Loading
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو والدین کے حوالے کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی، آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی لڑکی عائشہ کو دارالامان لاہور بھیجنے کا حکم دے دیا۔
آئندہ سماعت تک عائشہ طارق دارالامان میں رہیں گی، عدالت نے ایک ہفتے میں عائشہ کی عمر کے تعین کے لیے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا۔
وکیل والدین نے کہا کہ بچی کی عمر 15 سال ہے اور خدشہ ہے کہ وہ شادی کر چکی ہے، عائشہ طارق نے کہا کہ اسلام قبول کیے دو سال گزر چکے ہیں، شادی کرنی ہوتی تو کر چکی ہوتی۔
عائشہ طارق نے کہا کہ میری عمر 20 سال ہے، والدین نے کم لکھوائی، پولیس حکام نے بتایا کہ بچی کے والد نے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا جس میں بھی عمر اٹھارہ سال لکھی گئی تھی۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بچی کی عمر کے تعین کے لیے ٹیسٹ کروا لیتے ہیں، وکیل والدین نے کہا کہ نادرا ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں، ٹیسٹ کرنا وقت کا ضیاع ہے۔
دوران سماعت عدالت نے نادرا کے کردار پر سوالات اٹھا دیے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو کس نے کہہ دیا کہ نادرا ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہو سکتی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی نادرا جائیں اور جو چاہیں کروا لیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ پاکستان ہے، یہاں جو چاہیں ہو سکتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہی چل رہا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ نادرا ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں، عمر کے معاملے پر نادرا ریکارڈ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، بہت سے والدین بچوں کی عمر کم لکھواتے ہیں۔
جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ اسلام قبول کرنا الگ بات ہے لیکن گھر کیوں چھوڑا، عائشہ طارق نے کہا کہ گھر والے دوبارہ مسیحی ہونے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ آپ کہاں رہتی ہیں اور کیا کام کر رہی ہیں، ایک پارلر میں ملازمت کرتی ہوں اور وہیں رہتی بھی ہوں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بچی کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہو تو والدین کے ساتھ بھیجا جاتا ہے، یہاں مسئلہ دھمکانے اور مذہب تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنے کا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ گھر جانے کا تو پتا نہیں، غلط بیانی پر چھ ماہ کے لیے جیل ضرور جاؤ گی، پارلر والے ملازمت تو دیتے ہیں، لڑکی کو وہاں ہی رہنے کون دیتا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پارلر کی وجہ شہرت کیسی ہے، کیا وہاں کوئی اور کام تو نہیں ہوتا، پولیس حکام نے کہا کہ سیلون سروسز سے ہٹ کر کچھ نہیں ہوتا، پارلر میں اور لڑکیاں بھی رہتی ہیں، عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 20 مئی تک ملتوی کر دی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل