Loading
واشنگٹن: امریکا میں حکمران جماعت کے اراکین نے اسرائیل کے مبینہ جوہری پروگرام سے متعلق پالیسی میں شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
30 ڈیموکریٹ اراکینِ کانگریس نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری ’ابہام کی پالیسی‘ کو ختم کیا جائے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایک ایسے ملک کا ساتھ دے رہا ہے جس کے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو امریکی حکومت باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتی، جس سے عالمی سطح پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔
ڈیموکریٹ اراکین کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کے باعث مشرق وسطیٰ میں جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
اراکینِ کانگریس نے زور دیا کہ کانگریس کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں جوہری توازن، ممکنہ خطرات، جنگ کے پھیلاؤ اور ہنگامی حالات سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرے اور عوام کو بھی آگاہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں شفافیت نہ ہونے سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ پالیسی سازی میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا کہ حکومت اسرائیل کے جوہری پروگرام سے متعلق واضح مؤقف اختیار کرے تاکہ عالمی سطح پر اعتماد بحال ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، جس سے جوہری معاملات مزید حساس ہو گئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل