Loading
اسرائیلی فوج نے تفتیش مکمل ہونے پر جنوبی لبنان میں مسیحی مذہبی مجسمے کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں دو فوجیوں کو قید کی سزائیں سنا دیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان میں پیش آیا تھا جہاں ایک فوجی نے حضرت بی بی مریمؑ کے مجسمے کی توہین کی تھی اور دوسرے اہلکار نے ویڈیو بھی بنائی۔
بعد ازاں یہ توہین آمیز ویڈیو وائرل کردی گئی جس سے یہ معاملہ پوری دنیا کے سامنے آیا اور مسیحی برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔
عالمی دباؤ پر اسرائیلی حکومت نے بیحرمتی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا اور شواہد سامنے آنے پر ایک اسرائیلی فوجی کو 21 روز جبکہ واقعے کی ویڈیو بنانے والے اہلکار کو 14 روز کی فوجی جیل کی سزا سنائی گئی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس گھناؤںے عمل کو انتہائی سنگین جرم سمجھتی ہے اور مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے احترام پر پورا یقین رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ چند ہفتوں قبل جنوبی لبنان کے اسی علاقے کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کو توڑتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
بعد ازاں اسرائیلی فوج نے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ مجسمہ نصب کیا اور توہین کے مرتکب فوجی اہلکاروں کو فوجی جیل میں قید کی سزا سنائی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل