Loading
امریکی ایوانِ نمائندگان میں کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے مل کر 2 جماعتی ٹاسک فورس قائم کردی.
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کانگریس میں قائم کی گئی اس ٹاسک فورس کا مقصد کانگریس میں محفوظ ورکنگ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
اس اقدام کی قیادت ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ٹریسا لیگر فرنینڈس اور ریپبلکن رکن کیٹ کیمک کو سونپی گئی ہے۔ یہ مشترکہ کوشش ڈیموکریٹک اور ریپبلکن کی خواتین ارکان کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایوانِ نمائندگان کی قیادت نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسپیکر مئیک جانسن اور اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے مختلف نمائندوں کو اس ٹاسک فورس کی ذمہ داری سونپی ہے۔
ریپبلکن رکن کَیٹ کیمَک نے کہا کہ کوئی بھی خاتون چاہے وہ کسی بھی جماعت، عہدے یا حیثیت سے تعلق رکھتی ہو۔ اسے اپنے دفتر میں غیر محفوظ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔
ڈیموکریٹ رکن تیریسا لیگر فرننڈس نے اپنے بیان میں کہا کہ کانگریس میں ایسے واقعات افسوسناک ہیں جہاں خواتین عملے کو ہراسانی یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ کہ انھیں وہ عزت نہیں ملی جس کی وہ حقدار تھیں۔
یہ پیشرفت ایسے واقعات کے بعد سامنے آئی ہے جن سے امریکی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی جیسے جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات پر ڈیموکریٹ رکن کانگریس ایرک سوالویل کو اپریل میں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔
اسی دوران ریپبلکن رکن ٹونی گونزیلز نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا کیوں کہ انھوں نے ایک اسٹاف ممبر کے ساتھ غیر ازدواجی تعلق کا اعتراف کیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل