Loading
دنیا بھر میں ممتاز کمپیوٹر سائنس دان پیشین گوئی کر رہے ہیں کہ ’’حالات و وَاقعات سے باخبر‘‘ اے آئی ایجنٹ 2030ء تک انسانوں کی روزمرہ سرگرمیوں میں فوق البشر طاقتیں یا ’ڈیجیٹل سپر پاورز‘ شامل کر دیں گے۔
مصنوعی ذہانت اور جسم پر پہنے جانے والے آلات (جیسے اے آئی سے لیس چشمے) کا سنگم ممکنہ طور پر یہ نئی صلاحیتیں ایجاد کرے گا۔ ماہرینِ سائنس مستقبل میں اے آئی، آگمنٹیڈ رئیلٹی اور بات چیت کرنے والی کمپیوٹنگ (Computing Conversational ) کے حوالے سے اپنی پیشین گوئیاں تین مراحل میں بیان کرتے ہیں۔
٭٭
یہ 2026ء چل رہا ہے، وہ سال جب کمپیوٹری دنیا طاقتور ٹول یا آلے تیار کرنے سے ہٹ کر تیزی سے مشینوں میں ’’طاقتور اِنسانی صلاحیتیں‘‘ تیار کرنے کی دوڑ شروع کر دے گی۔ ایک ’آلے‘ اور ایک ’صلاحیت‘ کے درمیان فرق باریک مگر گہرا ہے۔ پہلے پتھریلے ہتھوڑوں سے لے کر جدید ترین کوانٹم کمپیوٹروں تک آلات بیرونی اشیا ہیں۔ یہ ہم انسانوں کو اَپنی نامیاتی حدود پر قابو پانے میں مدد دَیتے ہیں۔ انسانیت کے ایجاد کردہ اِن ذہین ٹولز نے انفرادی، گروہی اور عظیم تہذیبوں کے طور پر ہمارے کام کرنے کی صلاحیت کو بہت وسعت دی ۔
صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ ہم صلاحیتوں کا تجربہ ’ذاتی حیثیت‘ کے طور پر کرتے ہیں یعنی وہ ہماری اپنی ذات کا حصّہ ہوتی اور ہمارے شعور کو فوری دستیاب ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر زبان اور رِیاضی انسانی ٹیکنالوجیاں ہیں جنہیں ہم اپنے دماغوں میں ’انسٹال‘ کرتے اور پوری زندگی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اِس سے ہماری سوچنے، تخلیق کرنے اور تعاون کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقی سپر پاورز ہیں اور ہمارے وجود کا اِتنا موروثی حصّہ محسوس ہوتی ہیں کہ ہم شاذ و نادر ہی اِنھیں ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
آگمنٹیڈ مینٹیلٹی (اضافی ذہنی صلاحیت)
ہماری لسانی اور رِیاضیاتی سپر پاورز کے برعکس مافوق الفطرت صلاحیتوں کی اگلی انسانی لہر کے لیے کچھ ہارڈ وئیر کی ضرورت ہو گی۔ ہم پھر بھی اْنھیں اپنی ذاتی مہارتوں کے طور پر محسوس کرکے زندگی بھر اپنے ساتھ رکھیں گے۔ یہ صلاحیتیں اے آئی، آگمنٹیڈ رئیلٹی اور گفتگو کے قابل کمپیوٹنگ کے ملاپ سے اْبھریں گی۔ اْنھیں وہ ’سیاق و سباق سے باخبر‘ اے آئی ایجنٹ فعال کریں گے جو ہمارے جسم پر پہنے گئے آلات میں موجود ہوں گے۔ وہ وْہی دیکھیں گے جو ہم دیکھتے ہیں، وہی سنیں گے جو ہم سنتے ہیں اور وْہی تجربہ کریں گے جو ہم کرتے ہیں۔ وہ ہمیں دنیا کو سمجھنے اور اِس کی تشریح کرنے کی بہتر صلاحیتیں فراہم کریں گے۔ ماہرین اِس نئی تکنیکی سمت کو ’آگمنٹڈ مینٹیلٹی‘ کہتے ہیں۔ اْن کا اندازہ ہے، 2030ء تک ہم انسانوں کی اکثریت اپنی زندگی ایسے اے آئی ایجنٹوں کے ساتھ گزار رَہی ہو گی جو ہمارے روزمرہ کے تجربات میں ڈیجیٹل سپر پاورز شامل کر دیں گے۔
اْن سپر پاورز کی اکثریت اے آئی والے چشموں کے ذریعے فراہم کی جائے گی جن میں نصب کیمرے اور مائیکروفون اْن کی آنکھوں اور کانوں کا کام کریں گے۔ لیکن اْن لوگوں کے لیے جو چشمہ پسند نہیں کرتے، دیگر شکل کے آلات بھی ہوں گے۔ مثال کے طور پر ایسے ائیربڈز جن میں کیمرے نصب ہوں گے۔ یہ اْن لوگوں کے لیے مناسب متبادل ہے جن کے بال لمبے نہیں ہیں۔ ہم اْن ذہین آلات سے سرگوشی کریں گے اور وْہ جواب میں ہمیں مشورے، رہنمائی، مکانی یاددہانی ، سمت کی نشان دہی اور دِیگر لسانی و حسّی مواد فراہم کریں گے۔ وہ ایک ’’کُل جہاں سے باخبر ہم زاد‘ ‘ کی طرح دن بھر ہماری رہنمائی کریں گے۔
ہماری سپر پاورز کیسے کام کریں گی؟
اِس منظرنامے پر غور کیجیے: آپ شہر کے مرکز میں پیدل چل رہے ہیں کہ سڑک کے دوسری طرف واقع ایک سٹور دیکھتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں: یہ کس وقت کْھلتا ہے؟ چناںچہ آپ اپنا فون نکالتے، گوگل پر سٹور کا نام ٹائپ کرتے (یا بولتے) ہیں۔ آپ ویب سائٹ پر جلدی سے اوقات معلوم کر اور شاید سٹور کے بارے میں دیگر معلومات بھی دیکھ لیتے ہیں۔ کمپیوٹنگ کایہ بنیادی ’آلے کا استعمال‘ ماڈل ہی آج رائج ہے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں کس طرح ’ٹول‘ (آلے) سے ’صلاحیت‘ والے کمپیوٹنگ ماڈل کی طرف منتقل ہوں گی:
پہلا مرحلہ
آپ نے اے آئی سے لیس چشمہ پہنا ہوا ہے جو وہ دیکھ سکتا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، وہ سْن سکتا ہے جو آپ سْن رہے ہیں اور ایک ’ملٹی ماڈل لارج لینگویج ماڈل‘ (یا اے آئی ایجنٹ) کی مدد سے آپ کے گرد و پیش کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ اب جب آپ سڑک کے پار اْس سٹور کو دیکھیں گے، تو آپ صرف خود سرگوشی کریں گے ’’مَیں سوچ رہا ہوں کہ یہ کب کھلتا ہے؟‘‘ اور فوری طور پر آپ کے کانوں میں ایک آواز گونجے گی ’’صبح ساڑھے دس بجے۔‘‘
مَیں جانتا ہوں، فون پر سٹور کا نام تلاش کرنے کے مقابلے میں یہ بہ ظاہر معمولی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن یہ احساس کے اعتبار سے بہت گہری ہو گی۔ وجہ یہ کہ یہ ’سیاق و سباق سے باخبر‘ اے آئی ایجنٹ آپ کی ذاتی حقیقت میں آپ کا شریک ہو گا۔ یہ صرف جی پی ایس کی طرح آپ کی لوکیشن ٹریک نہیں کر رہا بلکہ یہ وہی دیکھ رہا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، وہی سْن رہا ہے جو آپ سْن رہے ہیں اور اْنہی چیزوں پر توجہ دے رہا ہے جن پر آپ توجہ دے رہے ہیں۔ یہ چیز اْسے ایک ’آلے‘ کے بجائے آپ کے اپنے ذاتی تجربات سے براہِ راست جڑی ایک ’اندرونی صلاحیت‘ بنا دے گی۔
مزیدبراں یہ صرف یک طرفہ بات چیت نہیں ہو گی کہ ہم اے آئی ایجنٹ سے مدد مانگیں۔ بلکہ اے آئی ایجنٹ اکثر خود سے پہل کرکے اور ہماری دنیا کے حالات کی بنیاد پر ہم سے سوالات پوچھے گا۔ اور جب ہمارے کانوں میں سرگوشی کرنے والا اے آئی ہم سے سوال کرے گا، تو ہم اکثر صرف اثبات میں سر ہلا کر یا انکار میں سر جھٹک کر جواب دیں گے۔ یہ عمل اتنا فطری اور ہموار ہو گا کہ شاید ہمیں شعوری طور پر احساس بھی نہ ہو کہ ہم نے جواب دیا ہے۔ یہ ایسے محسوس ہو گا جیسے ہم اپنے اندر ہی کوئی سوچ بچار کر رہے ہیں۔
دوسرا مرحلہ
2030ء تک ہمیں اپنی زندگی کے سفر میں ساتھ چلتے اے آئی ایجنٹوں سے سرگوشی کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ اِس کے بجائے آپ صرف اپنے ہونٹ ہلائیں گے (بغیر آواز نکالے الفاظ ادا کریں گے) اور اے آئی آپ کے لبوں کی جنبش پڑھ کر اور آپ کے پٹھوں سے پیدا ہونے والے سگنل محسوس کر کے جان لے گا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ ماہرین کو یقین ہے، بولنے کا یہ طریقہ عام ہو جائے گا کیوںکہ یہ زیادہ نجی ہے، شور والے مقامات پر زیادہ بہتر کام کرتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ذاتی اور دَاخلی محسوس ہوتا ہے۔
تیسرا مرحلہ
2035ء تک شاید آپ کو ہونٹ ہلانے کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ وجہ یہ کہ اے آئی ہمارے پٹھوں کے اشاروں کو اِتنی باریکی اور درستی سے سمجھنا سیکھ لے گا کہ ہمیں اپنا مقصد بیان کرنے کے لیے صرف ہونٹ ہلانے کے بارے میں ’سوچنا‘ پڑے گا۔ آپ دنیا کی کسی بھی چیز یا سرگرمی پر توجہ مرکوز کر کے کچھ سوچیں گے اور آپ کے اے آئی چشمے سے آتی مفید معلومات آپ کے دماغ میں ایک’’سب کچھ جاننے والے ہم زاد‘‘ کی طرح گونج اْٹھیں گی۔
یقیناً یہ نئی فوق البشر صلاحیتیں صرف گرد و پیش کی اشیا کے بارے میں جاننے تک محدود نہیں ہوں گی۔ چوںکہ یہ اے آئی آپ کی ذاتی حقیقت کا شریک ہے، اِس لیے یہ آپ کے مانگنے سے پہلے ہی آپ کی مطلوبہ معلومات کا اندازہ لگانا سیکھ لے گا۔ مثال کے طور پر جب کوئی ساتھی راہ داری سے آپ کی طرف آئے اور آپ اْس کا نام یاد نہ کر پا رہے ہوں، تو اے آئی آپ کی گھبراہٹ بھانپ لے گا اور ایک آواز گونجے گی: ’’کوانٹم کمپیوٹنگ سے جینی۔‘‘
یا جب آپ سٹور میں دلیے کا ڈبا اٹھائیں اور اْس میں موجود کاربوہائیڈریٹس کے بارے میں جاننا چاہیں، یا سوچیں کہ کیا یہ فلاں سٹور پر سستا ہے، تو جوابات خود بہ خود آپ کے کانوں میں گونجیں گے یا بصری طور پر سامنے آ جائیں گے۔ یہاں تک کہ یہ اے آئی ایجنٹ آپ کو دوسرے لوگوں کے چہروں کے تاثرات جانچنے، اْن کے موڈ، اہداف یا اِرادوں کی پیشین گوئی کرنے کی مافوق الفطرت صلاحیتیں بھی عطا کرے گا اور حقیقی وقت میں ہونے والی گفتگو کے دوران آپ کی رہنمائی کرے گا تاکہ آپ زیادہ پْراثر اور قائل کرنے والی شخصیت بن سکیں۔
جیسے جیسے اے آئی چشموں میں ’مکسڈ رییلٹی‘ کے فیچر شامل ہوں گے، جو بصری مواد کو ہمارے ماحول کا حصّہ بنا دیں گے، یہ آلات ہمیں لفظی طور پر سپر پاور قوتیں عطا کریں گے، جیسے کہ ’ایکس رے وژن‘ ۔ مثلاً ہارڈ ویئر سٹور والے کے پاس آپ کے گھر کے ڈیجیٹل ماڈلز تک رسائی ہو گی۔ وہ اْسے استعمال کرتے ہوئے آپ کو دیواروں کے پار دیکھنے اور فوری طور پر خراب پائپ، بوسیدہ وائرنگ یا ستون تلاش کرنے میں مدد دَے گا۔
شاید کچھ لوگ 2030ء تک اِس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنائے جانے کی پیشین گوئی پر شکوک و شبہات کا شکار ہوں لیکن ماہرین یہ دعوے سرسری طور پر نہیں کرتے۔ کئی سائنس داں تیس سال سے زائد عرصے سے اِن ٹیکنالوجیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو ہماری زندگی بہتر بناتی اور اِنسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں۔ وہ بلاجھجک کہتے ہیں کہ موبائل کمپیوٹنگ کی مارکیٹ بہت بڑے پیمانے پر اِسی سمت جانے والی ہے۔
گزشتہ دو برس کے دوران دنیا کی دو سب سے زیادہ بااثر اور اِختراعی کمپنیوں، میٹا اور گوگل نے انسان کو سپر پاورز دینے کے اپنے مقاصد کا انکشاف کیا ہے۔ میٹا نے اپنے ’رے بین‘ چشموں میں سیاق و سباق سے باخبر اے آئی شامل اور اَپنے ’اورین‘ مکسڈ رییلٹی پروٹو ٹائپ کی نمائش کر کے پہلا بڑا قدم اٹھایا جو متاثر کن بصری صلاحیتوں کا حامل ہے۔ میٹا اب اے آئی اور ایکس آر میں اپنی بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے موبائل کمپیوٹنگ مارکیٹ میں بڑا کھلاڑی بننے کے لیے تیار ہے۔ وہ ممکنہ طور پر ہمیں ایسی سپر پاورز فروخت کر کے ایسا کرے گی جنہیں اپنانے سے ہم خود کو روک نہیں پائیں گے۔
پیچھے نہ رہتے ہوئے گوگل نے حال ہی میں ’اینڈرائیڈ ایکس آر‘ کا اعلان کیا ہے جو ہماری دنیا میں بغیر کسی رکاوٹ کے معلوماتی مواد شامل کرنے کے لیے ایک نیا اے آئی آپریٹنگ سسٹم ہے۔ اْس نے مارکیٹ میں نئے چشمے اور ہیڈ سیٹس لانے کے لیے سام سنگ کے ساتھ شراکت داری کا بھی اعلان کیا ہے۔ موبائل آپریٹنگ سسٹمز میں 70 فی صد سے زیادہ مارکیٹ شیئر اور ’جیمنائی‘ کے ساتھ اے آئی میں اپنی مضبوط موجودگی کی بہ دولت گوگل صفِ اوّل کا وہ کھلاڑی ہے جو ہمیں آنے والے وقت میں ٹیکنالوجی سے لیس انسانی سپر پاورز عطا کرے گا۔
خطرات کا کیا ہو گا؟
1926ء کے مشہور سپائیڈر مین کامک کا حوالہ دیں، تو یہ قول ذہن میں اْبھرتا ہے: ’’عظیم طاقت کے ساتھ عظیم ذمے داری بھی آتی ہے۔‘‘ یہ دانا بات لفظی طور پر انسان کو ملنے والی نئی ڈیجٹل سپر پاورز کے بارے میں ہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ بنیادی ذمے داری اْن صارفین پر نہیں ہو گی جو یہ تکنیکی سپر طاقتیں حاصل کریں گے بلکہ اْن کمپنیوں پر جو اْنھیں فراہم کریں گی اور اْن ریگولیٹرز پہ بھی جو اْن کی نگرانی کریں گے۔
بہرحال اے آئی سے لیس اے آر چشمے پہن کر ہم میں سے ہر انسان خود کو ایک ایسی نئی حقیقت میں پا سکتا ہے جہاں تیسرے فریق کے کنٹرول میں موجود ٹیکنالوجیاں اپنی مرضی سے اْس شے کو بدل سکتی ہیں جو ہم دیکھتے اور سنتے ہیں، جبکہ اے آئی آوازیں ہمارے کانوں میں مخصوص مشوروں اور رہنمائی کے ساتھ سرگوشی کریں گی۔ اگرچہ ارادے مثبت ہو سکتے ہیں، لیکن اْس کے غلط استعمال کا امکان بھی اتنا ہی گہرا ہے۔
تباہ کن نتائج سے بچنے کے لیے صارفین اور مینوفیکچررز، دونوں کو ماہرین مشورہ دَیتے ہیں کہ تب وہ ’سبسکرپشن بزنس ماڈل‘ (ماہانہ فیس کے نظام) اپنا لیں۔ اگر ڈیجٹل سپر پاورز بیچنے کی یہ دوڑ اِس بنیاد پر ہو کہ کون سی کمپنی مناسب ماہانہ فیس کے عوض بہترین نئی صلاحیتیں فراہم کر سکتی ہے، تو ہم سب کو فائدہ ہو گا۔ اِس کے برعکس اگر کاروباری ماڈل ہماری آنکھوں اور کانوں تک مخصوص اثر و رْسوخ پہنچا کر اْن سپر پاورز سے پیسہ کمانے کا مقابلہ بن گیا، تو صارفین کی روزمرہ زندگی میں آسانی سے ہیرا پھیری کی جا سکے گی۔
کچھ لوگ اے آئی چشموں کے تصّور کو دخل اندازی یا ناگوار سمجھتے ہیں اور اِن مصنوعات کو اِستعمال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مَیں یہ جذبات سمجھتا ہوں، لیکن 2030ء تک یہ آلات ہمیں جو سپر پاورز دیں گے، وہ اِختیاری محسوس نہیں ہوں گی۔ آخرکار اْن تک رسائی نہ ہونا ہمیں سماجی اور ذہنی طور پر نقصان دہ صورتِ حال میں ڈال سکتا ہے۔ اب یہ صنعت اور ریگولیٹرز پر منحصر ہے کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں، ہم اِن نئی صلاحیتوں کو اِس طریقے سے متعارف کرائیں جو مداخلت پسند، ہیرا پھیری پر مبنی یا خطرناک نہ ہو۔ اِس کے لیے محتاط منصوبہ بندی اور نگرانی کی ضرورت ہے جو حکومت، نجی اداروں اور عوام کی شراکت سے جنم لے گی۔n
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل