Wednesday, May 13, 2026
 

ایران جنگ میں نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا تھا؛ اسرائیل کی تصدیق

 



اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا تھا اور اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان سے اہم ملاقات بھی کی تھی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن ’’ شیر کی دھاڑ‘‘ کے دوران نیتن یاہو غیراعلانیہ طور پر متحدہ عرب امارات گئے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اس خفیہ دورے کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران وزیراعظم نیتن یاہو اور اماراتی قیادت کے درمیان براہِ راست ملاقات ہوئی ہے۔ ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران کے خلاف جنگی تعاون اور دفاعی روابط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے حکام سے اس خبر پر فوری تبصرے کی درخواست کا تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اسی دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان عسکری اور انٹیلی جنس تعاون غیرمعمولی حد تک بڑھ گیا تھا۔ ان میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو ’’آئرن ڈوم‘‘ دفاعی نظام اور فوجی اہلکار بھی فراہم کیے تاکہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی مارچ اور اپریل میں متحدہ عرب امارات کے متعدد خفیہ دورے کیے جن میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں اور دفاعی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ اسی طرح بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کے درمیان ٹیلیفونک رابطے بھی ہوئے تھے، جن میں اسرائیل نے امارات کی سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔  یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ہونے والے ابراہام معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کیے تھے اور اس طرح وہ والا پہلا خلیجی ملک بن گیا تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی، سفارتی اور دفاعی تعاون کے معاہدے کیے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل