Loading
راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں 2 افراد کے قتل کے معاملے میں مقتول زین شاہ کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنانے اور لاش کی بے حرمتی پر دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے کے کراس ورژن میں دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 ڈبلیو ڈبلیو شامل کرنے پر مشاورت جاری ہے، جبکہ دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کے حوالے سے وکلا اور پولیس لیگل ٹیم سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے، مقتول زین شاہ کو سراج محسود کے عزیز و اقارب نے پبلک لنچنگ کا نشانہ بنایا تھا۔
ذرائع کے مطابق مقتول پر وحشیانہ اور انسانیت سوز تشدد کیا گیا، جبکہ اس کے گلے پر پھندے اور ٹانگ پر جلانے کے نشانات بھی موجود تھے۔
کراس ورژن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سراج محسود سمیت 30 افراد نے زین شاہ کے گھر پر دھاوا بولا، جبکہ مقتول کی والدہ اور دیگر خواتین کے سامنے اس پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔
کراس ورژن کے مطابق زین شاہ کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے گھسیٹا گیا، جبکہ ملزمان اسے موٹر سائیکل پر اغوا کرکے لے گئے، مقتول زین کی لاش کی بے حرمتی بھی کی گئی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول سراج کو لگنے والی گولی زین شاہ نے نہیں چلائی تھی، جبکہ سراج پر فائرنگ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آ چکی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اسی ویڈیو میں ملزمان کو زین شاہ پر تشدد کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے زین شاہ کے گھر پر دھاوا بول کر بلوہ کیا، جبکہ سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے زین شاہ پر تشدد کی تمام ویڈیوز اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل