Monday, May 11, 2026
 

دو سال بعد بھی انتخابات کی ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستیں تاحال زیر التوا ہونے کا انکشاف

 



فافن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دو سال گزرنے کے باوجودعام انتخابات کی ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستیں تاحال زیر التوا ہیں۔ انتخابات میں شفافیت سے متعلق قائم غیر منافع بخش ادارے فافن (فری اینڈ فیئر الیکشن) نے اپنی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ انتخابی ٹربیونلز نے 374 میں سے 246 انتخابی درخواستوں کا فیصلہ کیا تاہم 128 انتخابی عذداریاں تاحال زیر سماعت ہے، قومی اسمبلی نشستوں سے متعلق 124 میں سے 73 درخواستیں نمٹائی گئیں، صوبائی اسمبلیوں سے متعلق 250 میں سے 173 درخواستیں نمٹادی گئیں، انتخابی عذارداریوں پر فیصلے کی قانونی مدت اکتوبر 2024ء میں ختم ہوگئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں انتخابی درخواستوں کے فیصلوں کی رفتار مزید سست پڑگئی، 31 جولائی 2025ء کے بعد نو ماہ میں صرف 75 درخواستوں کا فیصلہ ہوا،  بلوچستان انتخابی درخواستوں کے فیصلوں میں سرفہرست رہا جہاں 94 فیصد درخواستیں نمٹادی گئیں۔ پنجاب میں 77، خیبر پختونخوا میں 60 جبکہ سندھ میں 29 فیصد درخواستوں کا فیصلہ ہوا،  اسلام آباد کی کسی نشست سے متعلق کوئی انتخابی درخواست تاحال نمٹائی نہ جاسکی، اسلام آباد میں انتخابی درخواستوں کی منتقلی سے متعلق مقدمات زیر التوا ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ شدہ 246 میں سے 123 ٹربیونل فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا، سپریم کورٹ نے اب تک 18 انتخابی اپیلوں کا فیصلہ کیا، سپریم کورٹ نے انتخابی اپیلوں میں 3 منظور کیں جبکہ 15 مسترد کیں، 105 انتخابی اپیلیں اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ فافن نے کہا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور پشاور ہائی کورٹ کے ٹربیونلز میں ریکارڈ تک عوامی رسائی بہتر قرار رہی، پنجاب کے ٹربیونلز میں درخواستوں کے متن اور فیصلوں تک رسائی فراہم نہیں کی جارہی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل