Loading
عالمی شہرت یافتہ برطانوی پاپ اسٹار دعا لیپا نے ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کے خلاف مبینہ کاپی رائٹ خلاف ورزی پر بڑا قانونی قدم اٹھاتے ہوئے 15 ملین ڈالرز ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دعا لیپا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سام سنگ نے ان کی اجازت کے بغیر ان کی تصویر اپنی تشہیری مہم میں استعمال کی، جس سے نہ صرف ان کے امیج رائٹس متاثر ہوئے بلکہ ایسا تاثر بھی پیدا کیا گیا کہ وہ کمپنی کے ٹی وی برانڈ کی باضابطہ حمایت کر رہی ہیں۔
مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر 2024 کے ایک میوزک فیسٹیول میں ان کی پرفارمنس کے دوران لی گئی تھی، جسے بعد ازاں سام سنگ نے گزشتہ سال سے اپنے ٹی وی باکسز کی تشہیر کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ دعا لیپا کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس تصویر کے تمام حقوق ان کے پاس محفوظ ہیں اور کمپنی نے نہ تو اجازت لی، نہ ہی کوئی معاوضہ ادا کیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ گلوکارہ کی تصویر ایک بڑے تجارتی منصوبے میں ان کے علم اور رضامندی کے بغیر شامل کی گئی، جس پر ان کا کوئی اختیار یا رائے نہیں تھی۔
رپورٹس کے مطابق دعا لیپا نے پہلے سام سنگ سے رابطہ کر کے تصویر ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا، مگر کمپنی نے مبینہ طور پر اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
قانونی کارروائی میں کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، ٹریڈ مارک قوانین کی پامالی اور کیلیفورنیا کے رائٹ آف پبلسٹی قوانین کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل