Monday, May 11, 2026
 

دنیا کے دور افتادہ جزیرے پر ہنٹا وائرس، برطانوی پیراٹروپرز جہاز سے کودنے پر مجبور، ویڈیو وائرل

 



برطانیہ کی فوج نے دنیا کے انتہائی دور دراز جزیرے ٹرسٹن ڈی کونہا پر مشتبہ ہنٹا وائرس کیس کے بعد ایک غیرمعمولی امدادی کارروائی انجام دی ہے۔برطانوی پیراٹروپرز، طبی ماہرین اور طبی سامان کو فضائی راستے سے جزیرے پر اتارا گیا تاکہ متاثرہ مریض کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق چھ پیراٹروپرز اور دو فوجی طبی اہلکار 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے رائل ایئر فورس کے اے 400 ایم طیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے جزیرے پر چھلانگ لگائی۔ یہ طیارہ برطانیہ کے آکسفورڈ شائر میں واقع آر اے ایف برائز نارٹن ایئربیس سے روانہ ہوا تھا۔ پہلے یہ اسینشن آئی لینڈ پہنچا اور پھر وہاں سے تقریباً 3 ہزار کلومیٹر جنوب کی طرف پرواز کرتے ہوئے ٹرسٹن ڈی کونہا تک گیا۔ فوجی اہلکاروں کے ساتھ آکسیجن سلنڈر اور دیگر طبی سامان بھی جزیرے پر پہنچایا گیا۔ دورانِ پرواز اے 400 ایم طیارے کو ایک آر اے ایف وویجر طیارے کے ذریعے فضا میں ہی ایندھن فراہم کیا گیا۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب برطانوی فوج نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پیراشوٹ کے ذریعے طبی عملہ تعینات کیا ہے۔ یہ طبی سامان بنیادی طور پر ایک برطانوی شہری کے لیے بھیجا گیا تھا، جو ایک کروز شپ کا مسافر تھا۔ اس بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور یہ جہاز 13 سے 15 اپریل کے درمیان ٹرسٹن ڈی کونہا پہنچا تھا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مذکورہ شخص میں 28 اپریل کو ہنٹا وائرس جیسی علامات ظاہر ہوئیں، تاہم اس کی حالت مستحکم ہے اور اسے آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ جزیرے پر آکسیجن کی شدید کمی ہو چکی تھی، اس لیے مریض تک بروقت طبی امداد پہنچانے کے لیے فضائی امدادی کارروائی ہی واحد ممکنہ راستہ تھا۔ ٹرسٹن ڈی کونہا جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں تقریباً 200 افراد رہتے ہیں۔ اسے دنیا کا سب سے دور آباد جزیرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا قریب ترین آباد پڑوسی جزیرہ سینٹ ہیلینا ہے، جو وہاں سے تقریباً 2400 کلومیٹر دور ہے اور کشتی کے ذریعے وہاں پہنچنے میں تقریباً چھ دن لگتے ہیں۔ ???????? UK airborne medics rush to world’s most isolated island as hantavirus case turns critical On Tristan da Cunha, UK Pathfinders and airborne medical teams were reportedly deployed after a British national contracted hantavirus, triggering a life threatening emergency on the… pic.twitter.com/L7dLWolxdi — Defence Index (@Defence_Index) May 10, 2026 جزیرے پر کوئی ہوائی پٹی موجود نہیں، اس لیے عام طور پر یہاں صرف کشتی کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ طبی سہولیات بھی محدود ہیں اور جزیرے پر عام حالات میں صرف دو افراد پر مشتمل طبی ٹیم موجود رہتی ہے۔ اس سے قبل 7 مئی کو فوجی طیارے کے ذریعے پی ای آر ٹیسٹ بھی اسینشن آئی لینڈ پہنچائے گئے تھے، جہاں اسی کروز شپ سے تعلق رکھنے والے ایک اور برطانوی شہری کو اتارا گیا تھا۔ بعد میں اسے طبی امداد کے لیے ساؤتھ افریقہ منتقل کر دیا گیا۔ 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ایڈ کارٹ رائٹ نے کہا کہ آسمان سے پیراٹروپرز، طبی عملے اور طبی سامان کی آمد سے جزیرے کے لوگوں کو یقیناً حوصلہ ملا ہوگا۔ ???????? Britain parachuted a medical team onto one of the most remote islands on earth to treat someone for hantavirus A British national who disembarked from the MV Hondius returned home to Tristan da Cunha, a South Atlantic island with no airstrip, only accessible by boat, with a… https://t.co/XQFuMXNo03 pic.twitter.com/B6VUHso2tY — Mario Nawfal (@MarioNawfal) May 10, 2026  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل