Loading
پاکستان میں جہاں ہمیں معاشی، سیاسی اور سماجی بحرانوں کا سامنا ہے، وہاں ایک ایسا خاموش قاتل ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ خاموش قاتل منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ وہ نوجوان جو کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل ہوتے ہیں، آج اس زہر کے اسیر بنتے جا رہے ہیں۔ گلی محلوں سے لے کر ملک کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں تک، منشیات کی رسائی اس قدر آسان ہو چکی ہے کہ اب یہ صرف کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ بن چکا ہے۔
آئس ہیروئن، چرس اور مختلف قسم کی نشہ آور ادویات فیشن کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ شروعات محض ایک شوق یا دوستوں کے دباؤ سے ہوتی ہے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ شوق ایک ایسی لت میں بدل جاتا ہے جس سے واپسی کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کا ایک باقاعدہ نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو معصوم ذہنوں کو اپنا شکار بناتا ہے۔
منشیات کے اسمگلر اور ڈیلرز سرعام اپنا کاروبار چلاتے ہیں، اور قانون اکثر ان کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ جب تک سپلائی لائن کو نہیں کاٹا جائے گا، تب تک اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ہولناک رجحان کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی نسلوں کو برباد ہوتے دیکھتے رہیں؟ ہرگز نہیں۔ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہمیں کثیر جہتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ سب سے پہلا اور اہم ترین قدم حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس اور پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہو کر کام کرنا ہوگا۔ منشیات فروشی میں ملوث بڑے مگرمچھوں کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزائیں دینی ہوں گی تاکہ کوئی دوسرا یہ گھناؤنا کاروبار کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو بھی الرٹ ہونا پڑے گا اور کیمپس کے اندر سخت نگرانی کا نظام نافذ کرنا ہوگا۔
دوسرا بڑا کردار میڈیا اور علمائے کرام کا ہے۔ میڈیا پر محض تفریحی پروگراموں کے بجائے منشیات کے نقصانات پر دستاویزی فلمیں اور ٹاک شوز ہونے چاہئیں۔ مساجد کے منبر سے اس حوالے سے شعور بیدار کیا جائے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی رہنمائی کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم کردار والدین کا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کے دوست بننا ہوگا، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی اور ان کی ذہنی صحت کو اولیت دینی ہوگی۔ اگر کسی بچے میں نشے کی علامات نظر آئیں، تو اسے مارنے پیٹنے یا چھپانے کے بجائے محبت سے گلے لگانا چاہیے اور فوری طور پر کسی اچھے بحالی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے۔
حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر میں مفت اور معیاری بحالی مراکز قائم کرے تاکہ غریب خاندان بھی اپنے بچوں کا علاج کروا سکیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور قوم بیدار ہوں۔ یہ صرف کسی ایک فرد یا خاندان کی جنگ نہیں، بلکہ پاکستان کے بقا کی جنگ ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے نوجوانوں کو اس زہر سے نہ بچایا، تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ چین نے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے۔ وہاں منشیات کی اسمگلنگ پر انتہائی سخت سزائیں، بشمول سزائے موت دی جاتی ہے۔ چین نے نہ صرف سپلائی لائن کو کاٹا بلکہ عوامی سطح پر آگاہی کی ایسی مہم چلائی کہ آج وہاں کا معاشرہ منشیات کو ایک سماجی برائی کے طور پر مسترد کر چکا ہے۔
سنگاپور کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں منشیات کے حوالے سے سخت ترین قوانین نافذ ہیں۔ وہاں معمولی مقدار میں بھی منشیات برآمد ہونے پر سخت قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ سنگاپور نے اپنے بارڈرز اور ایئرپورٹس پر نگرانی کا ایسا جدید نظام وضع کیا ہے کہ وہاں منشیات داخل کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔آئس لینڈ یورپی ملک آئس لینڈ نے ایک منفرد ماڈل اپنایا۔ انھوں نے دیکھا کہ نوجوان فارغ وقت میں نشے کی طرف راغب ہوتے ہیں، لہٰذا حکومت نے نوجوانوں کے لیے کھیلوں، موسیقی اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے مفت مراکز قائم کیے۔یوںچند ہی سالوں میں وہاں نوجوانوں میں نشے کا رجحان نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔
مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے کافی حد تک قابو پانے کی کوشش کی ہے اور یونیورسٹی اور کالجوں میں بھی اویرنس دی ہے خاص طور پر اینٹی نارکو ٹیکس فورس پنجاب کہ کمانڈر برگیڈیئر سکندر حیات نے جو کارنامے سر انجام دیے ہیں اور مافیا کی کمر توڑی ہے اس کا کوئی جواب نہیں ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے میں حال ہی میں ان کو تمغہ امتیاز بھی عطا کیا گیا مجھے امید ہے کہ اگر اسی رفتار سے کام ہوتا رہا تو ایک دن پاکستان منشیات سے پاک ہو جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل