Loading
فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ تحسین نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے صنعتی شعبے کی کمر توڑ دی ہے۔
شیخ تحسین نے کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور ویتنام سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں پیٹرولیم قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں قیمتوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین پیٹرولیم لیوی معاہدے نے صنعتوں کو تباہی سے دوچار کردیا ہے، حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 160روپے وصول کررہی ہے۔ پیٹرولیم لیوی میں تسلسل سے اضافہ کرکے مزید 29 روپے 92 پیسے بڑھا دیے گئے ہیں۔
فباٹی صدر کا مزید کہنا تھا کہ توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے پیداواری لاگت کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، حکومت تیل کی قیمتوں میں ٹیکس مسلسل بڑھا کر قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا چکی ہے۔ ڈیزل کی قیمت 93 فیصد بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 40 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔
شیخ تحسین نے کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں کا حالیہ اضافہ آئندہ دنوں میں مہنگائی کی شرح کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گا۔ فیکٹریاں بندش کی جانب گامزن ہورہی ہیں اور پاکستانی مصنوعات کی برآمدی سرگرمیاں تنزلی سے دوچار ہوگئی ہیں۔
شیخ تحسین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف سے مؤثر مذاکرات کیے جائیں تاکہ صنعتی شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل