Monday, May 11, 2026
 

عمران خان سے ملاقاتیں ہفتے بھر میں بحال نہ ہوئیں تو پارلیمان کو چلنے نہیں دینگے، اچکزئی

 



قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ کہا ہے کہ اگر ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پارلیمنٹ کو نہیں چلنے دیں گے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال میں انہوں نے کہا کہ آٹھ فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ دئیے مگر اس جیتنے والی جماعت کو اقلیت میں بدل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ  دنیا میں کبھی پارلیمان خرید کر بھی آتی ہے؟ مگر یہ پارلیمان خرید و فروخت سے وجود میں آئی ہے، اس ایوان کو اپوزیشن نے ناجائز سمجھتے ہوئے بھی چلانے کی کوشش کی مگر آپ کی حکومت اپوزیشن کو اس ایوان کو نہ چلنے دینے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ملاقاتوں پر پابندی رہی تو ہم سے گلہ نہ کرنا کہ پارلیمان نہیں چلنے دیا جارہا، چیئرمین پی ٹی آئی بیمار ہے تو اسے اسپتال منتقل کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایک ہفتے میں بانی چیئرمین کا علاج کرائیں اور ملاقات کرائیں اگر ایک ہفتے میں عمران خان کو علاج اور ملاقات کی اجازت نہ دی تو یہ ایوان پھر نہیں چلے گا۔  محمود خان اچکزئی نے کہا کہ حکومت کو لوگوں کو جیلوں میں رکھنے کا کیوں شوق ہے؟ اس پارلیمان اور عدالت کے پر آپ نے کاٹے ہیں، اس پارلیمان کو پالیسیوں کا مرکز بنائیں، بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، دونوں صوبوں میں ڈرونز استعمال کیے جارہے ہیں، آئیں نواز شریف سمیت سب مل کر بیٹھیں اور کم سے کم نکات پر اتفاق کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، اس ڈوبتی کشتی کو بچا لیں، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار نواز شریف، آصف علی زردای، مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری ہوں گے، حکومت نے ماحول درست نہ کیا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل