Monday, May 11, 2026
 

بندرگاہ پر سویا بین گیس، مواچھ گوٹھ میں زہریلی گیس کے اخراج سے اموات سے متعلق درخواست کی سماعت

 



کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں بندرگاہ پر سویا بین گیس کے اخراج اور مواچھ گوٹھ میں زہریلی گیس کے اخراج سے شہریوں کی اموات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فائل نہیں پڑھی، کیس کی تیاری کے لیے مہلت دی جائے۔ درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ یہ اہم نوعیت کا کیس ہے، فوری طور پر سنا جائے۔ جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم بھی جانتے ہیں معاملہ اہم ہے، اس پر نوٹس بھی لیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کوئی رپورٹ سامنے آئی یا نہیں اور تحقیقات کیا ہوئیں، جبکہ حکومت کی جانب سے دو مقدمات درج ہونے کا بھی حوالہ دیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی جائے، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ فوری تاریخ نہیں دی جا سکتی کیونکہ دیگر اہم کیسز بھی زیر سماعت ہیں۔ طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ بندرگاہ پر جہازوں سے سویا بین اتارنے کے دوران پراسرار گیس پھیلنے سے اموات ہوئیں، جبکہ اسپتال میں لائے گئے مریضوں میں سانس لینے میں دشواری کی علامات پائی گئیں۔ درخواست گزار کے مطابق 2 دنوں میں 22 متاثرہ افراد اسپتال لائے گئے جن میں سے 20 جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مواچھ گوٹھ کیماڑی میں فیکٹریوں سے زہریلی گیس کے اخراج کے باعث 18 بچوں کی اموات بھی ہوئیں۔ درخواست گزار کے مطابق اس کیس میں پلاسٹک بنانے والی 4 فیکٹریاں سیل کی گئیں اور مالک سمیت 5 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو سینے میں تکلیف، بخار اور گلے میں درد کی شکایات تھیں، اور دونوں معاملات کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل