Thursday, May 14, 2026
 

رسول کریم ﷺ نے قربانی کیسے کی۔۔۔ ؟

 



حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے عرض کیا: یارسول اﷲ ﷺ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! ان قربانیوں کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ انھوں نے عرض کیا: اور اون (جن جانوروں میں بال کے بہ جائے اون ہوتی ہے ان سے ثواب کس طرح ہوگا) آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے بھی ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔ (ابن ماجہ) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک ایسا دنبہ لانے کا حکم فرمایا جس کے سر پر سینگ ہوں، وہ سیاہی میں چلتا ہو۔ (یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں) اور سیاہی میں بیٹھتا ہو۔ (یعنی پیٹ اور منہ کالا ہو) اور سیاہی میں دیکھتا ہو۔ (یعنی آنکھوں کا حلقہ سیاہ ہو) پس ایسا ہی دنبہ آپ ﷺ کی قربانی کے لیے لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ چھری لاؤ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: پتھر پر چھری تیز کر لو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے چھری کو ہاتھ میں لیا، دنبے کو لٹایا اور پھر بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدِ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّد کہہ کر اسے ذبح کردیا۔ حضرت ابویعلی شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ’’جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو اور تم میں سے کوئی اپنی چھری بھی تیز کرلے تاکہ ذبیحہ کو ذبح کے وقت آرام پہنچے۔‘‘ (رواہ مسلم) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دو ابلق سینگوں والے دنبوں کی قربانی کی اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا۔ بسم اﷲ کہی اور تکبیر پڑھی اور میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دنبوں کے پہلو پر پاؤں رکھے دیکھا۔ (متفق علیہ) حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ’’جب عیدالاضحی کا پہلا عشرہ آئے تو تم میں سے جو لوگ قربانی کا ارادہ کریں وہ نہ تو اپنے بال منڈوائیں اور نہ ترشوائیں اور نہ ناخن کٹوائیں۔‘‘ ایک روایت میں ہے: ’’جو شخص ذی الحجہ کا چاند دیکھے اور قربانی کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ نہ بال منڈوائے نہ ترشوائے نہ ناخن کاٹے۔‘‘ (رواہ مسلم) حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دو دنبوں کو ذبح کیا جو سینگ دار ابلق اور خصی تھے۔  (رواہ ابوداؤد) حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ’’اولادِ آدم نے قربانی کے دن کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو خدا کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو، خون بہانے (قربانی) سے اور قیامت کے دن وہ ذبح کیا ہوا جانور آئے گا اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ۔‘‘ اور فرمایا: ’’قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے ہاں قبول ہوجاتا ہے، پس! تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔‘‘ حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ میں دس سال تک رہے اور ہر سال قربانی کرتے تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل