Wednesday, May 06, 2026
 

بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت 7 مئی تک ملتوی

 



سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے نے بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت جمعرات 7 مئی تک ملتوی کردی۔ جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ صاحب مختیار کار نے کس حیثیت میں دفتر سیل کیا ہے بتایا جائے؟ مختیار کار نے کوئی وجہ نہیں بتائی بس جاکر ٹھپہ لگا دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ مختیار کار نے اکیلے کام نہیں کیا ہے، کے ایم سی بھی ان کے ساتھ تھی۔ نقصان تو حکومت کا ہورہا ہے۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس میں کہا کہ کنٹریکٹر کے دفتر کو سیل کرکے ان کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی دفتر خود بھی تو سیل کرسکتا تھا نا؟ مالک مکان کو پتہ نہیں ہے اور کوئی اور جاکر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔ اگر وہاں پر کنٹریکٹر کا قبضہ تھا، تو سول کیس ہوسکتا تھا دیگر فورمز موجود ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ درخواستگزار کی جانب سے سیلنگ آرڈر کو چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے صرف ڈی سیل کرنے کی استدعا کی ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس میں کہا کہ ہم بھی سیکھنا چاہتے ہیں کہ کس اختیار کے تحت مختیار کار نے دفتر سیل کیا ہے۔ کمشنر صاحب کو کل بلالیں ان سے پوچھتے ہیں شائد ان کو پتہ ہو۔ معاملہ کے ایم سی اور کنٹریکٹر کا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ کے ایم سی کمشنر کے پاس گیا تھا کمشنر نے خود مختار کو کہا۔ کے ایم سی کو اس کیس فریق ہی نہیں بنایا گیا ہے۔ درخواست قابل سماعت نہیں ہے عدالت کے دائر اختیار میں نہیں آتی ہے۔ پہلے انہیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ دفتر سیل ہوا ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ تصاویر لگی ہوئی ہیں ڈی سیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ٹرانس کراچی کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواست میں ترمیم ضروری ہے کنٹریکٹ کے معاملات الگ ہیں۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے موقف دیا کئ ہم شاید آپ کو سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ ٹرانس کراچی کیا ہے وہ بتائیں۔ دراکواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ٹرانس کراچی بی آر ٹی پروجیکٹس کے لیے بنائی گئی ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ ڈیزائن آپ نے مہیا نہیں کیئے گئے۔ ٹرانس کراچی کے وکیل نے موقف دیا کہ کنٹریکٹ سے متعلق معاملہ یہاں زیر سماعت نہیں ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ اتنا پیسہ خرچ ہونے کے بعد آپ بار بار ڈیزائن تبدیل کیئے جارہے ہیں؟ ٹرانس کراچی کے وکیل نے موقف دیا کہ اسٹیشنز نا بھی بنیں تو بی آر ٹی چل سکتی ہے۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیئے کہ 6 سال ہوگئے ہیں ابھی تک سڑک نہیں بنی ہے۔ ٹرانس کراچی کے وکیل نے موقف دیا کہ سڑکیں بننی تھی جو نہیں بنائی گئی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ ٹرانس کراچی پی آئی ڈی سی ایل اور ایس آئی ڈی سی ایل کی طرح بنائی گئی ہے۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے ریمارکس دیئے کہ کنٹریکٹ ختم کرنے کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔ ٹرانس کراچی کے وکیل نے نوقف دیا کہ جی کنٹریکٹ ختم کرنے کا نوٹس دیدیا گیا ہے۔ بی آر ٹی ریڈ لائن کے ساتھ سروس روڈ بھی ہے سیوریج کی لائنیں وغیرہ بھی ہی۔ جسٹس نثار احمد بھمبھرو نے استفسار کیا کہ کنٹریکٹ میں اتنی تاخیر کیوں ہورہی ہے۔ وکیل ٹرانس کراچی نے موقف دیا کہ اگر ہماری طرف سے نا اہلی ہورہی تھی کنٹریکٹر کنٹریکٹ ختم کرنے کا نوٹس دے سکتے تھے۔ اگر مسئلہ ڈی سیلنگ کا ہے تو ہم اس حد تک فریق نہیں ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ 2022 میں پروجیکٹ شروع ہوا تھا دو سال کام شروع نہیں کیا صرف پیسے مانگتے رہے۔ 2024 میں ایسا سمجھیں دوبارہ کنٹریکٹ کیا گیا تھا۔ وہاں اگر کھڈا میں کوئی گر جاتا تھا اسکی ذمہ داری حکومت پر ڈال دی جاتی تھی حالانکہ اسکا زمہ دار کنٹریکٹر تھا۔ کنٹریکٹر کی وجہ سے ہی تاخیر ہورہی ہے، پروجیکٹ کی لاگت 16 ارب سے 31 ارب تک چلی گئی ہے۔ اب تک 11 ارب روپے تک کی ادائیگی کردی گئی ہے۔ تاخیر کی مد میں مزید 4 ارب روپے کنٹریکٹر کو ادا کردیئے گئے ہیں۔ منصوبے کی اصل لاگت کے مساوی رقم 15 ارب روپے ادا کی جاچکی ہے۔ منصوبے کی لاگت تقریباً ڈبل ہوچکی ہے حکومت کو کچھ تو کرنا ہوگا نا۔ حکومت نے ان کو کئی موقع دئیے ٹائم بڑھایا گیا تب بھی پروجیکٹ مکمل نہیں ہوا ہے۔ سڑکوں کی بحالی کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام ایف ڈبلیو او کو دیا گیا ہے۔ ہم نے پورا کنٹریکٹ کسی کو نہیں دیا ہے۔ ایف ڈبلیو او سڑکوں کی مرمت کا کام ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی منظوری سے دیا ہے۔ لاٹ ٹو ری ٹینڈر بھی ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی منظوری سے دیا جائے گا۔ کے ایم سی کی جانب سے سامان رکھنے کی اجازت دی تھی صرف وہ بھی 3 سال کے لیئے۔ کے ایم سی کی جانب سے کنٹریکٹر کو جگہ خالی کرنے کا نوٹس 6 اپریل کو دیا گیا تھا۔ کنٹریکٹر کا دفتر کے ایم سی کے کہنے پرسیل گیا ہے وہ بھی اس میں شامل تھے۔ وکیل درخواستگزار بیرسٹر صلاح الدین نے جواب الجواب کے لیے مہلت مانگ لی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ درخواستگزار کے وکیل نے سیاسی الزامات لگائے اس بنیاد پر درخواست مسترد کی جائے۔ آئینی عدالت کو سومو ٹو اختیار حاصل نہیں ہے جو چیز مانگی نہیں گئی تو کیسے دی جاسکتی ہے۔ عدالت نے سماعت 7 مئی جمعرات تک ملتوی کردی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل