Loading
برطانیہ نے ایران سے وابستہ 12 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ افراد برطانیہ اور دیگر ممالک میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی دفترِ خارجہ نے بتایا کہ ان افراد اور اداروں پر عائد پابندیوں کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونِ ملک دشمنانہ سرگرمیوں اور برطانیہ کے خلاف مبینہ خطرات کو روکنا ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد پر حملوں کی منصوبہ بندی، خفیہ کارروائیاں اور ایسے گروہوں کی مالی معاونت شامل ہے جن پر عدم استحکام پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عائد کی گئی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور بعض افراد کے لیے کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
برطانیہ کے موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریوں، کمپنیوں اور اداروں کو پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا تنظیموں کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر یورپ میں حملوں اور خفیہ آپریشنز میں ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔
خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں یہودی عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور دیگر مقامات پر حملوں اور آتش زنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن کے پیچھے بعض ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
برطانوی حکومت اس قبل متعدد بار اعتراض اُٹھا چکی ہے کہ ایران سے وابستہ عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کرکے تخریب کاری، جاسوسی اور حملوں کی کوششیں کر رہے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمز نے بتایا کہ ان کی حکومت پہلے ہی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے خلاف سخت قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔
ان کے بقول ان قوانین کے تحت ایران سے منسلک پراکسی گروہوں کو غیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس قرار دے کر ان کے لیے کام کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل