Thursday, May 14, 2026
 

معرکہ حق -پاکستان ایک مضبوط دفاعی قوت

 



ہر جنگ میں پہلے حملہ کرنے والا ایک جارح ہوتا ہے۔اسی کو اپنی جارحیت کا جواز پیش کرنا ہوتا ہے۔اسی کو اپنی فتح کے ثبوت دکھانے ہوتے ہیں۔جارح ملک اگر قوت و طاقت و رقبے اور وسائل میں بڑا ہو تو اصولاًامن کے لیے اس کی ذمے واری بھی بڑی ہوتی ہے۔جو قوم یا ملک جارحیت کا شکار ہونے پر اپنا دفاع کر رہا ہو،اسے تو کامیابی کے لیے صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ جارح کے اہداف پورے نہ ہونے دے اور جارحیت کے خاتمے پر اپنے ملک کو سرنڈر ہونے اورناقابلِ قبول شرائط سے بچا لے۔امریکا،اسرائیل نے حالیہ جنگ میں ایران پرحملہ کیا۔اکیلے اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں تھا،اس نے امریکا کو تیار کیا کہ ایران پر حملہ کر کے اسے سرنڈر کروایا جائے اور اس سے من مانی شرائط قبول کروائی جائیں۔ اس وقت تک یہ غلط فہمی عام تھی کہ امریکا ہی اکیلی غالب قوت ہے۔اسے حملے کا جواز پیش کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔یہ اس لیے ہے کہ پچھلی پانچ چھ دہائیوں سے امریکا سے کسی نے یہ سوال نہیں کیا۔امریکا نے جاپان،ویت نام ،عراق وغیرہ میں لاکھوں انسانوں کا بلا جواز قتلِ عام کیا لیکن کسی کو یہ سوال کرنے کی جرائت نہیں ہوئی۔دنیا میں کسی نے امریکا سے یہ سوال نہیں کیا کہ اسے دوسرے ممالک کے منتخب رہنماؤں کو قتل کرنے،اغوا کرنے اور رجیم چینج کا اختیار کس نے اور کب دیا۔دراصل امریکی زیادتیاں جس کی لاٹھی،اس کی بھینس کے قانون کے تحت ہیں۔ 7مئی2025کو ہمارے خطے کے سب سے بڑے ملک جس کے پاس بے پناہ وسائل اور خطے کی سب سے بڑی فوج ہے اس ملک انڈیا نے پہلگام کا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کر دیا۔پہلگام کا بہانہ اس لیے بنایا گیا کیونکہ انڈیا امریکا کی طرح واحد سپر پاور نہیں۔ ابھی تک وہ اتنی بڑی قوت نہیں کہ کوئی اس سے سوال ہی نہ کر سکے۔ مئی 2025 تک دنیا انڈیا کو بہت بڑی قوت اور چین کو روکنے کے لیے واحد ملک گردانتی تھی۔چونکہ انڈیا1964کے بعد ہر دفعہ چین سے مار کھاتا رہا ہے اس لیے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے چین کا رخ کرتے ہوئے تو ڈرتا ہے لیکن اپنے سے چھوٹے ملک پاکستان پر اس نے چڑھائی کر دی۔پہلگام کا واقعہ وقوع پذیر ہوتے ہی چند منٹوں کے اندرہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام دھر دیا گیا۔ اس سے انڈیا کے ارادے کھل کر سامنے آ گئے لیکن انڈیا نے پاکستان کے خلاف جس جنگ کا پلان بنایا تھا اس میں جنگ جیتنے کا بنیادی اصول بھی فراموش کر بیٹھا۔جنگ میں کامیابی کے لیے متحارب کو سرپرائز دینا بہت بڑے ایڈوانٹیج کو جنم دیتا ہے۔انڈین قیادت اور میڈیا جو حرکتیں کر رہا تھا،اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔انڈیا نے پہلی کوشش غالباً اٹھائیس یا 29 اپریل کو کی لیکن پاکستانی افواج خاص کر فضائیہ کو چوکس پاکر فوراً جہاز اتار لیے۔پاکستان اس دوران مسلسل آفر کرتا رہا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کروا لیں تاکہ پتہ چل جائے پہلگام واقعے کا اصل ذمے وار کون ہے۔ انڈیا نے ہر آفر کو ٹھکرا دیا۔صاف ظاہر ہے پاکستان پر حملہ کرنے کاسارا اسکرپٹ پہلے سے تیار تھا۔ انڈیا جنگ چھیڑ کر کم از کم کچھ اہداف ضرور حاصل کرنا چاہتا تھا۔سب سے پہلے انڈیا یہ منوانا چاہتا تھا کہ وہ خطے کی سب سے مضبوط پاور ہے اور پاکستان کی بالکل کوئی حیثیت نہیں۔دوسرا انڈیا امریکا، مغرب جاپان اور آسٹریلیا کو بتانا چاہتا تھا کہ چین کو روکنے کے لیے اسے جو رول دیا گیا ہے وہ اس قابل ہے کہ چین کی روز افزوں بڑھتی قوت اور بڑھتے اثر و رسوخ کے آگے بند باندھے۔ تیسرا جنگ کے موقعے سے فائدہ اُٹھا کر انڈیا آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کو ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔انڈین قیادت اس زعم میں تھی کہ اگر سارا آزاد کشمیر نہیں تو کچھ آزاد علاقے تو وہ ضرور ہتھیا لے گا۔ مئی 2025کی چار روزہ جنگ سے پہلے انڈین سیاسی و عسکری قیادت کے بیانات کو دیکھیں تو کم و بیش وہی بیانات ملیں گے جو انڈین قیادت 1998میں نیوکلر دھماکے کرنے کے بعد دے رہی تھی۔اس وقت بھی آزاد کشمیر کو ہڑپ کرنے کی دھمکی تھی اور مئی 2025میں بھی وہی جنگی راگ الاپا جا رہا تھا۔اس وقت پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے پر انڈیا خاموش ہو گیا۔  انڈیا نے فروری 2019میںبھی پاکستان کے اندر گھس کر مارنے کی رٹ لگائی تھی لیکن بالاکوٹ پر حملہ کر کے ایک کوا مار ا اور جواب میں اپنے جہاز وں و ہیلی کاپٹر کو ہاتھ سے گنوایا اورایک پائلٹ پاکستان کے ہاتھوں گرفتار کروا بیٹھا۔ مئی2025 کے انڈین حملے کے بعد ایک سال مکمل ہونے پر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ خطے کی بڑی قوت اور بڑے ملک انڈیا نے حملہ کرکے کیا حاصل کیا اور جس ملک یعنی پاکستان پر حملہ ہوا اس کی اب کیا حالت ہے۔انڈیا اپنی برتر قوت کے زعم میں سرپرائز بھی نہ دے سکا۔اس کی بہت بڑی فضائیہ اپنے جدید ترین روسی اور فرانسیسی رافیل طیاروں پر مشتمل ایک بڑی فارمیشن کو لیے فضا میں بلند ہوئی۔ایک اطلاع کے مطابق اس کے 72جنگی طیارے حملے کے لیے پاکستان کی جانب لپکے ۔انڈیا کے 72جنگی طیاروں کے مقابلے میں پاکستان کی جانب سے چالیس طیارے فضا میں بلند ہوئے۔اس معرکے میں رائٹر جیسے بین الاقوامی جریدوں کی رپورٹ کے مطابق کم از کم سات بھارتی طیارے نشانہ بنے اور تباہ ہوئے۔پاکستان کا ایک طیارہ بھی ضایع نہیں ہوا ۔ بقیہ چار روزہ جنگی کارروائی میں انڈین فضائیہ گراؤنڈ ہی رہی۔9مئی کو پھر انڈین افواج نے پاکستان کی کچھ ایئر بیسز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔اس بار انھیں اتنی کامیابی ہوئی کہ ایک ایئر بیس پر ہینگر کے اندر کھڑے ارلی وارننگ طیارے کو جزوی نقصان ہوا۔یہ طیارہ جلد ہی مکمل بحال کر لیا گیا۔ پاکستانی افواج نے کشمیر میں انڈین چوکیوں کو اتنا نقصاب پہنچایا کہ ان کے سپوتوں نے سفید جھنڈے لہرا دئے۔انڈین نیوی دور دور رہی اورکوئی قابلِ ذکر کاروائی کرنے سے قاصر رہی۔9مئی کے انڈین حملے کے جواب میں پاکستانی فضائیہ نے مشہور روسی ڈیفنس سسٹم ایس -400کی دو بیٹریوں کو ختم کیا،کئی ایئر بیسز کو نشانہ بنایا۔پاکستان کے فٹح میزائلوں نے کئی انڈین اسلحہ ڈپو نشانہ بنائے۔10مئی کی علی الصبح پاکستان کے جوابی وار نے انڈین جنگی منصوبہ بندی سرے سے ناکارہ بنا دی۔ 10مئی2025کو جب انڈیا کے منصوبے خاک میں مل گئے تو امریکا اپنے اسٹریٹیجک پارٹنر کی گلو خلاصی کے لیے بیچ بچاؤ کرانے آ گیا اور اسی بعد دوپہر صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔جنگ کے خاتمے پر انڈیا پہلگام کے حوالے سے جو بیانیہ بنانے کے کوشش کر رہا تھا وہ مکمل دم توڑ چکا تھا۔کسی ملک نے بھی انڈین بیانیئے کو اپناتے ہوئے پاکستان پر الزام نہ دھرا۔ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے پہلگام حملے کی بات تو کی لیکن پاکستان کا نام تک نہیں لیا۔دنیا کو یہ باور ہو گیا کہ اگر انڈیا اپنے سے کئی گنا چھوٹے اور وسائل میں بہت کم پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تو چین کے آگے کیسے بند باندھے گا اور ورلڈ اسٹیج پر کتنا موئثر کردار ادا کرے گا۔خطے کے اکثر ممالک نے انڈیا کو اپنا لیڈر ماننے سے گریز شروع کر دیا۔ انڈین افواج کو اپنی اوقات کا پتا چل گیا۔انڈین سیاسی قیادت کو چپ لگ گئی۔پاکستان پر حملہ ہوا اور اسے مٹانے کی ناپاک کوشش ہوئی لیکن پاکستان قائم و دائم ہے۔دنیا کو پتا چل گیا کہ پاکستان تر نوالہ نہیں بلکہ مضبوط دفاعی صلاحیت کا مالک ملک ہے۔ جلد ہی پاکستان کو کئی دفاعی نوعیت کے اسلحے کے آرڈر ملنے شروع ہو گئے۔اس چار روزہ جنگ کے فوراً بعد سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا جس پر انڈین میڈیا بوکھلا اٹھا کہ ہم اتنی بڑی قوت ہیں اور یہ ممالک دفاع کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اس چار روزہ جنگ کے بعد اب تک پاکستان کی عزت میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ پہلگام کا بہانہ بنا کر حملہ چونکہ انڈیا نے کیا تھا اس لیے یہ انڈیا پر تھا کہ وہ اپنی جارحیت کی کامیابی کا ثبوت پیش کرے لیکن اس کے اپنے بہترین جنگی طیارے تباہ ہو گئے،اسلحے ڈپو بھسم ہوئے اور دنیا میں بہترین دفاعی سسٹم سمجھے جانے والے ایس 400کی بیٹریاں نشانہ بنیں۔آزاد کشمیر جس کو ہتھیانے کا پراگندہ خواب لیے انڈیا نے جنگی اقدام اٹھایا تھا اس پاک سرزمین کا ایک انچ بھی انڈیا ہتھیا نہ سکا ،الٹا اپنی چوکیاں تباہ کروا بیٹھا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا اور اکثر پاکستانی بھی یہ سمجھتے تھے کہ کہ پاکستان نیوکلر اور میزائل ٹیکنالوجی میں تو بہت اچھی صلاحیت رکھتا ہے لیکن روایتی جنگ میں انڈیا بہت آگے ہے۔جنگ کے خاتمے پر انڈیا کا یہ بھرم بھی ایک غلط فہمی ثابت ہوا اور اس کی چار دانگِ عالم میں ہوا اُکھڑگئی۔امریکا میں مقیم ایک انڈین سیاسیات کے ماہر امیتابھ گھوش کے بقولIndia has lost its diplomatic initiative

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل