرے،امن نہیں، مہلت ہوتا ہے۔ اب سماج کی طرف آئیں،کیونکہ ریاست سماج کے بغیر محض ڈھانچہ ہے۔ لبنان کی اصل طاقت اس کے خاندان، اس کی کمیونٹی اور اس کے باہمی رشتے تھے۔ مغربی انفرادیت نے فرد کو آزادی دی، مگر اسے تنہا بھی کر دیا،اور تنہا فرد بیرونی طاقتوں کا آسان ہدف ہوتا ہے۔ حقیقی تبدیلی کا آغاز ریاست سے نہیں، فرد سے ہوتا ہے،مگر یہ فرد تنہا نہیں، جڑا ہوا فرد ہے، اپنے خاندان سے، اپنی روایت سے، اپنی ذمے داری سے۔ لبنان کے لیے راستہ نہ مکمل انکار میں ہے، نہ اندھی تقلید میں،بلکہ ایک ایسے تخلیقی توازن میں ہے جہاں مقامی تہذیب، سیاسی حقیقت اور عالمی نظام کی کہنہ و ماہیت کو سمجھتے ہوئے خاص اپنے لیے راستے بناتی جائے۔ معیشت غیر سودی ہو، خودمختار ہو مگر بند نہ ہو، سیاست نمایندہ ہو، جمہوریت کا دھوکا نہ ہو تقسیم کرنیوالی یہ ہو، سماج متنوع ہو مگر منتشر نہ ہو۔ یہ راستہ سست ہے، پیچیدہ ہے، مگر پائیدار یہ ہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ لبنان کیا کھو چکا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا وہ باہری نسخوں سے کبھی آزاد ہو سکے گا؟اپنے اندر وہی توازن، وہی تہذیب، اور وہی حوصلہ دوبارہ پیدا کر سکتا ہے؟ اگر جواب ہاں ہے، تو لبنان دوبارہ اٹھے گا اور اگر جواب نہیں،تو یہ صرف ایک ملک کا زوال نہیں ہوگا، بلکہ اس خیال کا جنازہ ہوگا کہ ریاستیں صرف نقشوں سے بنتی ہیں۔ لبنان کے لیے نجات کا راستہ کسی جنیوا کانفرنس یا اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں نہیں چھپا۔ نجات کا راستہ اس ’’تہذیبی بغاوت‘‘ میں ہے جو مغربی لبرل ڈیموکریسی، سرمایہ دارانہ استعمار اور سودی نظام کو مکمل طور پر مسترد کر دے۔لبنان کی مٹی اجنبی بیجوں کو قبول نہیں کرے گی، اس کی ہریالی صرف اپنی تاریخی جڑوں سے پھوٹنے والے شعور سے وابستہ ہے۔ریاست کو بچانے کے لیے پہلے ’’فرد‘‘ کوبچانا اور بدلنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسی قیادت اور ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جو ’’جدیدیت‘‘کے فریب کو سمجھ سکے اور اپنی ’’خالص تہذیبی بنیادوں‘‘ پر ایک ایسا سیاسی و معاشی ڈھانچہ تعمیر کرے جو اللہ کی حاکمیت کا امین ہواور مقامی خمیر سے اُٹھا ہو۔ لبنان کی راکھ سے وہی تمدن دوبارہ جی اٹھے گا جو حق اور باطل کے معرکے میں مصلحت پسندی کے بجائے ’’بندگی‘‘ اور ’’جدوجہد‘‘ کو اپنا شعار بنائے گا۔ یاد رکھیے، جو ریاستیں دوسروں کے تمدن کا لبادہ اوڑھ کر جینا چاہتی ہیں، وہ آخر کار اپنے جغرافیے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ لبنان کی بقا اس کی اپنی ’’تہذیبی خودی‘‘ کی بازیافت میں ہے، نہ کہ درآمد یا مسلط کیے گئے استعماری حل میں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل