Loading
جماعت اسلامی نے سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینز اور سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنا کر تمام فنڈز پر قبضہ کرلیا، شہر میں ہر جانب کچرا ہی کچرا ہے لیکن سندھ حکومت کرپشن کا پہاڑا پڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے اداروں میں مقابلہ چل رہا ہے کہ کون زیادہ کرپشن کرتا ہے۔ 43 ارب سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا ٹوٹل بجٹ ہے جو فی یونین کونسل ایک دن کے لیے تین سے چار لاکھ بنتا ہے۔ لیاری ندی کے ساتھ ڈمپنگ پوائنٹ بنا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے تمام اداروں کو صوبائی تحویل میں لے لیا جس کے باعث صورتحال بدترین ہوگئی ہے، مرکزی شاہراہیں بھی کچرے کا ڈھیر بن گئی ہیں، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ عملی طور پر کوئی کام نہیں کررہا۔ شہر کو ایک بڑی سی کچرا کنڈی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو ختم کرکے کچرا اٹھانے کا اختیار ٹاؤن اور یونین کونسلز کو منتقل کیا جائے، جتنے بھی کنٹریکٹ کئے گئے ہیں انہیں دوبارہ بنایا جائے، نہ یہ لوگ صفائی کر پارہے ہیں نہ ہی شہر کی سڑکوں کی حالت بہتر ہوئی ہے، مرتضیٰ وہاب لیاری ٹاؤن کے سابق چیئرمین ناصر بلوچ کے الزامات کا جواب دیں۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ ہم جگہ جگہ ان ظالم حکمرانوں کے خلاف احتجاج کریں گے، کراچی کے حق کی یہ تحریک جاری رہے گی، گزشتہ اٹھارہ سالوں کا حساب پیپلز پارٹی کو دینا ہوگا، تمام چیزوں کے ذمہ دار مراد علی شاہ اور مرتضیٰ وہاب ہیں، آج یہ لوگ یونیورسٹی روڈ کے معاملے میں ایف ڈبلیو او کے پیچھے چھپ رہے ہیں، اس پروجیکٹ کے تکمیل کی حتمی تاریخ ابھی تک نہیں ملی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل